02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'امن مذاکرات متاثر نہیں ہوئے'

پاکستانی وزیرِخارجہ، حنا ربانی کھر۔—فائل فوٹو
پاکستانی وزیرِخارجہ، حنا ربانی کھر۔—فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی حالیہ خلاف ورزیوں کے باوجود ہندوستان کے ساتھ امن مذاکرات متاثر نہیں ہوئے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ میں منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں حنا ربانی کھر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کے باوجود انہیں مذاکرات کا عمل رکتا نظر نہیں آتا۔

ان بیانات کی وجہ سے ماحول میں تناؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کھر نے کہا کہ تحمل کا مظاہرہ جاری رکھا جائے گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوجیوں کی ایل او سی کے پار کارروائی میں پاکستانی فوجی کی ہلاکت کے بعد پڑوسی ملک کے بیانات پر اسلام آباد کو ناخوش گوار حیرت ہوئی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان بھی صورتحال کو ٹھیک کرنے میں اسی طرح دلچسپی لے گا جس طرح 'ہم نے اتوار کو پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد کیا تھا'۔

اس موقع پر وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر فائر بندی کی خلاف ورزی کی یہاں موجود اقوام متحدہ کے عسکری جائزہ گروپ سے تحقیقات کی پیشکش کو دہرایا۔

حنا کھر نے بتایا کہ پاکستان نے ہندوستان کی طرح اشتعال انگیز بیانات سے تناؤ میں اضافہ کرنے کے بجائے ایک طریقہ کار کے ذریعے صورتحال سے نمٹا۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرلز کے درمیان فوری طور پر رابطہ قائم کیا گیا اور پھر ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا۔

کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسی طرح کی مشکل صورت حال میں ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

ادھر، فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعرات کو ایک اور پاکستانی فوجی ہندوستان کی جانب سے نئے سال کے پہلے دس دنوں میں فائر بندی کی دسویں خلاف ورزی میں ہلاک ہوا ہے۔

اس حصے سے مزید

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔