18 ستمبر, 2014 | 22 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

حکومت اور قادری کے درمیان مذاکرات جاری

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سترہ جنوری کو لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں۔ اے ایف پی فوٹو۔
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سترہ جنوری کو لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں۔ اے ایف پی فوٹو۔

اسلام آباد: حکومتی ٹیم تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کے لیے ڈی چوک پہنچ گئی۔

 مذاکراتی ٹیم میں افراسیاب خٹک، قمر زمان کائرہ، فاروق نائیک، امین فہیم، خورشید شاہ، مشاہد حسین سید، چوہدری شجاعت حسین، بابرغوری اور فاروق ستار افراد شامل ہیں۔

اس سے قبل ڈاکٹر قادری نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلیے تین بجے تک کی ڈیڈ لائن میں مزید 45 منٹ کا اضافہ کردیا تھا۔

ڈان نیوز کے مطابق، انکا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم نے 45 منٹ مانگے تھے جو انہوں نے دے دیے ہیں اور اب مذاکرات 3:45 پر ہوں گے۔

جمعرات کو دھرنے کے چوتھے روز اپنے خطاب کے دوران انکا کہنا تھا کہ کچھ دیر بعد عوام اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو آگے کے لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ اب مذاکرات صرف صدر مملکت آصف علی زرداری سے ہوں گے اور یہ مذاکرات کا آخری موقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج معرکے کا آخری دن ہے، کل دھرنا نہیں ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق، اس ریلی میں تقریباً پچیس ہزار افراد شامل ہیں جو کہ موجودہ حکومت کے دور کی سب سے بڑی ریلی ہے۔

 اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کے روز جمہوریت کے تحفظ کا عزم اور بروقت انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

 حزب اختلاف کی جماعتوں کے رائے ونڈ میں ہونے والے اجلاس میں جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہونے دینے کا عزم کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز رحمان ملک نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دھرنے کے شرکا کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا پلان تیار کرلیا گیا ہے لیکن کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

تاہم صدر زرداری نے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء پر طاقت استعمال کرنے کے امکانات کو مسترد کردیا تھا اور رحمان ملک پر برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔

اس حصے سے مزید

رحمن ملک کا جہاز سے اتارے جانے پر دہشت گردی کے مقدمہ کا مطالبہ

پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں انہوں نےمطالبہ کیاجبکہ دیگرارکان نےدھرنا دینے والوں کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی تنقید کی۔

عمران خان کو این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ تک رسائی دینے کا فیصلہ

لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے عمران خان کو شکست دی تھی۔

وزیراعظم کیخلاف پی اے ٹی کے دو کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج

مقدمے میں وزیراعلیٰ پنجاب، وزیرداخلہ، وزیر ریلوے، آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلٰی سرکاری حکام کو نامزد کیا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

Mohsin
17 جنوری, 2013 16:57
100%
ASHRAF
18 جنوری, 2013 06:12
Zardari is still here as a boss. Qadri sb looser.................. Zadari sb smart man.....................
amjad
18 جنوری, 2013 08:30
may pak live long
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔