19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

باڑہ سے اٹھارہ لاشیں برآمد

خیبر ایجنسی میں ایک بکتر بند گاڑی کی چھت پر پولیس اہلکار سوار ہے۔ فائل تصویر رائٹرز
خیبر ایجنسی میں ایک بکتر بند گاڑی کی چھت پر پولیس اہلکار سوار ہے۔ فائل تصویر رائٹرز

خیبر ایجنسی: خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل کے علاقے عالم گودر سے اٹھارہ لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کی گیا تھا۔ مقامی اور قبائلی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

آفیشلز نے ان کی تعداد تو درست بتائی ہے لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

ڈان ڈاٹ کام کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ ایک علاقے میں 18 لاشیں موجود ہیں جن میں چار خاصہ دار بھی شامل ہیں جنہیں عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹی کے چند اراکین بھی شامل ہیں۔

' یوں لگتا ہے کہ عسکریت پسند انہیں فائرنگ سے قتل کرنے کے بعد لاشوں کو یہی چھوڑ گئے،' انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا۔

مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔

جب سیکیورٹی اور انتظامی آفیشلز سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ انہوں نے بھی لاشوں کے بارے میں سنا ہے لیکن ان کے پاس مزید تفصیلات نہیں ۔

اس حصے سے مزید

خیبرایجنسی: ریمورٹ کنڑول حملے میں تین شدت پسند ہلاک

اسی دوران بنوں کے علاقے ایف آر جانی خیل میں فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک، جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

ملک میں پولیو کے مزید چھ کیسز کی تصدیق

یہ نئے کیسز اس وقت سامنے آئے ہیں جب دو روز قبل یعنی منگل کو ملک بھر میں ایک ہی دن میں پولیو کے تیرہ کیس سامنے آئے تھے۔

پشاور:دستی بم حملوں اور دھماکوں میں 11 افراد زخمی

پندھواوربڈھ بیرمیں ہونےوالےدستی بم حملوں میں 6بچےاور3خواتین زخمی ہوئے،ہشتنگری میں سلینڈر پھٹنےسےخاتون اور بچہ زخمی ہوئے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔