24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

لانگ مارچ پر حملے کے منصوبے کا انکشاف

سربراہ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہر القادری۔ فائل فوٹو اے ایف پی۔۔۔

اسلام آباد: طاہر القادری کے 14 جنوری کو ہونے والے لانگ مارچ پر حملے کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت داخلہ نےحکیم اللہ محسود کی قریبی ساتھی کی فون  پر بات چیت ریکارڈ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہےکہ حکیم اللہ محسود  کے قریبی ساتھی نے فون پر رابطہ کر کے طالبان رہنما سے  طاہر القادری کے لانگ مارچ پر  حملے  کیلیے گاڑی مانگی ہے۔ وزارت داخلہ کےمطابق طالبان کی طرف سے چودہ  جنوری کو لانگ مارچ پر حملہ نہ کرنے کے بیان کا  مقصد عوام خصوصاً طاہرالقادری کو دھوکہ دینا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹھ جنوری کو مختلف ٹی وی چینلز پر تحریک طالبان کے ترجمان کے حوالے سے نشر ہونے والا بیان گمراہ کن ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان کا ترجمان نام نہاد  ہے اور اس کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات درست نہیں، حکومت لانگ مارچ کی سیکیورٹی کے اقدامات جاری رکھے گی۔

یاد رہے کہ منگل کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بیان دیا تھا ان کا طاہر القادری کے لانگ مارچ ہر حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی انہوں نے لانگ مارچ پر حملے کے حوالے سے کوئی دھمکی دی ہے۔

ٹی ٹی پی ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کا نام اس معاملے میں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس حصے سے مزید

چوہدری افتخار کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔

زرداری-بائیڈن ملاقات میں اہم معاملات پر گفتگو

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیرستان آپریشن، پاک-امریکا تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-