23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں وزیرستان کے برابراسلحہ موجود: گبول

پی پی پی رہنما، نبیل گبول. ۔ فائل تصوی
پی پی پی رہنما، نبیل گبول. ۔ فائل تصوی

لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے ان کے مسلم لیگ نون میں شمولیت کی خبروں کی تردید کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ نون میں شامل نہیں ہورہے اور ان کے شریف برادران سے خاندانی تعلقات ہیں۔

لاہورمیں نوازشریف سے میاں عباس شریف کی وفات پرتعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت انہوں نے کہا کراچی میں وزیرستان کے برابراسلحہ موجود ہے اور جرائم پیشہ عناصر منظم ہوچکے ہیں۔

نون لیگ میں شمولیت کے سوال پرنبیل گبول نے کہا وہ  ابھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک صدر نہیں کہیں گے پارٹی نہیں چھوڑیں گیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سیاستدانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ اس لیے کراچی کے حالات پر ایم کیو ایم بھی پریشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک نصیراللہ بابر جیسا آپریشن نہیں ہوگا امن ممکن نہیں ہوسکے گا۔

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ کراچی میں خونی انتخابات ہونے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی جماعت کے سوا ہر جگہ عزت ہے۔

اس حصے سے مزید

گورنر پنجاب کا شریف برادران سے اختلافات کی تردید

میں مستعفی نہیں ہورہا، اس حوالے سے رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ لندن سے واپسی پر میں استعفیٰ دے دوں گا۔

جاوید ہاشمی کا ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان

جاوید ہاشمی نے شاہ محمود قریشی کو انتخاب لڑنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ شہر فیصلہ کرے گا کہ کون داغی سیاستدان ہے۔

کارکنوں کی گرفتاری سے روکنے کے لیے آئی جی پی کا حکم تاخیر سے ملا

پنجاب کے انسپکٹر جنرل نے ایسے کسی اقدام پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی، لیکن راولپنڈی میں اب بھی میں یہ سلسلہ جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-