17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سعودی عرب میں پاکستانی کا سر قلم

فائل فوٹو رائٹرز۔۔۔

ریاض: سعودی عرب نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار پاکستانی باشندے کا مشرقی صوبے خبار میں سر قلم کر دیا، سعودی وزارت داخلہ نے اس بات کا اعلان کر دیا ہے۔

ایس پی اے نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ارشد محمود کو ہیروئن اور ہشیش کی اسمگلنگ کے الزام میں سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد رواں سال سعودی عرب میں سر قلم کیے جانے افراد کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق آفیشل کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال 76 افراد کے سر قلم کیے گئے تھے جبکہ انسانی حقوق کی تظیم کے مطابق ان افراد کی تعداد 69 تھی۔

سعودی عرب میں لاگو قوانین کے تحت ریپ، قتل، مسلح ڈکیتی، منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ مرتد افراد کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔

اس حصے سے مزید

عراق: امریکا کی دولت اسلامیہ کے خلاف باقاعدہ کارروائی

امریکا نے دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی کے تحت پہلی مرتبہ انہیں باقاعدہ طور پر نشانہ بنایا۔

عراقی وزیر اعظم نے برطانوی شہریت ترک کر دی

وزیر اعظم حیدر العابدی نےآئین کے تحت اپنی دوہری شہریت ختم کر دی۔

آئی ایس کے خلاف جدوجہد میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ

کردستان ورکرز پارٹی کی خاتون رکن تیکوشن کے مطابق ان کی جدوجہد کا مقصد خواتین کو شدت پسند نظریات سے نجات دلوانا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔