17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

قاضی حسین احمد سپرد خاک

قاضی حسین احمد ۔ ڈان فائل تصویر
سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ۔ ڈان فائل تصویر

پشاور: جماعت ِ اسلامی کے سابق امیر اور بزرگ سیاستدان قاضی حسین احمد کی نمازِ جنازہ رنگ روڈ پشاور میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ 

قاضی حسین احمد کی نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے پڑھائی۔

نمازِ جنازہ میں مولانا فضل الرحمان، حمید گل، حافظ حسین احمد سمیت کئی اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ سینکڑوں سوگواروں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے بعد میت کو قاضی حسین احمد کے آبائی گاؤں زیارت کاکا صاحب پہنچایا گیا جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

چوہتر سالہ قاضی حسین احمد ایک نامور مذہبی اسکالر اور اسلامی جمہوریت کے حامی تھے جو عارضہ قلب کی باعث کل رات کو اسلام آباد میں انتقال کرگئے تھے۔

امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف پالیسی پر وہ سخت تنقید کرتے رہے۔ افغانستان میں دخل اندازی کی وجہ سے وہ ہمیشہ امریکہ مخالف جذبات کا اظہار کرتے رہے۔

قاضی حسین احمد ایک عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور تین روز قبل ان کی حالت مزید بگڑ گئی تھی۔

قاضی حسین احمد  1978 میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے اور  1987 میں جماعت کے امیر منتخب ہوئے اور مزید دو مرتبہ امیر منتخب ہونے کے بعد 2009 میں اس کی صدارت سے سبکدوش ہوئے۔

گزشتہ نومبر کو وہ ایک خود کش حملے میں اس وقت محفوظ رہے جب مہمند ایجنسی میں ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم سمیت متعدد وزراء کے خلاف مقدمہ درج

پولیس کے مطابق یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات اور پی پی سی کی دفعات 302، 324، 148، اور 149 کے تحت درج کیا گیا۔

پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار

تحریک انصاف حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لیے پرامید ہے۔

'بطور آرمی چیف ایمرجنسی کے حکم پر دستخط مشرف کی غلطی تھی'

وزیراعظم کے مشورے پر وہ بطور صدر ایمرجنسی نافذ کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے یہ حکم فوجی سربراہ کے طور پر دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔