03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رحمان ملک کی لانگ مارچ کو تحفظ فراہم کرنیکی یقین دہانی

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پیر کو تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی پی۔۔۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ طالبان نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے خطرے کے باوجود حکومت 14 جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے طاہر القادری کے لانگ مارچ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گی جبکہ دوسری جانب سے تحریک طالبان نے حملے کے حوالے سے اطلاعات مسترد کر دی ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے گزشتہ ماہ حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئےکہا کہ اگر نظام نہیں بدلا تو وہ لاکھوں لوگوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارج کریں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے لاہور میں طاہر القادری سے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ مارچ روکنے کیلئے مذاکرات کرنے کیلیے نہیں بلکہ سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے آئے تھے۔

بعد میں طاہر القادری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان نے لانگ مارچ پر حملے کی دھمکی دی ہے لیکن ہم مارچ نہیں روکیں گے اور اسے مکمل سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

اس موقع پر طاہر القادری نے کہا کہ وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور 14 جنوری کو اسلام آباد میں مارچ طے شدہ پلان کے مطابق ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ خدا نے چاہا تو 14 جنوری کو ہر حال میں لانگ مارچ ہو گا اور یہ مکمل طور پر پر امن ہو گا تاہم انہوں نے کہا کہ اگر رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ مارچ کے پرامن رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ نے کہا کہ ان کا مقصد جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کے مطابق آزاد اور شفاف الیکشن کا انعقاد ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا انتخابات ملتوی کرانے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی بھی مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے لانگ مارچ پر حملے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

احسان نے نامعلوم مقام سے اے ایف پی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست نہیں، ہم نے لانگ مارچ پر حملے کے حوالے سے کوئی دھمکی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم لانگ مارچ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

علاوہ ازیں تحریک منہاج القران کے چودہ جنوری کے متوقع دھرنے کے حوالے سے حکومت مشکلات سے دوچار ہے اور چیف کمشنر اسلام آباد نے حکومت کو مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں چالیس لاکھ افراد کی گنجائش نہیں۔

چیف کمشنر اسلام آباد طارق محمود پیرزادہ کی طرف سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد دس لاکھ کا شہر ہے اور اس میں چالیس لاکھ افراد کو سمونے کی گنجائش نہیں۔

خط  میں کہا گیا ہے لانگ مارچ کے دوران دہشت گرد اسلام آباد داخل ہو سکتے ہیں جبکہ طاہر القادری بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ اگر لانگ مارچ نے اسلام آباد کا رخ کیا تو پارلیمنٹ اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سیکورٹی انہتائی مشکل ہو جائے گی۔

خط میں یہ یہ سوالات بھی اٹھائے گئے کہ سرد موسم اور دھند کے باعث کوئی بیمار ہوا توکہاں رکھا جائے گا جبکہ لاکھوں افراد کیلیے پانی سیوریج اور ٹریفک کا انتظام کیسے ہو گا؟۔

اس حصے سے مزید

مناسب خوراک کی کمی اور تھکاوٹ انقلابیوں پر اثرانداز ہونے لگی

یہ بدقسمتی ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرین اس طرح کے مضر صحت ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، یہاں سے پندرہ سال تک روزانہ دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔