01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رجسٹرار سپریم کورٹ کیخلاف پی اے سی کا نوٹس معطل

سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو
سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے منگل کو رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں طلب کرنے کا نوٹس معطل کردیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی اے سی کی طرف سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو سمن کرنے کیخلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کی انصاف تک رسائی کیلئے عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کیمیٹی کے پاس سپریم کورٹ کے اخراجات کی پڑتال کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے اخراجات اور ججوں کی تنخواہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا کی جاتی ہے جس کی جانچ پڑتال کا اختیار پی اے سی کے پاس نہیں ہے۔

اس حصے سے مزید

عمران، قادری کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

دونوں رہنماؤں کے خلاف ایس ایچ او محبوب احمد کی مدعیت میں سیکریٹریٹ پولیس تھانےمیں ایف آئی آر نمبر 182 31/8 درج کی گئی۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات ختم

وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان آج ہونے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔

شاہراہِ دستور پر صحافت ایک جرم ہے

میڈیا کے نمائندے جو کچھ منظر میں ہوتا ہے، وہی ناظرین کو دکھاتے ہیں، لیکن شاہراہِ دستور پر ان کا یہ فرض جرم بن گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔