18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

حقانی کو اثاثہ کہنے والے پاکستانی نمائندے نہیں

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز
وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز

نیویارک: پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو 'پاکستان کا ایک اثاثہ' کہتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کا نمائیندہ نہیں۔ اس بات کی تفصیلات بی بی سی اردو کی ویب سائٹ  پر شائع ہوئی ہیں۔

حناربانی کھر نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حالت میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایسے خیالات نہیں رکھتے۔

حنا ربانی کھر نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں ایک معروف تھنک ٹینک، ایشیا سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ' پاکستان کے جمہوری سفر' کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا ۔ اس گفتگو کی ماڈریشن ٹائم میگزین کے سیاسی کالم نگار نے کی تھی ۔

ماڈریٹر نے کھر سے ایک سوال میں چار سال قبل جنرل کیانی سے کئے گئے نیویارک ٹائمز کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کا ایک ' اثاثہ' قرار دیا تھا۔

اس کے ردِ عمل میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور کہا کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو ایک اثاثہ قراردیتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کی نمائیندگی نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جنرل کیانی کے بھی ایسے خیالات نہیں ہیں۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

خیبر ایجنسی: شدت پسندوں کا ایف سی قلعے پر حملہ

دونوں جانب سے ہلکےاور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی, تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی طلاع نہیں ملی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے