02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

اپوزیشن جماعتوں کا جمہوریت کے تحفظ کا عزم

اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ پی پی آئی فوٹو۔
اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ پی پی آئی فوٹو۔

رائے ونڈ: اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کے روز جمہوریت کے تحفظ کا عزم اور بروقت انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے رائے ونڈ میں ہونے والے اجلاس میں جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دینے کا عزم کیا گیا۔

اجلاس میں شریک تمام جماعتوں اور رہنماؤں نے بروقت انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا اور عام انتخابات کا التوا کسی صورت برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا۔

اجلاس میں ہر حال میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا عزم بھی کیا گیا۔

اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت اقتدار کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت کے لئے سرگرم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ عوام جمہوریت کے تحفظ کے لئے ڈٹ گئے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کرتی تو حالات مختلف ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام جماعتیں کسی بھی غیر آئینی اقدام کیخلاف بھرپور مزاحمت کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب عام انتخابات میں تاخیر کے بجائے ان کے انعقاد کا  فوری اعلان کرے۔

امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے مطابق، غیر جمہوری قوتوں کو کوئی موقع فراہم نہیں کرنا چاہیئے۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ سیاست میں 'مسخروں' کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔

کانفرنس میں طلال اکبر بگٹی، محمود خان اچکزئی، حامد ناصر چٹھہ، ہارون اختر، غلام مصطفی کھر سمیت اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

کسی کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں نہیں آئیں گے، عمران خان

حکومت استعفے کے علاوہ سب کچھ ماننے کے لیے تیار ہوگئی مگر نواز شریف کے استعفے کے بغیر کسی صورت واپس نہیں جاﺅں گا۔

'خان صاحب نے کہا کہ فوج کے بغیر نہیں چل سکتے'

عمران کو ملک کے آئین اور قانون کی پرواہ نہیں، وہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام آباد آئے ہیں، صدر تحریک انصاف جاوید ہاشمی

ہاشمی کے الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے فوج کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی خفیہ ایجنڈا ہے


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

Israr Muhammad
16 جنوری, 2013 20:51
شیح الاسلام کے مارچ کےحوالے سے عدالت اعظمۂ کی وضاحت کے بعد سپریم کورٹ کے وزیراعظم کے بارے حکم اور مارچ کے ربط حوالے سے جو شکوک وشبہات پیدا هوگئے تھے اب حتم هو چکے هیں اور آج تمام سیاسی جماعتوں کا ایک واضح اور مشترکہ موقف اس بات کی دلیل هے کۂ تمام پاکستانی انتخابات کے زریعے تبدیلی چاہتے هیں کسی دوسرے طریقے سے نہیں اور یۂ طے هوجکی هے کۂ پاکستان کے سیاسی قوتیں اور جمہوریت کا تسلسل چاہتے هیں البتہ ایک اور طرف سے بھی وضاحت لازمی هے تاکہ لوگوں کے دلوں انکے بارے میں جو خدشات هیں وه دور هو جائیں
Israr Muhammad
16 جنوری, 2013 20:54
شیح الاسلام کے مارچ کےحوالے سے عدالت اعظمۂ کی وضاحت کے بعد سپریم کورٹ کے وزیراعظم کے بارے حکم اور مارچ کے ربط حوالے سے جو شکوک وشبہات پیدا هوگئے تھے اب حتم هو چکے هیں اور آج تمام سیاسی جماعتوں کا ایک واضح اور مشترکہ موقف اس بات کی دلیل هےکۂ تمام پاکستانی انتخابات اور ووٹ کے زریعے تبدیلی چاہتے هیںکسی دوسرے طریقے سے نہیں اور یۂ طے هے کۂ پاکستان کے سیاسی قوتیں اور عوام جمہوریت کا تسلسل چاہتے هیں البتہ ایک اور طرف سے بھی وضاحت لازمی هے تاکہ لوگوں کے دلوں انکے بارے میں جو خدشات هیں وه دور هو جائیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔