02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

طاہرالقادری لانگ مارچ کیلئے روانہ

بارہ جنوری دوہزار تیرہ کو ڈاکٹر طاہرالقادری اپنے گھر سے باہر آرہے ہیں۔ اے پی تٓصویر
بارہ جنوری دوہزار تیرہ کو ڈاکٹر طاہرالقادری اپنے گھر سے باہر آرہے ہیں۔ اے پی تٓصویر

لاہور: تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ، علامہ طاہرالقادری کی جانب سے اعلان کئے جانے والے لانگ مارچ کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ ماڈل ٹاؤن سے اسلام آباد کی سمت گامزن ہے۔

 ڈان نیوز کے مطابق اپنے کارواں کے چلنے سے قبل ڈاکٹر قادری نے میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل بلوچستان حکومت کو برطرف کردیا جائے۔

انہوں نے اس لانگ مارچ کو ' مارچ برائے جمہوریت' قرار دیا اور بتایا کہ تمام ٹرانسپورٹرز کو کارروان میں شرکت کے لائیسنس اور اجازت نامے نہیں دے گئے، اسلئے اب وہ بغیر اجازت اسلام آباد کی جانب بڑھیں۔

طاہرالقادری لانگ مارچ میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر تیارکردہ بلٹ پروف ٹرک میں سفر کررہے ہیں جس میں تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔

ان کے مطابق، لانگ مارچ سب سے پہلے داتا دربار پر رکے گا اور پھر وہاں سے آگے کی جانب روانہ ہوگا۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

گلگت: سیاسی بحران سے سیاحت بھی متاثر

سیاسی بے یقینی کے باعث 10 ستمبر سے شروع ہونے والا سلک روٹ انٹرنیشنل فیسٹیول منسوخ کردیا گیا۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

khaliq
13 جنوری, 2013 14:40
very nice news resources
Israr Muhammad
13 جنوری, 2013 19:42
Unfortunate for Shahul Islam his march is over shadow by the Quitta killing his march is so for a failed show
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔