24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

حکومت اور قادری کے درمیان مذاکرات جاری

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سترہ جنوری کو لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں۔ اے ایف پی فوٹو۔
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سترہ جنوری کو لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں۔ اے ایف پی فوٹو۔

اسلام آباد: حکومتی ٹیم تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کے لیے ڈی چوک پہنچ گئی۔

 مذاکراتی ٹیم میں افراسیاب خٹک، قمر زمان کائرہ، فاروق نائیک، امین فہیم، خورشید شاہ، مشاہد حسین سید، چوہدری شجاعت حسین، بابرغوری اور فاروق ستار افراد شامل ہیں۔

اس سے قبل ڈاکٹر قادری نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلیے تین بجے تک کی ڈیڈ لائن میں مزید 45 منٹ کا اضافہ کردیا تھا۔

ڈان نیوز کے مطابق، انکا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم نے 45 منٹ مانگے تھے جو انہوں نے دے دیے ہیں اور اب مذاکرات 3:45 پر ہوں گے۔

جمعرات کو دھرنے کے چوتھے روز اپنے خطاب کے دوران انکا کہنا تھا کہ کچھ دیر بعد عوام اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو آگے کے لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ اب مذاکرات صرف صدر مملکت آصف علی زرداری سے ہوں گے اور یہ مذاکرات کا آخری موقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج معرکے کا آخری دن ہے، کل دھرنا نہیں ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق، اس ریلی میں تقریباً پچیس ہزار افراد شامل ہیں جو کہ موجودہ حکومت کے دور کی سب سے بڑی ریلی ہے۔

 اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کے روز جمہوریت کے تحفظ کا عزم اور بروقت انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

 حزب اختلاف کی جماعتوں کے رائے ونڈ میں ہونے والے اجلاس میں جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دینے کا عزم کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز رحمان ملک نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دھرنے کے شرکا کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا پلان تیار کرلیا گیا ہے لیکن کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

تاہم صدر زرداری نے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء پر طاقت استعمال کرنے کے امکانات کو مسترد کردیا تھا اور رحمان ملک پر برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

Mohsin
17 جنوری, 2013 16:57
100%
ASHRAF
18 جنوری, 2013 06:12
Zardari is still here as a boss. Qadri sb looser.................. Zadari sb smart man.....................
amjad
18 جنوری, 2013 08:30
may pak live long
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟