25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

حقانی کو اثاثہ کہنے والے پاکستانی نمائندے نہیں

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز
وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز

نیویارک: پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو 'پاکستان کا ایک اثاثہ' کہتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کا نمائیندہ نہیں۔ اس بات کی تفصیلات بی بی سی اردو کی ویب سائٹ  پر شائع ہوئی ہیں۔

حناربانی کھر نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حالت میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایسے خیالات نہیں رکھتے۔

حنا ربانی کھر نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں ایک معروف تھنک ٹینک، ایشیا سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ' پاکستان کے جمہوری سفر' کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا ۔ اس گفتگو کی ماڈریشن ٹائم میگزین کے سیاسی کالم نگار نے کی تھی ۔

ماڈریٹر نے کھر سے ایک سوال میں چار سال قبل جنرل کیانی سے کئے گئے نیویارک ٹائمز کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کا ایک ' اثاثہ' قرار دیا تھا۔

اس کے ردِ عمل میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور کہا کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو ایک اثاثہ قراردیتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کی نمائیندگی نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جنرل کیانی کے بھی ایسے خیالات نہیں ہیں۔

اس حصے سے مزید

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

کراچی: رینجرز کی کارروائی میں کالعدم تنظیم کا رکن ہلاک

رینجرز کے مطابق مبینہ دہشت گرد کامرہ ایئر بیس حملے میں ملؤث تھا۔ دوسری جانب شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات جاری رہے۔

'عدنان رشید کی گرفتاری کی تردید'

فوج نےحال ہی میں جس جنگجو کمانڈر کو گرفتار کیا وہ عدنان رشید نہیں بلکہ القاعدہ کا ایک سینئر ٹرینرتھا، سیکورٹی حکام۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-