23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

قاضی حسین احمد سپرد خاک

قاضی حسین احمد ۔ ڈان فائل تصویر
سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ۔ ڈان فائل تصویر

پشاور: جماعت ِ اسلامی کے سابق امیر اور بزرگ سیاستدان قاضی حسین احمد کی نمازِ جنازہ رنگ روڈ پشاور میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ 

قاضی حسین احمد کی نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے پڑھائی۔

نمازِ جنازہ میں مولانا فضل الرحمان، حمید گل، حافظ حسین احمد سمیت کئی اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ سینکڑوں سوگواروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے بعد میت کو قاضی حسین احمد کے آبائی گاؤں زیارت کاکا صاحب پہنچایا گیا جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

چوہتر سالہ قاضی حسین احمد ایک نامور مذہبی اسکالر اور اسلامی جمہوریت کے حامی تھے جو عارضہ قلب کی باعث کل رات کو اسلام آباد میں انتقال کرگئے تھے۔

امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف پالیسی پر وہ سخت تنقید کرتے رہے۔ افغانستان میں دخل اندازی کی وجہ سے وہ ہمیشہ امریکہ مخالف جذبات کا اظہار کرتے رہے۔

قاضی حسین احمد ایک عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور تین روز قبل ان کی حالت مزید بگڑ گئی تھی۔

قاضی حسین احمد  1978 میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے اور  1987 میں جماعت کے امیر منتخب ہوئے اور مزید دو مرتبہ امیر منتخب ہونے کے بعد 2009 میں اس کی صدارت سے سبکدوش ہوئے۔

گزشتہ نومبر کو وہ ایک خود کش حملے میں اس وقت محفوظ رہے جب مہمند ایجنسی میں ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: حکومت اوراحتجاجی جماعتوں میں مذاکرات جاری

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

مانسہرہ: ریپ کے ملزم کی جان سے مارنے کی دھمکیاں

ریپ کی شکار لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار عدالت سے باہر معاملہ طے نہ کرنے پر قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

اورکزئی ایجنسی: امن لشکر اور شدت پسندوں میں جھڑپ، پانچ ہلاک

ذرائع کے مطابق مارے جاے والے مبینہ شدت پسند درّۂ آدم خیل میں طالبان کے مومن گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔