02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کیا مصباح کے رخصت ہونے کا وقت آگیا؟

misbah-afp-290

حال ہی میں ہونے والی ہندوستان کے خلاف ایک روزہ سیریز جیت نے کے بعد پاکستان نے مصباح الحق کی کپتانی میں مجموعی طور پر نو میں سے سات سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

 دو ہزار دس کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد مصاح ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے جبکہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو ہٹائے جانے کے بعد انہیں ایک روزہ ٹیم کی قیادت کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں۔ یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے بکھری ہوئی اور تنازعات کی شکار پاکستانی ٹیم کو استحکام فراہم کیا۔

 مصباح کی کپتانی میں پاکستان نے 34 ایک روزہ میچ کھیلے جن میں سے 21 میں اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان تمام فتوحات میں مصباح نے میچ وننگ اننگ کھیلی؟ آخری مرتبہ پاکستان ٹیم کے کپتان نے سری لنکا میں نصف سنچری اسکور کی تھی۔

 ان کی وجہ سے پاکستانی ٹیم میں شاید استحکام آیا ہو تاہم انکی سست رفتار بلے بازی اور میچز کو کامیابی کے ساتھ نہ ختم کرنے کی وجہ سے ان کو ماہرین اور مداحوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

 انکی ہندوستان کے خلاف حالیہ انفرادی کارکردگی کے بعد کیا اب وقت آگیا ہے کہ ان کی جگہ کسی اور نوجوان کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرلیا جائے؟

 کیا اس تبدیلی کی وجہ سے پاکستانی مڈل آرڈر میں تجربے کی کمی تو نہیں ہوجائے گی؟

 دو ہزار پندرہ کے ورلڈ کپ تک مصباح 41 سال کے ہوجائیں گے۔ کیا انکی جگہ ایک نئے کپتان کی زیر قیادت ٹیم تشکیل دی جانی چاہیئے؟

 اگر نیا کپتان بنایا جاتا ہے تو کیا رواں سال کے آخر میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے انکے کپتانی کی صلاحیتوں کا امتحان لیا جاسکتا ہے؟

 کیا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو اس وننگ اور ورکنگ کامبینیشن کو تبدیل کرنا چاہیئے یا پھر جب تک ممکن ہو اسی کو چلانا چاہیئے؟

 ڈان اردو آپ کی قیمتی آراء کا منتظر رہے گا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

Rehan Hyder
07 جنوری, 2013 20:42
مصباح الحق جتنا کامیاب کپتان پاکستان کا ستر سال کی تاریخ میں کوی نہیں رہا۔ اس کی کامیابیوں کا تناسب عمران خان سے بھی زیادہ ہے ۔ پاکستان کی موجودہ کامیابی کے پیچھے بھی اس کی بہترین پلاننگ اور وقت کے مطابق درست فیصلوں کا لینا تھا۔ افسوس فیس بک میڈیا پہ کہ اگر ایک بار ٹیم ہار گیی تو اسے نہ جانے کس کس نام سے لکھا گیا، لیکن آج کامیابی پر کسی نے نام تک نہیں لیا۔ لیکن میں لکھتا ہوں کہ مصباح ، ہمیں تم پر ناز ہے ۔ 38 سال کی عمر میں بھی تم 25 سال کے لڑکے کی فٹنس سے زیادہ فٹ ہو، اور ٹھنڈے اور متوازن دماغ کی چالوں سے آدھا میچ تم شروع ہونے سے پہلے ہی جیت لیتے ہو، مصباح سلام ہے تم کو !
Mashgool Alam
08 جنوری, 2013 09:18
Get rid of Afridi first give Misbah one more year. Alam
Israr Muhammad
08 جنوری, 2013 18:34
مصباح کو دو تین سال تک کھیلنا چاہیے اگر پونثگ ثنڈولکر کیلس کھیل سکتے هیں تو لوگ مصباح کے پیچھے کیوں پڑے هیں وه اچھا کھلاڑی اور کپتان هے وه تیز اور اهستۂ کھیل سکتاہے ضرورت کے هی مطابق کھیلتا چاہیے لوگوں کی سمجھانے کی ضرورت نہیں
Israr Muhammad
08 جنوری, 2013 18:39
مصباح کو دو تین سال تک اوربطور کپتان کھیلنا چاہیے اگر پونثگ ثنڈولکر کیلس کھیل سکتے هیں تو لوگ مصباح کے پیچھے کیوں پڑے هیں وه اچھا کھلاڑی اور کپتان هے آج وه دوسروں سے فٹ هے وه تیز اور اهستۂ کھیل سکتاہے ضرورت کے هی مطابق کھیلتا چاہیے لوگوں کی سمجھانے کی ضرورت نہیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔