25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

عدالت کا تحریری حکم نہیں ملا، کائرہ

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات، قمر زمان کائرہ۔ فائل تصویر اے ایف پی
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات، قمر زمان کائرہ۔ فائل تصویر اے ایف پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی تک حکومت کو نہیں ملا۔

منگل کو جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء اور ملک کے دوسرے سیاستدان یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ جس موقع پر آیا اس موقع اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں کچھ مماثلت ضرور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ طاہر القادری کی تقریر اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہاں کہاں مماثلت ہے اور طاہر القادری کی تقریر میں کیا کرامات ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے، یہ بات ہم بار بار کہہ چکے ہیں، کسی کی خواہشات کچھ بھی ہوں، عوام جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، طاہر القادری کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا شاید پہلے سے علم تھا، جس کے سبب انہوں نے کہا کہ میری آدھی تقریر سے آدھا کام ہو گیا ہے باقی آدھا کام کل ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کوئٹہ کی صورتحال کا اسلام آباد کی صورتحال کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔کوئٹہ اور اسلام آباد کی صورتحال میں بڑا فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن ایک سیاسی تنظیم نہیں ہے، طاہر القادری نے ابھی تک اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں یا نہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق، ڈاکٹر قادری نے ابھی تک اپنی جماعت کو الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ بھی نہیں کرایا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ طاہر القادری سے مذاکرات کے حق میں ہیں کیونکہ ہم نے تو طالبان کے ساتھ بھی مذاکرات کی حامی بھری ہوئی ہے۔

اس حصے سے مزید

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

کامران خان نے بھی جیونیوز چھوڑ دیا

صحافی برادری سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ کامران خان عنقریب آنے والے میڈیا گروپ ’’بول‘‘ سے وابستہ ہو رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-