24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان و ہند عسکری حکام میں مذاکرات متوقع

فائل تصویر میں لائن آف کنٹرول پر ایک ہندوستانی فوجی پہرہ دے رہا ہے ۔ رائٹرز تصویر
فائل تصویر میں لائن آف کنٹرول پر ایک ہندوستانی فوجی پہرہ دے رہا ہے ۔ رائٹرز تصویر

اسلام آباد: پاکستان اور ہندوستان کے فوجی آفیشلز پیر کے روز ملاقات کررہے ہیں۔ اس دوران کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کشیدگی میں دونوں اطراف کے فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ سے اس کے دو سپاہی ہلاک ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک گزشتہ اتوار کو اور دوسری ہلاکت جمعرات کو ہوئی۔

منگل کے روز انڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی افواج نے اس کے دو سپاہی ہلاک کئے ہیں جن میں سے ایک کا سر کاٹ دیا گیا تھا۔ دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے الزامات رد کئےہیں۔

' کل پاکستان اور ہندوستانی اداروں کے درمیان لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) پر ایک بریگیڈ سطح کی فلیگ میٹنگ متوقع ہے۔ '  ایک سینیئر فوجی آفیشل نے مزید تفصیلات بتائے بغیر خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ۔

کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازعے کی وجہ بنا ہوا ہے اور دونوں ممالک اس مسئلے پر جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسرائیلی فوج کی اسکول پر بمباری، 15 افراد ہلاک

جمعرات کو اقوام متحدہ کے اسکول پر اسرائیلی بمباری میں بچوں سمیت 15 ہلاک، 17 روزہ لڑائی میں مرنے کی کل تعداد 747 ہو گئی۔

الجزائر کا مسافر طیارہ تباہ، مسافروں سمیت 116 ہلاک

برکینا فاسو سے الجائر جانے والا مسافر طیارہ گر کر تباہ، طیارے میں سوار مسافروں اور عملے سمیت 116 افراد ہلاک ہو گئے

ہندوستان: سکول بس اور ٹرین میں تصادم، 12 بچے ہلاک

سکول بس توپران کے قریبی قصبے میں ککاتیہ ٹیکنو اسکوکے بچوں کو لے جارہی تھی کہ یہ حادثہ پیش آیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-