20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

حقانی کو اثاثہ کہنے والے پاکستانی نمائندے نہیں

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز
وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر ۔ فائل تصویر رائٹرز

نیویارک: پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو 'پاکستان کا ایک اثاثہ' کہتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کا نمائیندہ نہیں۔ اس بات کی تفصیلات بی بی سی اردو کی ویب سائٹ  پر شائع ہوئی ہیں۔

حناربانی کھر نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حالت میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایسے خیالات نہیں رکھتے۔

حنا ربانی کھر نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں ایک معروف تھنک ٹینک، ایشیا سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ' پاکستان کے جمہوری سفر' کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا ۔ اس گفتگو کی ماڈریشن ٹائم میگزین کے سیاسی کالم نگار نے کی تھی ۔

ماڈریٹر نے کھر سے ایک سوال میں چار سال قبل جنرل کیانی سے کئے گئے نیویارک ٹائمز کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کا ایک ' اثاثہ' قرار دیا تھا۔

اس کے ردِ عمل میں حنا ربانی کھر نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور کہا کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کو ایک اثاثہ قراردیتا ہے وہ حکومتِ پاکستان کی نمائیندگی نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جنرل کیانی کے بھی ایسے خیالات نہیں ہیں۔

اس حصے سے مزید

کسی کو جمہوریت پر کلہاڑا نہیں چلانے دیں گے، وزیراعظم

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کو بھی قومی سلامتی سے کھیلنے نہیں دے سکتی ہے۔

حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی، وسان

سندھ کو کوئی تقسیم نہیں کرسکتا، دھرنوں اور احتجاج سے پیدا خطرات ٹل چکے، رہنما پی پی پی۔

سول نافرمانی تحریک:عمران خان نےبجلی کابل جلادیا

تحریک انصاف کے چیئرمین نے حکومت مخالف تحریک میں اتوار کو کراچی کے جلسے میں عوام سے بھی بجلی کے بل جلوانے کا اعلان کیا ہے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔