18 ستمبر, 2014 | 22 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: اغوا شدہ 21 لیویز اہلکار قتل کر دیے گئے

فائل فوٹو

پشاور: شدت پسندوں کی جانب سے ایف آر پشاور سے اغواء کئے گئے تئیس میں سے اکیس لیویز اہلکاروں کو قتل کردیا گیا ہے۔ ایک اہلکار معجزانہ طور پر بچ کر گھر پہنچ گیا جبکہ ایک زخمی اہلکار کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

شدت پسندوں کی جانب سے جمعرات ستائیس دسمبر کو ایف آر پشاور میں تین سیکیوٹی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا گیا تھا جس میں دو سیکیورٹی اہلکارہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا جبکہ تئیس اہلکار اغواء کرلیے گئے تھے۔

اغواء کیے گئے تئیس میں سے اکیس لیویز اہلکاروں کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ ایک اہلکار معجزانہ طور پر بچ گیا اور فرار ہوکر گھر پہنچ گیا جبکہ ایک زخمی اہلکار کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

لیویزاہلکاروں کوجانے خواڑکرکٹ گراؤنڈ کےقریب قتل کیا گیا اور شدت پسند سیکیورٹی اہلکاروں کی وردی میں ملبوس تھے۔

اس حصے سے مزید

پشاور:دستی بم حملوں اور دھماکوں میں 11 افراد زخمی

پندھواوربڈھ بیرمیں ہونےوالےدستی بم حملوں میں 6بچےاور3خواتین زخمی ہوئے،ہشتنگری میں سلینڈر پھٹنےسےخاتون اور بچہ زخمی ہوئے

شمالی وزیرستان: فضائی کارروائی میں 23 شدت پسند ہلاک

جمعرات کو شمالی وزیرستان میں کی گئی فضائی کارروائی میں کم از کم 23 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

غیر قانونی سمز ایکٹیویٹ کرنے پر ایک شخص کو چھ سال قید کی سزا

ملزم نورالحق پر الزام تھا کہ وہ جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے غیر قانونی سمیں ایکٹیویٹ کرتے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔