30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رحمان ملک کی لانگ مارچ کو تحفظ فراہم کرنیکی یقین دہانی

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پیر کو تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی پی۔۔۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ طالبان نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے خطرے کے باوجود حکومت 14 جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے طاہر القادری کے لانگ مارچ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گی جبکہ دوسری جانب سے تحریک طالبان نے حملے کے حوالے سے اطلاعات مسترد کر دی ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے گزشتہ ماہ حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئےکہا کہ اگر نظام نہیں بدلا تو وہ لاکھوں لوگوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارج کریں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے لاہور میں طاہر القادری سے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ مارچ روکنے کیلئے مذاکرات کرنے کیلیے نہیں بلکہ سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے آئے تھے۔

بعد میں طاہر القادری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان نے لانگ مارچ پر حملے کی دھمکی دی ہے لیکن ہم مارچ نہیں روکیں گے اور اسے مکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

اس موقع پر طاہر القادری نے کہا کہ وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور 14 جنوری کو اسلام آباد میں مارچ طے شدہ پلان کے مطابق ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ خدا نے چاہا تو 14 جنوری کو ہر حال میں لانگ مارچ ہو گا اور یہ مکمل طور پر پر امن ہو گا تاہم انہوں نے کہا کہ اگر رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ مارچ کے پرامن رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ نے کہا کہ ان کا مقصد جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کے مطابق آزاد اور شفاف الیکشن کا انعقاد ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا انتخابات ملتوی کرانے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی بھی مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے لانگ مارچ پر حملے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

احسان نے نامعلوم مقام سے اے ایف پی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست نہیں، ہم نے لانگ مارچ پر حملے کے حوالے سے کوئی دھمکی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم لانگ مارچ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

علاوہ ازیں تحریک منہاج القران کے چودہ جنوری کے متوقع دھرنے کے حوالے سے حکومت مشکلات سے دوچار ہے اور چیف کمشنر اسلام آباد نے حکومت کو مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں چالیس لاکھ افراد کی گنجائش نہیں۔

چیف کمشنر اسلام آباد طارق محمود پیرزادہ کی طرف سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد دس لاکھ کا شہر ہے اور اس میں چالیس لاکھ افراد کو سمونے کی گنجائش نہیں۔

خط  میں کہا گیا ہے لانگ مارچ کے دوران دہشت گرد اسلام آباد داخل ہو سکتے ہیں جبکہ طاہر القادری بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ اگر لانگ مارچ نے اسلام آباد کا رخ کیا تو پارلیمنٹ اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سیکورٹی انہتائی مشکل ہو جائے گی۔

خط میں یہ یہ سوالات بھی اٹھائے گئے کہ سرد موسم اور دھند کے باعث کوئی بیمار ہوا توکہاں رکھا جائے گا جبکہ لاکھوں افراد کیلیے پانی سیوریج اور ٹریفک کا انتظام کیسے ہو گا؟۔

اس حصے سے مزید

ڈھائی سو زائد سیاسی جماعتیں اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے میں ناکام

پی ٹی آئی، پے اے ٹی اور مسلم لیگ ق نے بھی اثاثوں کی تفصیل جمع نہیں کرائی ہے۔

فوج کے 'ثالث' بننے کے پیچھے چوہدری نثار

ن لیگ کی اعلیٰ ترین قیادت میں چند ہی لوگ ایسے تھے جو فوج کو ملوث کرنے کے حوالے سے آگاہ تھے۔

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا چھٹا دور آج ہو گا

پی ٹی آئی اپنے مطالبات پر قائم ہے، تاہم مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ملکی مسائل سے غیر آہنگ حکومتی پالیسیاں

کیا یہ بات سمجھ آنے والی نہیں کہ میگا پروجیکٹس پر اٹھنے والے پیسے سے پہلے توانائی کے مسئلے کو حل کر لیا جائے؟

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

بلاگ

‫ڈرامہ ریویو: وہ۔۔۔ دوبارہ (خوف و دہشت کا احساس)

انسان چاہے بد روحوں سے جتنا بھی ڈرے مگر ان پر بنی فلموں یا ڈراموں کو دیکھنے کا شوق پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

تھری ڈی پرنٹنگ پر کچھ سوالات

کچھ کیسز ضرور ہوں گے جن میں تھری ڈی پرنٹنگ کو کاپی رائیٹ مواد کی غیر قانونی نقل تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پانی کی کمی اور پاکستان کا مستقبل

وزرات منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان کی پانی ذخیرہ کی صلاحیت صرف نو فیصد ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح چالیس فیصد ہے۔

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔