03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے'

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری۔ اے ایف پی فائل فوٹو۔
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری۔ اے ایف پی فائل فوٹو۔

لاہور: تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ وہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

پیر کو لاہور میں تاجر کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکا مقصد عام انتخابات کو ملتوی کرنا نہیں ہے، انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہئیں۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چور، لٹیروں اور ڈاکوؤں کی جگہ پارلیمنٹ میں نہیں جیل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے محل اجاڑ کر محل بنالئے گئے ہیں۔

طاہرالقادری نے کہا کہ سرکاری مشینری لانگ مارچ روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ لانگ مارچ روکنے کے ناجائز احکامات کو نہ مانیں اور اس کا حصہ بن جائیں۔

اس موقع پر آل پاکستان تاجر اتحاد نے طاہرالقادری کی حمایت کا اعلان کیا۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

'حکومت اور مظاہرین کی ہٹ دھرمی سے جمہوریت کو نقصان ہوگا'

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ قوم کو سیاسی بحران پر تشویش ہے اور وہ مسئلے کا فوری حل چاہتی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔