30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

حقانی کو اثاثہ کہنے والے پاکستانی نمائندے نہیں

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز
وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز

نیویارک: پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو 'پاکستان کا ایک اثاثہ' کہتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کا نمائیندہ نہیں۔ اس بات کی تفصیلات بی بی سی اردو کی ویب سائٹ  پر شائع ہوئی ہیں۔

حناربانی کھر نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حالت میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایسے خیالات نہیں رکھتے۔

حنا ربانی کھر نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں ایک معروف تھنک ٹینک، ایشیا سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ' پاکستان کے جمہوری سفر' کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا ۔ اس گفتگو کی ماڈریشن ٹائم میگزین کے سیاسی کالم نگار نے کی تھی ۔

ماڈریٹر نے کھر سے ایک سوال میں چار سال قبل جنرل کیانی سے کئے گئے نیویارک ٹائمز کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کا ایک ' اثاثہ' قرار دیا تھا۔

اس کے ردِ عمل میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور کہا کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو ایک اثاثہ قراردیتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کی نمائیندگی نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جنرل کیانی کے بھی ایسے خیالات نہیں ہیں۔

اس حصے سے مزید

والدین کے انکار کی وجہ سے 16 ہزار بچے پولیو ویکسین سے محروم

حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) کے ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ والدین کی جانب سے انکار کوئی انوکھی بات نہیں۔

کھاریاں: فوج کانیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر قائم

انسداددہشت گردی مرکزمیںٰ فوجی دستوں،پولیس، کانسٹیبلری،لیویزسمیت غیرملکی فورسزکو دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت دی جائے گی۔

چھ سو آٹھ اراکین نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں، الیکشن کمیشن

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرادیں ہیں تاہم پرویز خٹک نے ابھی تک تفصیلات جمع نہیں کرائی ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔