26 جولائ, 2014 | 27 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

حکومت سے معاہدے کے بعد طاہرالقادری کا لانگ مارچ ختم

ڈاکٹر طاہرالقادری انتہائی بائیں جانب نظر آرہے ہیں جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین میں سید مشاہد حسین، قمرزمان کائرہ اور فاروق ایچ نائیک نمایاں ہیں۔ اے ایف پی تصویر
ڈاکٹر طاہرالقادری انتہائی بائیں جانب نظر آرہے ہیں جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین میں سید مشاہد حسین، قمرزمان کائرہ اور فاروق ایچ نائیک نمایاں ہیں۔ اے ایف پی تصویر

اسلام آباد: تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور حکومتی وفد کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق جمعرات کی شام کو طے پانے والے اس معاہدے پر گھنٹوں تک طویل مذاکرات کئے گئے اور تین صفحات پرمبنی اس معاہدے پروزیرِ اعظم نے دستخط کردیئے ہیں۔ معاہدےکو ' اسلام آباد لانگ مارچ  اعلامیہ' کا نام دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت کو معاہدے اور مذاکرات کیلئے آج کی ڈیڈلائن دی تھی ۔

طاہرالقادری نے اس موقع پر معاہدے کو پوری قوم کیلئے ایک خوشخبری قرار دیا ہے۔

مذاکرات میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے پیش کئے گئے چار نکات پر بحث کی گئی جس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات، قمر زمان کائرہ، وزیرِ مملکت برائے قانون فاروق ایچ نائیک، سید مشاہد حسین، فاروق ستار ، مخدوم امین فہیم اور دیگر نے حصہ لیا ۔

معاہدے کی تیاری کے بعد اسے دستخط کیلئے وزیرِ اعظم ہاؤس لے جایا گیا جہاں وزیرِ اعظم نے معاہدے پر دستخط کئےجبکہ معاہدے پر مذاکراتی ٹیم میں شامل تمام افراد پہلے ہی دستخط کرچکے تھے۔

مذاکراتی ٹیم معاہدے پر دستخط کے بعد اس کی دستاویز لے کر ڈی چوک اسلام آباد پہنچی جہاں مذاکراتی ٹیم کے اراکین نے مختصر تقریر کی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی مختصر تقریر میں کئی روز سے جاری دھرنے میں موجود تمام افراد کو مبارکباد دی۔

اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلیئریشن کے اہم نکات

اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلیئریشن میں پانچ اہم نکات پر اتقاقِ رائے ہوا ہے جن میں سے چار کا تعلق براہِ راست ڈاکٹر طاہرالقادری کے چار نکات سے ہے جبکہ ایک کا تعلق طاہرالقادری اور تحریک منہاج القرآن سے وابستہ افراد پر مقدمات سے ہے۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی سولہ مارچ سے قبل تحلیل کردی جائے گی، تاکہ نوے دن میں انتخابات کرائے جاسکیں۔ آئین کے ارٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت ایک ماہ کے اندر الیکشن کمیشن انتخابی امیدواروں کی چھان بین کرے گا اور کوئی بھی امیدوار الیکشن کمیشن کی جانب سے اجازت کے بغیر اپنی انتخابی مہم شروع نہیں کرسکے گا۔

دوسرے نکتے کی رو سے حکومت اور تحریک منہاج القرآن کے درمیان مکمل رائے اور اتفاق کے بعد نگراں وزیرِ اعظم کے لئے دونام باہمی طور پر پیش کئے جائیں گے۔

تیسرا نکتہ  الیکشن کمیشن کی اصلاحات پر مبنی ہے جس کی پہلی میٹنگ 27 جنوری کو بارہ بجے منہاج القرآن سیکریٹیریٹ اسلام آباد میں ہوگی۔اس موقع پر وفاقی وزیربرائے قانون فاروق ایچ نائیک کے ساتھ ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن ، فرخ نسیم ، ندیم آفریدی اور ڈاکٹر خالد رانجھا شرکت کریں گے اور الیکشن کمیشن اصلاحات پر غور ہوگا۔

چوتھے نکتے کے تحت باہمی طور پر طے کی جانے والی الیکشن کمیشن اصلاحات پر انتخابات میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

پانچواں نکتے کے تحت لانگ مارچ کے خاتمے کے بعد طاہرالقادری اور منہاج القرآن کے کارکنوں پر قائم مقدمات ختم کئے جائیں گے اور کسی کو بھی کسی قسم کی امتیازی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

معاہدے کی دیگر تفصیلات

معاہدے پر جن افراد نے دستخط کئے ان میں وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف، ڈاکٹر طاہرالقادری اور مذاکراتی وفد میں شامل چوہدری شجاعت حسین، فاروق ایچ نائیک، مخدوم امین فہیم، سید خورشید شاہ، قمرزمان کائرہ، فاروق ایچ نائیک، مشاہد حسین، فاروق ستار، بابر غوری، افراسیاب خٹک اور عباس آفریدی شامل ہیں۔

اس حصے سے مزید

پیپلز پارٹی کی اسلام آباد فوج کے حوالے کرنے کی مخالفت

فرحت اللہ بابر نے کہا ہےکہ حکومتی فیصلے سے سنگین نتائج آسکتے ہیں،اس سے اخذ کیا جائے گا کہ سول انتظامیہ ناکام ہو گئی

اسلام آباد کو تین ماہ کیلئے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت یکم اگست سے تین ماہ کے لیے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا، چوہدری نثار۔

اسلام آباد فوج کے حوالے کرنا چوہدی نثار کی ناکامی قرار

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہےکہ جن لوگوں سے ایک شہر نہیں سنبھل سکتا وہ ملک کیا سنبھالیں گے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (8)

Israr Muhammad
17 جنوری, 2013 18:11
5دن اپنے لوگوں کو حوار کرنے کے بعد مداری کوئی کھیل دکھائے بغیر اسلام آباد سے رخست هوگیا اور وه بھی رسوائی کے ساتھ البتہ پیسوں کا معلوم نہیں کۂ ملے یا نہیں شیح الاسلام کو معائدہ اسلام اباد مبارک هو
Israr Muhammad
17 جنوری, 2013 18:44
مبارک هو مبارک هو آپ کو فتح نصیب هوا قادری صاحب دس لاکھ کے هجوم کے باوجود تنہا هوچکۓ تھے انہوں نے آج مارچ ختم کرنا تھا ایک گنٹهے میرا سٹیج وہاں هو چینل بخال کرو بجلی چالو کرو جیسے خکم جاری کرنا شیح الاسلام تو دو دن بادشاہ بن چکے تھے لیکن 16جنوری کے بعد جب سے سیاسی لیڈروں کا موقف واضح هوگیا تو قادری کے فرشتوں نے بھی ان سے هاتھ اٹها دیا تھا اور قادری کو اپنے لوگوں کی فکر ستانے لگی
سید انورجاویدہاشمی فری لانسن
17 جنوری, 2013 20:39
لانگ مارچ کے اخراجات کا حساب کتاب نہ مانگا جائے کسی خون خرابے کے بغیر افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے تمام شرکائے مذاکرات کی کام یابی کے بعد الزامات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے،طنز و تضحیک سے گریز کیا جائے ملک بھر میں امن و امان کے لیے راست اقدامات کئے جائیں،ٹارگیٹ کلنگ،جلائو،گھیرائو دکانیں،سی این جی پٹرول پمپس ٹرانسپورٹ کی بندش ختم کی جائے
AWAIS
18 جنوری, 2013 02:46
JO HOWA ACHA HOWA ,AB HUDA RA DR SAHIB BE SATH NA KAHI MIL JANY
AWAIS
18 جنوری, 2013 02:51
WO HI CAMAR ZUMAN QAERA JO DR SAHIB KI NAKALY OTAR RAHA THA WO KAL IS TARA DR SAHIB SY MIL RAHA THA JASSY KAB KY BICHRY MILY HOO. DR SAHIB AP KO CHAIY THA JAB MUZAKRAAT HO RAHY THAY TO SATH RECORDING LAGA LATY OR PHER AWAM KO SUNATY TA KAY HAMY BE PATA CHALY ASLIYT MAI KAY KAY BATIAN HOI HANA@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
AWAIS
18 جنوری, 2013 02:53
PLZ MUJY REPALY ZURUR CHAIIIIIIIIIII
israr
18 جنوری, 2013 11:38
ya tu Shaihul Islam sey pucha jay ke inhu nain sabiqa hukumrano se ba kiyon ke our Qadree se ye be pucha jaye k inhu nai bankar mai muzakrat kiy
Israr Muhammad
18 جنوری, 2013 17:56
قادری صاحب یزیدیت (بقول انکے) سے معایده کرکے اپنی سیاست بچا کر واپس هو ئے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔