24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

قاضی حسین احمد سپرد خاک

قاضی حسین احمد ۔ ڈان فائل تصویر
سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ۔ ڈان فائل تصویر

پشاور: جماعت ِ اسلامی کے سابق امیر اور بزرگ سیاستدان قاضی حسین احمد کی نمازِ جنازہ رنگ روڈ پشاور میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ 

قاضی حسین احمد کی نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے پڑھائی۔

نمازِ جنازہ میں مولانا فضل الرحمان، حمید گل، حافظ حسین احمد سمیت کئی اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ سینکڑوں سوگواروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے بعد میت کو قاضی حسین احمد کے آبائی گاؤں زیارت کاکا صاحب پہنچایا گیا جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

چوہتر سالہ قاضی حسین احمد ایک نامور مذہبی اسکالر اور اسلامی جمہوریت کے حامی تھے جو عارضہ قلب کی باعث کل رات کو اسلام آباد میں انتقال کرگئے تھے۔

امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف پالیسی پر وہ سخت تنقید کرتے رہے۔ افغانستان میں دخل اندازی کی وجہ سے وہ ہمیشہ امریکہ مخالف جذبات کا اظہار کرتے رہے۔

قاضی حسین احمد ایک عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور تین روز قبل ان کی حالت مزید بگڑ گئی تھی۔

قاضی حسین احمد  1978 میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے اور  1987 میں جماعت کے امیر منتخب ہوئے اور مزید دو مرتبہ امیر منتخب ہونے کے بعد 2009 میں اس کی صدارت سے سبکدوش ہوئے۔

گزشتہ نومبر کو وہ ایک خود کش حملے میں اس وقت محفوظ رہے جب مہمند ایجنسی میں ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-