23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ: گزشتہ روز کے دھماکوں کیخلاف احتجاجی ہڑتال

کوئٹہ میں لوگ اسنوکر کلب پر ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے شخص کی لاش کو ہٹا رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔
کوئٹہ میں لوگ اسنوکر کلب پر ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے شخص کی لاش کو ہٹا رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔

کوئٹہ: کوئٹہ میں گزشتہ روز کے خوفناک بم دھماکوں کے خلاف شہر میں ہڑتال کی جارہی ہے اور تجارتی و کاروباری مراکز بند ہیں۔

شہر میں سکیورٹی سخت ہے اور ایف سی کی آٹھ مزید پلاٹون مختلف مقامات پرمتعین کردی گئی ہے۔

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں کل کے بم دھماکوں میں بھاری جانی نقصان پر وزیراعلی بلوچستان اسلم رئیسانی نے صوبے میں تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے۔

جبکہ مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے ہڑتال اور احتجاج کیا جارہا ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کوآج شہر کے مختلف قبرستانوں میں سپردخاک کیا جائے گا۔

دوسری طرف اسپتال میں زیرعلاج زخمیوں کی زندگی کیلئے دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حب میں صحافیوں نے نمازجمعہ کے بعد احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کل کوئٹہ میں ہونے والے چار دھماکوں میں تیرانوے افراد ہلاک ہوئے۔

خبر کے مطابق پہلا دھماکہ علمدار روڈ پر اسنوکر کلب میں ہوا۔

دوسرا دھماکہ ریسکیو ٹیمیں اور میڈیا کے جائے وقوعہ پر پہنچے کے بعد اسنوکر کلب کے باہر ہوا جس میں سو کلو گرام سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

تربت: دو مسلح گروپوں میں تصادم سے 11 ہلاکتیں

مسلح افراد نے یعقوب بالگتری اور ان کے ساتھیوں پر اُس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے داماد کے گھر میں دعوت پر موجود تھے۔

بی این پی کی نئے صوبوں کے مطالبے کی مخالفت

بلوچستان نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی مزاحمت کی جائے گی۔

خضدار سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

مقامی پولیس کے مطابق تینوں افراد کو انتہائی قریب سے گولی مار کر صحرائی علاقے میں پھینک دیا گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-