02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کیا پاکستان کو اکمل کو اوپر کھلانے کا رسک لینا چاھیئے؟

شعیب ملک بالنگ پریکٹس کرتے ہوئے۔ – اے پی فوٹو

محمد عرفان اور بھونیشور کمار کا شاندار ڈیبیو، محمد حفیظ کا سٹرائیک ریٹ کا بیریئر توڑنا اور یوراج سنگھ کی اپنے پرانے انداز میں واپسی— یہ سب اور اسکے علاوہ اور بھی بہت کچھ۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی سیریز نے شائقین کرکٹ کو بہت سے ڈرامائی مواقع فراہم کئے اور ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ان دونوں ٹیموں نے ابھی صرف اسّی اوورز کی کرکٹ کھیلی ہے۔

دو کانٹے دار مقابلوں کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز برابری کی بنیاد پر اختتام پذیر ہوگئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ون ڈے سیریز کے آغاز کیلئے چنائی پہنچنے تک تمام کھلاڑی خوب اچھی طرح وارم اپ ہوچکے ہونگے۔ تاہم پچاس اوورز کی کرکٹ شاید اتنی دھماکہ دار ثابت نا ہو اور اسکی ایک وجہ مسلسل بارش بھی ہے۔

میچ ہو پائیگا کہ نہیں یہ وقت بتائیگا بہرحال تیاریاں مکمل ہونی چاھیئیں۔

حالانکہ ٹی ٹوئنٹی کیلئے پاکستانی اسکواڈ خاصہ متوازن نظر آیا اسکے باوجود ون ڈے فارمیٹ کیلئے بہت سی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔

یہ وہ لسٹ ہے جس میں سے کپتان مصباح الحق کو گیارہ کھلاڑی چننے ہونگے: ناصر جمشید، محمد حفیظ، اظہرعلی، یونس خان، حارث سہیل، کامران اکمل، سعید اجمل، وہاب ریاض، جنید خان، عمر گل، عمران فرحت، عمر اکمل، انورعلی اور ذلفقاربابر۔

پکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے اعلان کیا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی شاید ون ڈیز کیلئے بھی روک لئے جائیں۔ شعیب ملک اور محمد عرفان اس فیصلہ کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے ہیں جسکے باعث پاکستان کے پاس ایک اور بالنگ آپشن اور ایک عمدہ آل راونڈر کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اس طویل فہرست میں مصباح الحق کو تین اوپنر، پانچ فاسٹ بالر، دو اسپنر، چار بلے باز، ایک آل راونڈر اور واحد وکٹ کیپر کامران اکمل میسر ہیں۔

اور یہ بڑے اکمل ہی ہیں جنکی بیٹنگ پوزیشن ٹیم میٹنگ میں ضرور زیر بحث آئیگی۔ انہوں نے ون ڈے میں اپنی پانچ میں سے چار سینچریاں اننگ کا آغاز کرتے ہوئے بنائی ہیں جبکہ نو میں سے چھ نصف سینچریاں بھی شروع کی تین پوزیشنز پہ بیٹنگ کرتے ہوئے ہی حاصل کی ہیں۔

یہاں پہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کامران اکمل کی مکمل صلاحیتوں کا فائدہ اٹھانے کیلئے انکو اوپر کھلانا ہی ٹیم کے حق میں ہے۔

چدم برم اسٹیڈیم کی پچ میں موجود باونس بھی اکمل کو یہ رول ادا کرنے میں آسانی فراہم کریگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مصباح یہ جوا کھیلنے پر آمادہ ہونگے؟

اوپننگ کے بجائے قدرے نیچے نمبروں پہ بیٹنگ کرنا محمد حفیظ کیلئے خاصہ فائدہ مند رہا ہے اور اب وہ ون ڈے میں بھی اس تبدیلی کیلئے تیار ہونگے۔ ٹی ٹوئنٹی کے پاکستانی کپتان نے دو میچوں میں ایکسو پینسٹھ اعشاریہ سات ایک کے  اسٹرائیک ریٹ سے ایکسو سولہ رنز سمیٹے تھے اور آئی سی سی درجہ بندیوں میں بھی ایک درجہ ترقی کے بعد انیسویں نمبر پر آگئے ہیں۔

ایک متوازن پاکستانی ٹیم کچھ ایسی نظر آتی ہے: ناصر جمشید، کامران اکمل، محمد حفیظ، یونس خان، مصباح الحق، شعیب ملک، دولفقار بابر، عمر گل، سعید اجمل، جنید خان اور محمد عرفان۔

مگر کہیں عرفان کو پچاس اوورز فارمیٹ کھلانا جلد بازی تو نہیں ہوگی؟ حالانکہ سات فٹے فاسٹ بالر کو کھلانے میں لالچ ضرور ہوگی مگر پاکستانی انتظامیہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاھیئے کہ طویل فارمیٹس میں انکو بتدریج متعارف کرایا جائے۔

مندرجہ بالا فہرست میں پانچ بلے باز، ایک آل راونڈر اور پانچ ریگولر بالرز ہیں اور ظاہر ہے حفیظ بالنگ ڈپارٹمنٹ میں بھی اپنا اہم کردار نبھائینگے۔

اظہرعلی، حارث سہیل، عمر اکمل، وہاب ریاض اور انورعلی بھی ایک اچھا بیک اپ مہیا کرتے نظر آرہے ہیں۔

چنائی میں جمعہ سے ملسل بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور ٹیم کامبینیشن بھی اسی مناسبت سے ہونا چاھئیے۔

روایتی حریفوں کیجانب سے وریندر سہواگ کا اضافہ پاکستان کیلئے سب زیادہ مہلک محسوس ہو رہا ہے۔

ایم اے چدم برم اسٹیڈیم، چنائی

یہاں کھیلا جانے والا واحد میچ پاکستان کے نام رہا تھا۔ یہ وہی میچ ہے جس میں الٹے ہاتھ سے بلے بازے کرنے والے سعید انور نے سر ویوین رچرڈز کا ایک او ڈی آئی میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ توڑا تھا۔

اس گراونڈ پر پانچ بہترین بالنگ پرفارمنسز فاسٹ بالرز کیجانب سے آئی ہیں اور اوپر سے برسات لہذا ٹیم سیلیکٹ کرتے وقت مصباح کو ان باتوں پر دھیان دینا ہوگا۔

دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی جم کہ پٹائی کرنے والے یوراج سنگھ نے یہاں سب سے زیادہ رنز بنا رکھے ہیں، دوسوپچپن صرف چھ میچوں میں۔

میچ سے قبل دئے گئے بیانات

ہندوستانی کپتان مہیندر سنگھ دھونی کا کہنا تھا کہ، "پاکستان ایک اچھی ٹیم ہے۔ انکے پاس پانچ اسپیشلسٹ بالرز ہیں اور میرے خیال سے یہ ایک مکمل بالنگ اٹیک ہے اسکے علاوہ انکے پاس ایسے بلے باز بھی ہیں جو ہر طرح کی صورتحال میں بیٹنگ کر سکتے ہیں۔ انکے ماہر اسپنرز بھی اچھا کھیل پیش کر رہے ہیں۔ لہذا اگر اسکا ہندوستانی ٹیم سے موازنہ کیا جائے تو یہ ایک متوازن ٹیم معلوم ہوتی ہے جس میں کافی باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ مجموعی طور پر جو ٹیم بھی لمبے دورانیے کیلئے اچھی بیٹنگ اور بالنگ کریگی وہ بہت فائدے میں رہیگی۔"

پاکستانی کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ، "ایک بات جس پر یہاں آنے سے قبل ہم نے سب سے زیادہ زور دیا تھا وہ تھا اچھی مثبت کرکٹ کھیلنا۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں یہ بات عیاں تھی کہ پہلی بار پاکستانی ٹیم بغیر کسی دباو کے کھیل رہی ہے۔ یہی ہمارا مقصد تھا کہ اس قسم کی کرکٹ کھیلیں۔ امید ہے ایسی ہی کرکٹ ہم ون ڈیز میں  بھی پیش کرینگے۔ چاھے بالنگ ہو یا بیٹنگ اسی طرح کا جارحانہ انداز اپناینگے اور  گیم انجوائے کرینگے۔"

تحریر تیمور سکندر، ترجمہ عمران کاظمی

اس حصے سے مزید

آسٹریلیا کو زمبابوے کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست

زمبابوے نے سہ ملکی سیریز میں آسٹریلیا کو تین وکٹوں سے اپ سیٹ شکست دے کر 31 سال میں پہلی کامیابی حاصل کرلی۔

تیسرا ون ڈے، سری لنکا نے پاکستان کو شکست دے دی

پاکستان کی جانب سے دیئے گئے 103 رنز کے ہدف کو سری لنکن ٹیم نے تین وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کرلیا۔

پاکستان اور سری لنکا کا فیصلہ کن معرکہ ہفتے کو

آف اسپنر سعید اجمل کی دستیابی مصباح الحق اور ٹیم مینجمنٹ کے حوصلہ کو بلند کرے گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔