30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

عسکری نظریئے کو نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگا، وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر اے ایف پی
وزیرِ اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر اے ایف پی

اسلام آباد : وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے دہشت گردی سے جامع انداز میں نمٹنے کے لئے قومی سلامتی اداروں کو انٹیلی جنس معلومات کو مزید بہتر بنانے اور سول اور فوجی اداروں کے درمیان موثر رابطہ کار استوار کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں اس مقصد کے حصول کے لئے اپنے عسکری نظریہ کو ازسر نو مرتب کرنا ہوگا۔

 انہوں نے یہ بات جمعہ کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں 14 ویں قومی سلامتی ورکشاپ کی تقریب تقسیم اسناد کے دوران خطاب میں کہی۔

 وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات بنیادی طورپر غیرریاستی عناصر سے جنم لیتے ہیں جو اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کے لئے ریاستی علامات اور اداروں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

 انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادر سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنیو الے اداروں اور شہریوں کی عظیم قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ پارلیمان تمام اداروں کی ماں، عوامی امنگوں اور قومی مفادات کی امین ہے۔ انہوں نے کہاکہ محض فوجی کارروائی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی، سیاسی عزم اور عوامی حمایت اس کی کامیابی کے لئے لازم ہے۔

 انہوں نے کہاکہ پوری قوم اور پارلیمان ہمارے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جدوجہد میں اپنی مسلح افواج کی پشت پر کھڑے ہیں۔

 وزیرِ اعظم نے کہا کہ جمہوری حکومت بجا طور پر فخر کرسکتی ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی تائید فراہم کی۔انہوں نے سوات ماڈل کو سیاسی حکمت عملی اور جدید جنگی طریقہ کا امتزاج قراردیتے ہوئے کہاکہ قومی سلامتی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود کے اندر کام کرے۔

سیاسی استحکام قومی سلامتی سے ناگزیر طورپر منسلک ہے۔ انہوں نے کہاکہ مایوسی کی قوتیں بدامنی، بے یقینی اور عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ہمیں ایسی تمام قوتوں کے خلاف چوکس رہنا ہوگا جو طویل جدوجہد کے نتیجے میں بحال ہونے والے نظام کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے ہیں۔

 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ یہاں پر میڈیا کاکردار ادا آتا ہے، اسے قومی سلامتی کے وسیع تر خدوخال کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے۔

 انہوں نے کہاکہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا خطرہ تصورات اور دل ودماغ کی کشمکش بھی پیدا کرتا ہے، یہ نفسیاتی جنگ بھی ہے۔ ہمیں رجعت پسندانہ ذہنیت کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہاکہ آج قومی سلامتی بہت پیچیدہ اور کثیر الجہتی تصور بن چکا ہے اور دنیا تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جبکہ سکیورٹی اور خودمختاری کے روایتی تصورات بھی مسلسل تشکیل پارہے ہیں، انہوں نے کہاکہ بین الریاستی اور عالمی تعلقات میں اس جہت کے شامل ہونے کے اثرات سے نبردآزما ہونے کی ضرورت ہے۔

اسٹریٹجک فریم ورک کی ضرورت

انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی مقاصد کی موثر پیروی کے لئے سٹرٹیجک فریم ورک وضع کرنے کی ضرورت ہے جو قومی قوت کے تمام عناصر کا احاطہ کرتا ہو۔ انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کی سوچ کے کلیدی تقاضوں میں پائیدار اقتصادی وسماجی نمو، سیاسی خودمختاری واستحکام، قانون کی حکمرانی، غذائی تحفظ، مستحکم سیاسی ادارے اور تکنیکی ترقی شامل ہے۔

 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت سیاسی مفاہمت، ہم آہنگی اور مضبوط جمہوریت کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور یہ قومی سلامتی خطرات سے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

وزیرِ اعظم کے مطابق اقتصادی سفارت کاری خارجہ پالیسی کا لازمی جزو ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کا درجہ دیا جانا بین الاقوامی تجارتی تعلقات کے فروغ کے لئے مراعات کے حصول کی کوششوں کا اعتراف ہے۔

 وزیراعظم نے کہاکہ قومی سلامتی ورکشاپ کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے کہاکہ یہ فکری استعداد کار میں اضافے، ملک کو درپیش چیلنجوں اور مسائل کے بہتر ادراک اور کلیدی موضوعات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی راہ ہموار کرنے اور قومی ہم آہنگی اور قومی تعمیر کے لئے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔

اس حصے سے مزید

فیصلہ کن مرحلے کےقریب آچکے ہیں،طاہر القادری

سربراہ پاکستان عوامی تحریک نےکہا ہےکہ یہ آئینی اسمبلی نہیں ہے،اسے ٹوٹنا چاہیے,نام نہاد جمہوریت حالت نزع میں پہنچ چکی ہے

نواز شریف فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں، عمران خان

نواز شریف یہ کہہ کر فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ عمران خان کی حمایت کررہی ہے

ڈھائی سو زائد سیاسی جماعتیں اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے میں ناکام

پی ٹی آئی، پے اے ٹی اور مسلم لیگ ق نے بھی اثاثوں کی تفصیل جمع نہیں کرائی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ملکی مسائل سے غیر آہنگ حکومتی پالیسیاں

کیا یہ بات سمجھ آنے والی نہیں کہ میگا پروجیکٹس پر اٹھنے والے پیسے سے پہلے توانائی کے مسئلے کو حل کر لیا جائے؟

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

بلاگ

پکوانی کہانی- سندھی بریانی

ہر قسم کی بریانیوں میں سے یہ بریانی منفرد حیثیت رکھتی ہے جو سندھی طریقے سے بہت زیادہ مصالحوں کے ساتھ تیار ہوتی ہے۔

‫ڈرامہ ریویو: وہ۔۔۔ دوبارہ (خوف و دہشت کا احساس)

انسان چاہے بد روحوں سے جتنا بھی ڈرے مگر ان پر بنی فلموں یا ڈراموں کو دیکھنے کا شوق پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

تھری ڈی پرنٹنگ پر کچھ سوالات

کچھ کیسز ضرور ہوں گے جن میں تھری ڈی پرنٹنگ کو کاپی رائیٹ مواد کی غیر قانونی نقل تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پانی کی کمی اور پاکستان کا مستقبل

وزرات منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان کی پانی ذخیرہ کی صلاحیت صرف نو فیصد ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح چالیس فیصد ہے۔