17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے افراد سپرد خاک

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک  خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔— اے ایف پی
کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔— اے ایف پی

کوئٹہ: سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے افراد کو پیر کو سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ بہشت زینب قبرستان کے قریب ادا کی گئی۔

دوسری جناب ہزارہ برادری نے اپنے مطالبات منظور ہونے کے بعد کوئٹہ میں جمعہ سے جاری احتجاجی دھرنا آج صبح  ختم کردیا ہے۔

 جمعرات کو تین بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد ہزارہ برادری نے احتجاجاً لاشوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خاتمے اور شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک جمعہ سے شہر کے علمدار روڈ پر شدید سردی اور بارش میں لاشوں کو رکھ کر دھرنا دے رکھا تھا۔

تاہم اتوار کو رات گئے وفاقی حکومت نے ان کے مطالبوں کو تسلیم کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔

یہ اعلان وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ روز شہر کا دورہ کرنے اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا۔

حکومتی اعلان کے بعد ہزارہ برادری کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر جان علی چنگیزی نے کہا تھا کہ آج صبح دس بجے دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق، جمعرات کو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے پچاسی افراد کی آج دوپہر تدفین بھی کردی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، چنگیزی کا کہنا تھا کہ شہر کو فوج کے حوالے کرنے سے متعلق صوبے کے گورنر سے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ میں فائرنگ، دو افراد ہلاک

موٹر سایئکل سوار حملہ آوروں نے دکان کو نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے، پولیس۔

'ہندوستان بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی فنڈنگ کرتا ہے'

سینیئر صوبائی وزیر ثناء اللہ زہری کے مطابق گوادر پورٹ کے قیام سے دیگر ممالک بھی صوبے میں مداخلت کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ: ہزارہ برادری کے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ

مسلح افراد نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ہفتے کی رات فائرنگ کر کے شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد کو ہلاک کردیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟