16 اپريل, 2014 | 15 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان و ہند عسکری حکام میں مذاکرات متوقع

فائل تصویر میں لائن آف کنٹرول پر ایک ہندوستانی فوجی پہرہ دے رہا ہے ۔ رائٹرز تصویر
فائل تصویر میں لائن آف کنٹرول پر ایک ہندوستانی فوجی پہرہ دے رہا ہے ۔ رائٹرز تصویر

اسلام آباد: پاکستان اور ہندوستان کے فوجی آفیشلز پیر کے روز ملاقات کررہے ہیں۔ اس دوران کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کشیدگی میں دونوں اطراف کے فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ سے اس کے دو سپاہی ہلاک ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک گزشتہ اتوار کو اور دوسری ہلاکت جمعرات کو ہوئی۔

منگل کے روز انڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی افواج نے اس کے دو سپاہی ہلاک کئے ہیں جن میں سے ایک کا سر کاٹ دیا گیا تھا۔ دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے الزامات رد کئےہیں۔

' کل پاکستان اور ہندوستانی اداروں کے درمیان لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) پر ایک بریگیڈ سطح کی فلیگ میٹنگ متوقع ہے۔ '  ایک سینیئر فوجی آفیشل نے مزید تفصیلات بتائے بغیر خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ۔

کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازعے کی وجہ بنا ہوا ہے اور دونوں ممالک اس مسئلے پر جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

جنوبی کوریا: بحری جہاز کو حادثہ، ایک مسافر ہلاک

کوسٹ گارڈ حکام کے مطابق حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، جبکہ باقی مسافروں کو بچا لیا گیا۔

ہندوستان میں بس حادثہ، چھ افراد ہلاک

حکام کے مطابق یہ حادثہ بس میں آگ لگنے سے پیش آیا جس میں کم ازکم چھ افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے۔

انڈین خواجہ سراؤں کے لیے تیسری جنس کا درجہ

سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں خواجہ سراؤں کو باضابطہ طور پر تیسری صنف تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے الگ درجہ بنا دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔