21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل

لانگ مارچ کے شرکاء پاکستان کا پرچم لہرا رہے ہیں، رائٹرز فوٹو۔
لانگ مارچ کے شرکاء پاکستان کا پرچم لہرا رہے ہیں، رائٹرز فوٹو۔

لاہور: گزشتہ روز لاہور سے علامہ طاہرالقادری کی سربراہی میں تحریک منہاج القرآن کا لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوگیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق، مارچ اب اسلام آباد ایکسپریس وے تک پہنچ گیا ہے۔

 ادھر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون سروس معطل کردی گئی ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد انتظامیہ اور تحریک منہاج القرآن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت لانگ مارچ کے شرکاء پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب نہیں بڑھیں گے۔

معاہدے میں طے پایا ہے کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کے دوران کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی جائے گی۔

یہ معاہدہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور مہناج القرآن کے مقامی قائدین کے مابین معاہدہ طے پایا ہے۔

 ذرائع کے مطابق معاہدے کی رو سے طاہرالقادری کو قافلے سمیت اسلام آباد میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے اور لانگ مارچ کے شرکاء بلیو ایریا میں سعودی پاک ٹاور کے قریب بنائے گئے اسٹیج تک محدود رہیں گے۔ انتظامیہ نے لانگ مارچ کے شرکاء کو گاڑیاں ایف نائن پارک میں پارک کر کے بلیو ایریا کی جانب جناح ایونیو فلائی اوور کے اوپر سے پیدل گزرنے کی اجازت دی ہے۔

جبکہ دوسری جانب انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق لانگ مارچ پر دہشتگرد حملے کا خطرہ بدستور موجود ہےجس کی روشنی میں لانگ مارچ قافلے کی سیکورٹی کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ممکنہ دہشگرد حملے سے طاہرالقادری کو آگاہ کردیاگیا ہے۔

 دوسری جانب ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، ڈان نیوز کی اطلاع کے مطابق صبح کے وقت لانگ مارچ کا یہ قافلہ کھاریاں پہنچا تھا، جہاں قادری نے شرکاء سے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاست کو بچانے کے لیے ان کے لانگ مارچ میں جوق در جوق شامل ہوں۔

 انہوں نے کہا کہ زندگی بھیک سے نہیں ملتی بلکہ چھیننی پڑتی ہے، چنانچہ ملک کو چوروں اور ڈاکوؤں سے بچانے کے لیے گھر سے نکلیں۔انہوں نے عوام سے کہا کہ اگر آپ کو اپنے بچوں اور اپنے ملک کے مستقبل کی فکر ہے تو پھر لانگ مارچ میں شریک ہوں، انہوں نے شکایت کی کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو پریشان کرنے کے لیے موبائل فون سروس بند کی گئی ہے۔

 اس سے قبل گجرات اور وزیرآباد میں لانگ مارچ کے شرکاء نے کچھ وقفے کے لیے قیام کیا تھا، جہاں طاہرالقادری نے خطاب بھی کیا۔

 یاد رہے کہ کل صبح نو بجے طے شدہ وقت سے پانچ گھنٹے تاخیر کے بعد دو بجے لانگ مارچ کا آغاز ہوسکا تھا۔  دھواں دھار تقریر کرکے جہاں طاہرالقادری نے شرکاء کے دل گرمائے، وہیں جس طرح ججز تحریک میں نواز شریف نے صحافیوں اور عوام سے ہاتھ اٹھا کر اسلام آباد تک چلنے کا عہد لیا تھا، انہوں نے بھی اُسی طرح عہد لیا۔  روانگی سے پہلے وکٹری کا نشان بنا کردعا کرائی۔

 لانگ مارچ کے شرکاء بسوں، ٹرکوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہیں جبکہ طاہرالقادری خصوصی طور پر تیار کیے گئے کنٹینر پر سوار ہیں جو سردی سے بچاؤ سمیت بہت سی لگژری  سہولیات سے مزیّن ہے۔

 روزنامہ ایکسپریس  کے مطابق لانگ مارچ کے منتظمین نے بھی سفر اور دھرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر کئی ضروری انتظامات کر رکھے ہیں۔ مثلاً کھانے پینے کی اشیاء، کمبل، بستر، اور دیگر اشیاء سے لدے درجنوں ٹرک اور اکتیس چھوٹی ایمبولینسز بھی لانگ مارچ کےہمراہ ہیں۔

 مختلف مقامات پر قیام کے دوران منہاج القرآن کے کارکنوں کی جانب سے کھانے پینے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ کے مطابق لانگ مارچ کے روٹ سے کنٹینرز اور رکاوٹیں  ہٹانے کے لیے کرین بھی ہمراہ ہیں۔

long march 670
لانگ مارچ کے شرکاء کا ایک منظر، طاہرالقادری کا دعویٰ ہے کہ شرکاء کی تعداد ایک ملین ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔فوٹو رائٹرز

مارچ میں شامل افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آرہے ہیں، کھاریاں میں اپنے خطاب میں قادری نے دعویٰ کیا تھا کہ شرکاء کی تعداد ایک ملین یعنی دس لاکھ ہوچکی ہے۔ بی بی سی کے مطابق جلوس کے آغاز پر لاہور میں شرکاء کی تعداد پندرہ سے بیس ہزار تھی لیکن  راستے میں اس تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ لانگ مارچ کے آغاز پر شرکاء کی کمی کا ذمہ دار قادری نے پنجاب حکومت کو ٹہرایا تھا۔ دوسری طرف حکومت پنجاب کی طرف سے وفاقی حکومت کوبھجوائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ مارچ تین سو گاڑیوں میں سوار تیرہ ہزار افراد سے شروع ہوا تھا، طاہرالقادری اور ان کے بیٹے الگ الگ گاڑیوں میں مارچ کی قیادت کرتے رہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کی اسپیشل برانچ نے بھی اپنی رپورٹس اعلیٰ حکام کوبھجوائی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی اور اطراف کے علاقوں سے دس سے پندرہ ہزار افراد مارچ میں شامل ہوسکتے ہیں اور اسلام آباد میں مزید پانچ ہزار افراد لانگ مارچ کاحصہ بن جائیں گے، یوں اسلام آباد میں شرکاء کی زیادہ سے زیادہ تعداد بیس سے تیس ہزار ہوگی۔

    پنجاب حکومت پر قادری نے الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اُس نے لانگ مارچ کے لیے بُک کی جانے والی گاڑیاں پکڑلی ہیں، ٹرانسپورٹرز کے پرمٹ کینسل کردیے ہیں اور ڈرائیوروں کے لائسنس ضبط کر لیے ہیں، انہوں نےٹرانسپورٹوں اور ڈرائیوروں کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ اب بغیر پرمٹ اور لائسنس کے لانگ مارچ میں چل پڑیں۔

 قادری نے روانگی سے پہلے خطابت کے جوہر دکھائے اور انقلاب کی نوید سنائی تھی اور اپنی دھواں دھار تقریر میں انہوں نے اسلام آباد کو یزیدی تخت قرار دے ڈالا تھا، انہوں نے شرکاء سے کہا کہ اب ہم یزیدی تخت اُلٹ کر ہی واپس آئیں گے۔ ساتھ ہی  ساتھ بلوچستان حکومت کی برطرفی کا مطالبہ بھی کر دیا،انہوں نے اس ضمن میں کہا تھا کہ  اسلام آباد پہنچنے سے پہلے میں یہ خبر سننا چاہتا ہوں۔

 لانگ مارچ کا قافلہ جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا اس میں مزید لوگ شامل ہوتے رہے۔ نوجوانوں کے ساتھ خواتین کی بڑی تعداد بھی نظر آئی جو جگہ جگہ ترانوں پر رقص کرکے اپنے جوش اور ولولے کا اظہار کرتی نظر آئیں۔ خواتین نے لانگ مارچ کی کامیابی کی امید بھی ظاہر کی۔

 ڈان نیوز کے مطابق موسم انتہائی سرد ہونے کے باوجود لانگ مارچ کے شرکاء کے حوصلے بلند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد اور عزائم بلند ہیں، موسم کی سختی سمیت حائل تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے وہ اسلام آباد ضرور پہنچیں گے اورچودہ اگست انیس سو سینتالیس کی طرح چودہ جنوری دو ہزار تیرہ کو بھی تاریخ رقم ہوگی ۔

اس حصے سے مزید

ملک آمریت کا متحمل نہیں ہوسکتا: خورشید شاہ

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سیاستدان ماضی سے سبق سیکھ چکے ہیں اور ملک کی بقا کے لیے معمولی غلطیاں نظر انداز کرنی ہوں گی۔

جماعت اسلامی کا طالبان سے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

امیرِ جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ گولیوں کے بجائے منطقی دلائل کا تبادلہ کیا جانا چاہیٔے۔

'طالبان کے مطالبات قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں'

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (10)

Israr Muhammad
14 جنوری, 2013 12:52
اس بات میں اب دو رائے هو هی نہیں سکتے کۂ همارا ملک بارود کا ڈھیر بن چکا هے اور بارود میں آگ بھی لگی هویئ هے یا لگا دیگیئ هے بس هم کو اپنے والے کے پھٹنے کا انتظار هے هر طرف خون کا کھیل جاری هے بدامنی بدعنوانی رشوت خوری بے ایمانی هے گزشتہ پندرہ سال سے هم خالت جنگ میں هیں هم نے هر قسم کے نعرے اور حکومتیں دیکھ لیں هم نے فوج کی مارشلآ روٹی کپڑا مکان اور درویشوں کی حکومت بھی هم پانچ نکاتی پیپلز پروگرام تعمیر وطن قرض اتارو تعمیر پاکستان بینظیر پروگرام وغیرۂ وغیرۂ سن اور دیکھ لیا هے هم آج بھی تبدیلی اور انقلابی باتیں سن رہے هیں لیکن کچھ نہیں هورهاهے آجکل مارچ اور تبدیلی کی آواز پھر بلند هورهی هےلیکن هم آج بھی وہاں هیں‎ ‎اج جمہور هے عوام کے منتخب نمایندے هیں لیکن پھر آج کیوں حقیقی جمہوریت کی آواز بلند کررہے هیں آگر دو لاکھ کا مجمع اکٹھا کرلیں اور انکے دباؤ میں فیصلے هویے تو کیا یۂ 18کروڑ عوام کے قسمت کا فیصلہ کرنے کے مجاز هیں کیا یه جمہوری فیصلے هونگۓ جمہوری فیصلہ ووٹ کرتا هے نۂ کۂ مارچ سے یا جلسہ جلوس سے
ijaz ahmad
14 جنوری, 2013 15:37
I really do not understand such people who prefer to live outside Pakistan but never miss any chance to destablize Pakistan. What are the objectives of Qadri,s march to ISLAMABAD. Does he want to outset PPP's government? OK. But what is next. A marshal law or a government by those people who have friends outside of Pakistan. I think we are trying to achive the objectives of those powers who are continually trying to dismentle Pakistan
ijaz ahmad
14 جنوری, 2013 15:43
I 100% endorse your comments. Why can.nt we weight another three months to let people decide what they want? The motives of the long march are now very clear. Qadri wants to delay elections and strenghten the idea of an un elected govt for longer time to serve the intrests of foriegn powers.
habib ullah saadi
14 جنوری, 2013 16:15
Tahirulqadri buhat bara drama or jhoota admi hy. Allah is ko hadayat de.
Qaseem Siddiqui
14 جنوری, 2013 16:15
May Almighty Allah help you & participants their objectives acheived inshAllah,Allah Apsabka hami o nasir ho
sanqa naz
15 جنوری, 2013 01:24
ya kya tbdeli lain gy ya to khd hi asool tor rhy hain
shama kanwal
15 جنوری, 2013 08:32
hm tahir ul qadri k sath hen ...... ALLAH in ko kamiyabi ata kry pakistan kaim rahyyyyyyyyyyyy ameeeeen
umer bashir
15 جنوری, 2013 14:13
hm tahir ul qadri k saath haan allah unko apny maqsad me kamyab kry ameen.
sunmalchuhaan
15 جنوری, 2013 14:19
sab awaam ko bewkoof bnanny k dramy kr rha ha tahir ul qadri seedha seedha kahy k issy wazery azam ki kursi chahye.
ijaz ahmad
16 جنوری, 2013 06:56
Bhai sahib ap ko qadri sahib k maqsad ka pata hy kia. Please thori si research kareen to ap ko un ka maqsad pata chal jaye ga phir un ki kamyabi ke dua dejya ga.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔