19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پی پی - ق لیگ کا اتحاد مشکل میں

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے۔ اے پی پی فوٹو
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے۔ اے پی پی فوٹو

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی نے خصوصاً پنجاب میں اپنے اتحادی، پاکستان مسلم لیگ - قائد سے مشورہ کئے بغیر امیدواروں کی مختصر فہرست بنانی شروع کر دی ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ق) نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے تحفظات پر بات چیت نہیں ہوتی وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد جس میں ان کا اتحاد پنجاب میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا، دونوں پارٹیوں کے کچھ رہنماؤں نے تجویز دی ہے کہ یہ زیادہ بہتر رہے کہ عام انتخابات میں وہ اپنے طور پر کھڑے ہوں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلز پارٹی کا مختصر لسٹ بنانے کا عمل بھی اسی پلان کا حصہ ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے منظور وٹو اور مونس الہی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ وہ پنجاب میں قومی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں کی نشستوں کے لئے مشترکہ امیدوار پر اتفاق قائم کرسکیں۔ لیکن وہ کیمیٹیاں بھی ابھی تک صرف دو بار ملیں ہیں وہ بھی دو مہینے پہلے۔

حالانکہ اس حوالے سے منضور وٹو کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی ملاقات دسمبر میں ہوگی۔

مسلم لیگ-ف کے سربراہ پیر سبغت اللہ شاہ رشیدی اور نائب وزیر اعظم پرویز الہی کی ملاقات جسے دوسرے اتحاد کے ساتھ جڑے اپشنز پر غور کرنا سمجھا جارہا تھا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سینیٹر آغا نے کہا کہ ان کی پارٹی دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے میں رہنا پسند کرے گی۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان تعلقات ضمنی انتخابات کی بعد 'مثالی' نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں یہ بات دیکھی گئی کہ مسلم لیگ (ق) کے ووٹرز نے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے ووٹرز نے مسلم لیگ (ق) کے امیدواروں کو ووٹ دیے۔ اس لیے اس بات کو دیکھتے ہوئے آگے اکیلے چلنے کو ترجیح دی ہے۔

اس حصے سے مزید

طالبان کے مطالبات قبول کرنا 'حرام' نہیں

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔

وزیر اعظم کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعظم کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

ڈیرہ غازی خان: ٹریفک حادثے میں 14 ہلاکتیں

یہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوٹ چٹھہ میں اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔