19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہندوستانِ، پاکستان کشیدگی کم کرنے پر متفق

دونوں ممالک کے سینیئر فوجی حکام کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے پر مفاہمت ہوگئی ہے، ترجمان انڈین فوج۔ اے پی فوٹو۔
دونوں ممالک کے سینیئر فوجی حکام کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے پر مفاہمت ہوگئی ہے، ترجمان انڈین فوج۔ اے پی فوٹو۔

نئی دہلی: ہندوستانی فوج اور پاکستان کے درمیان کشمیر میں ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد بڑھنے والی کشیدگی کو کم کرنے پر مفاہمت ہوگئی ہے۔

اے یف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، انڈین فوج کے ترجمان جگدیپ داہیہ نے کہا ہے کہ 'دونوں ممالک کی ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرلز کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے پر مفاہمت ہوگئی ہے'

داہیہ کے مطابق، دونوں ممالک کے سینیئر فوجی حکام کے درمیان ٹیلی فون پر دس منٹ گفتگو ہوئی جس میں یہ معاہدہ طے پایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گفتگو صبح دس بجے ہوئی جبکہ ڈی جی ایم او پاکستان کا کہنا ہے کہ فائر بندی نہ توڑنے کے سخت احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

داہیہ نے بھی ان ہی کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے بھی فائر بندی کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، انہوں نے ہمیشہ جوابی کارروائی کی ہے۔

ترجمان نے ہندوستان کے ڈی جی ایم او جنرل ونود بھاٹیہ اور انکے پاکستان ہم منصب جنرل اشفاق ندیم کے درمیان ہوئی اس گفتگو کی مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

اس حصے سے مزید

تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وفاقی حکومت نے تحفظ پاکستان بل 2014 کو سینیٹ میں پیش کر دیا ہے۔

بلوچستان کی ترقی کیلئے 1.6 ارب ڈالر مختص

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ خود ان منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔

پاکستانی فوج قومی اثاثہ ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع نے گزشتہ بیان پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ مضبوط اور قابل احترام فوج قوم کا اثاثہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔