30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رجسٹرار سپریم کورٹ کیخلاف پی اے سی کا نوٹس معطل

سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو
سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے منگل کو رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں طلب کرنے کا نوٹس معطل کردیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی اے سی کی طرف سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو سمن کرنے کیخلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کی انصاف تک رسائی کیلئے عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کیمیٹی کے پاس سپریم کورٹ کے اخراجات کی پڑتال کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے اخراجات اور ججوں کی تنخواہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا کی جاتی ہے جس کی جانچ پڑتال کا اختیار پی اے سی کے پاس نہیں ہے۔

اس حصے سے مزید

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

عمران خان کا کراچی،لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں مظاہروں کا اعلان

آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک اور جھوٹ بولنے پر قوم سے معافی مانگیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔