17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

'شام میں بھوک سے بے حال دس لاکھ افراد کی مدد نہیں کرسکتے'

فوٹو اے پی۔۔۔

جنیوا: عالمی ادارہ خوراک(ورلڈ فوڈ پروگرام) نے منگل کو کہا ہے کہ شام میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث وہ وہاں بھوک سے بے حال تقریباً دس لاکھ لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے۔

ادارے کی ترجمان نے کہا کہ الیسا بیتھ بائرس نے بتایا کہ ایجنسی نے رواں ماہ شام کے 15 سے 25 لاکھ افراد کی مدد کرنیکا ارادہ کیا تھا جن کے بارے میں سیرین عرب ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی خراب  صرتحال اور ایجنسی کی جانب سے شام کی ترتوس بندرگاہ تک رسائی میں ناکامی کے باعث ہم ملک کے شدید متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی بڑی تعداد کی مدد نہیں کر سکیں گے۔

بائرس نے کہا کہ ہمارا اہم پارٹنر ریڈ کریسنٹ اس پر انتہائی دباؤ ہے اور اس صورتحال میں مزید کام کرنا اس کی استعداد سے باہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام کے شہروں حمص، الیپو، ترتوس اور کامسلی میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ہم نے اپنے عملے کو وقتی طور پر وہاں کے دفاتر سے بلا لیا ہے۔

شام میں جاری بحران کا آغاز مارچ 2011 یں پرامن مظاہروں سے ہوا تھا تاہم بعد میں اس نے خانہ جنگی کی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اقوام متحدہ کی حال ہی میں جاری کی گئی رہورٹ کے مطابق مارچ 2011 سے 2012 کے اختتام تک اس تنازع میں اب 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسرائیل کا فلسطین پر مالی پابندیوں کا اعلان

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا فلسطینی افسروں اور وزیروں سے رابطہ نہ رکھنے کا حکم، فلسطینی سیل فون کمپنی کا سامان بھی ضبط۔

عسکری تنظیم کا ایرانی محافظ رہا کرنے کا دعویٰ

ان محافظوں کو پاکستانی سرحد کے قریب فروری میں جیش العدل نامی تنظیم نے اغوا کیا تھا۔

شامی جنگ: 'لبنان میں مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز'

یو این ایچ سی آر نے کہا کہ شامی مہاجرین کی تعداد لبنان کی آبادی کے چوتھائی حصہ کے برابر ہو گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟