02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

اپوزیشن جماعتوں کا جمہوریت کے تحفظ کا عزم

اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ پی پی آئی فوٹو۔
اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ پی پی آئی فوٹو۔

رائے ونڈ: اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کے روز جمہوریت کے تحفظ کا عزم اور بروقت انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے رائے ونڈ میں ہونے والے اجلاس میں جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دینے کا عزم کیا گیا۔

اجلاس میں شریک تمام جماعتوں اور رہنماؤں نے بروقت انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا اور عام انتخابات کا التوا کسی صورت برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا۔

اجلاس میں ہر حال میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا عزم بھی کیا گیا۔

اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت اقتدار کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت کے لئے سرگرم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ عوام جمہوریت کے تحفظ کے لئے ڈٹ گئے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کرتی تو حالات مختلف ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام جماعتیں کسی بھی غیر آئینی اقدام کیخلاف بھرپور مزاحمت کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب عام انتخابات میں تاخیر کے بجائے ان کے انعقاد کا  فوری اعلان کرے۔

امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے مطابق، غیر جمہوری قوتوں کو کوئی موقع فراہم نہیں کرنا چاہیئے۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ سیاست میں 'مسخروں' کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔

کانفرنس میں طلال اکبر بگٹی، محمود خان اچکزئی، حامد ناصر چٹھہ، ہارون اختر، غلام مصطفی کھر سمیت اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

Israr Muhammad
16 جنوری, 2013 20:51
شیح الاسلام کے مارچ کےحوالے سے عدالت اعظمۂ کی وضاحت کے بعد سپریم کورٹ کے وزیراعظم کے بارے حکم اور مارچ کے ربط حوالے سے جو شکوک وشبہات پیدا هوگئے تھے اب حتم هو چکے هیں اور آج تمام سیاسی جماعتوں کا ایک واضح اور مشترکہ موقف اس بات کی دلیل هے کۂ تمام پاکستانی انتخابات کے زریعے تبدیلی چاہتے هیں کسی دوسرے طریقے سے نہیں اور یۂ طے هوجکی هے کۂ پاکستان کے سیاسی قوتیں اور جمہوریت کا تسلسل چاہتے هیں البتہ ایک اور طرف سے بھی وضاحت لازمی هے تاکہ لوگوں کے دلوں انکے بارے میں جو خدشات هیں وه دور هو جائیں
Israr Muhammad
16 جنوری, 2013 20:54
شیح الاسلام کے مارچ کےحوالے سے عدالت اعظمۂ کی وضاحت کے بعد سپریم کورٹ کے وزیراعظم کے بارے حکم اور مارچ کے ربط حوالے سے جو شکوک وشبہات پیدا هوگئے تھے اب حتم هو چکے هیں اور آج تمام سیاسی جماعتوں کا ایک واضح اور مشترکہ موقف اس بات کی دلیل هےکۂ تمام پاکستانی انتخابات اور ووٹ کے زریعے تبدیلی چاہتے هیںکسی دوسرے طریقے سے نہیں اور یۂ طے هے کۂ پاکستان کے سیاسی قوتیں اور عوام جمہوریت کا تسلسل چاہتے هیں البتہ ایک اور طرف سے بھی وضاحت لازمی هے تاکہ لوگوں کے دلوں انکے بارے میں جو خدشات هیں وه دور هو جائیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟