02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے افراد سپرد خاک

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک  خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔— اے ایف پی
کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔— اے ایف پی

کوئٹہ: سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے افراد کو پیر کو سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ بہشت زینب قبرستان کے قریب ادا کی گئی۔

دوسری جناب ہزارہ برادری نے اپنے مطالبات منظور ہونے کے بعد کوئٹہ میں جمعہ سے جاری احتجاجی دھرنا آج صبح  ختم کردیا ہے۔

 جمعرات کو تین بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد ہزارہ برادری نے احتجاجاً لاشوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خاتمے اور شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک جمعہ سے شہر کے علمدار روڈ پر شدید سردی اور بارش میں لاشوں کو رکھ کر دھرنا دے رکھا تھا۔

تاہم اتوار کو رات گئے وفاقی حکومت نے ان کے مطالبوں کو تسلیم کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔

یہ اعلان وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ روز شہر کا دورہ کرنے اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا۔

حکومتی اعلان کے بعد ہزارہ برادری کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر جان علی چنگیزی نے کہا تھا کہ آج صبح دس بجے دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق، جمعرات کو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے پچاسی افراد کی آج دوپہر تدفین بھی کردی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، چنگیزی کا کہنا تھا کہ شہر کو فوج کے حوالے کرنے سے متعلق صوبے کے گورنر سے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔