19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

چین میں لینڈ سلائیڈنگ سے 42 افراد ہلاک

چین کے صوبہ یونان کی کاؤنٹی ژینزیونگ میں امدادی کارکن ملبے تلے دبے لوگوں کو تلاش کررہے ہیں۔ رائٹرز تصویر
چین کے صوبہ یونان کی کاؤنٹی ژینزیونگ میں امدادی کارکن ملبے تلے دبے لوگوں کو تلاش کررہے ہیں۔ رائٹرز تصویر

بیجنگ: چین کے جنوب مغربی علاقے میں جمعے کو تودے پھسلنے سے بیالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان نے سات افراد بھی شامل ہیں۔ جبکہ ریاستی میڈیا کے مطابق دودرجن افراد تاحال ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لینڈ سلائیڈ کا اکثر شکار رہنے والے یونان صوبے میں تقریباً 46 افراد ملبے تلے دبے ہیں جن میں سے اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس بات کا انکشاف زنہوا نیوز ایجنسی نے کیا ہے۔

مددگار ٹیموں نے لینڈ سلائیڈ کے بعد اب تک دو دیہاتیوں کی جان بچائی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس واقعے میں سولہ گھر متاثر ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ایک گھر کے سات افراد کی موت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

خبررساں اداروں کی جانب سے جاری تصاویر میں امدادی کارکنان برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں مٹی کے تودوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

چین کا یہ پہاڑی علاقہ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں رہتا ہے۔ اکتوبر میں تودے گرنے سے یہاں اٹھارہ بچے بھی ہلاک ہوئے تھے جبکہ یونان صوبے میں ستمبر میں 5.7 شدت کے زلزلے میں 81 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حصے سے مزید

جنوبی کوریا میں بحری جہاز ڈوبنے سے سینکڑوں لاپتہ

جہاز میں سوار سینکڑوں طالب علم اب بھی لاپتہ ہیں، پورے ملک میں سوگ اور دعائیں۔

عسکریت پسند ہنسنے، رونے پر پابندی چاہتے ہیں، چینی گورنر

چین کے شورش زدہ علاقے ژنجیانگ کے گورنر نے ایک روزنامے میں لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ شدت پسندی کی 'رسولی' ختم کریں۔

انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے سات ہلاک، تیس کوبچالیا گیا

عینی شاہدین کے مطابق کشتی میں تیس افراد کی گنجائش تھی جبکہ ستر افراد کو بٹھایا گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔