29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے افراد سپرد خاک

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک  خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔— اے ایف پی
کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دھرنے میں شریک خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔— اے ایف پی

کوئٹہ: سانحہ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے افراد کو پیر کو سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ بہشت زینب قبرستان کے قریب ادا کی گئی۔

دوسری جناب ہزارہ برادری نے اپنے مطالبات منظور ہونے کے بعد کوئٹہ میں جمعہ سے جاری احتجاجی دھرنا آج صبح  ختم کردیا ہے۔

 جمعرات کو تین بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد ہزارہ برادری نے احتجاجاً لاشوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خاتمے اور شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک جمعہ سے شہر کے علمدار روڈ پر شدید سردی اور بارش میں لاشوں کو رکھ کر دھرنا دے رکھا تھا۔

تاہم اتوار کو رات گئے وفاقی حکومت نے ان کے مطالبوں کو تسلیم کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔

یہ اعلان وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ روز شہر کا دورہ کرنے اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا۔

حکومتی اعلان کے بعد ہزارہ برادری کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر جان علی چنگیزی نے کہا تھا کہ آج صبح دس بجے دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق، جمعرات کو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے پچاسی افراد کی آج دوپہر تدفین بھی کردی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، چنگیزی کا کہنا تھا کہ شہر کو فوج کے حوالے کرنے سے متعلق صوبے کے گورنر سے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

اس حصے سے مزید

آواران: فائرنگ سے چھ افراد ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔

کوئٹہ: دوصحافیوں سمیت تین افراد قتل

نیوز ایجنسی کے دفتر میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور بیورو،رپورٹر اور اکائونٹنٹ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

مستونگ: نیٹو ٹینکرز پر حملہ

پولیس کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔