22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

حقانی کو اثاثہ کہنے والے پاکستانی نمائندے نہیں

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز
وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز

نیویارک: پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو 'پاکستان کا ایک اثاثہ' کہتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کا نمائیندہ نہیں۔ اس بات کی تفصیلات بی بی سی اردو کی ویب سائٹ  پر شائع ہوئی ہیں۔

حناربانی کھر نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حالت میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایسے خیالات نہیں رکھتے۔

حنا ربانی کھر نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں ایک معروف تھنک ٹینک، ایشیا سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ' پاکستان کے جمہوری سفر' کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا ۔ اس گفتگو کی ماڈریشن ٹائم میگزین کے سیاسی کالم نگار نے کی تھی ۔

ماڈریٹر نے کھر سے ایک سوال میں چار سال قبل جنرل کیانی سے کئے گئے نیویارک ٹائمز کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کا ایک ' اثاثہ' قرار دیا تھا۔

اس کے ردِ عمل میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور کہا کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو ایک اثاثہ قراردیتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کی نمائیندگی نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جنرل کیانی کے بھی ایسے خیالات نہیں ہیں۔

اس حصے سے مزید

بحران سے نمٹنے کیلئے آئینی حل تیار کر لیا، شجاعت

مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے آرمی چیف سمیت پوری فوج ناراض ہے۔

پشاور: تیز بارش میں حادثات، 8 افراد ہلاک، 42زخمی

پشاور اور گرد ونواح میں تیزہواؤں کے ساتھ آندھی اورگردآلود طوفان شروع ہوا جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ شدید بارش شروع ہوگئی۔

پاکستان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، امریکا

امریکی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کی اہم خصوصیات ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔