28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں وزیرستان کے برابراسلحہ موجود: گبول

پی پی پی رہنما، نبیل گبول. ۔ فائل تصوی
پی پی پی رہنما، نبیل گبول. ۔ فائل تصوی

لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے ان کے مسلم لیگ نون میں شمولیت کی خبروں کی تردید کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ نون میں شامل نہیں ہورہے اور ان کے شریف برادران سے خاندانی تعلقات ہیں۔

لاہورمیں نوازشریف سے میاں عباس شریف کی وفات پرتعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت انہوں نے کہا کراچی میں وزیرستان کے برابراسلحہ موجود ہے اور جرائم پیشہ عناصر منظم ہوچکے ہیں۔

نون لیگ میں شمولیت کے سوال پرنبیل گبول نے کہا وہ  ابھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک صدر نہیں کہیں گے پارٹی نہیں چھوڑیں گیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سیاستدانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ اس لیے کراچی کے حالات پر ایم کیو ایم بھی پریشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک نصیراللہ بابر جیسا آپریشن نہیں ہوگا امن ممکن نہیں ہوسکے گا۔

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ کراچی میں خونی انتخابات ہونے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی جماعت کے سوا ہر جگہ عزت ہے۔

اس حصے سے مزید

راولپنڈی میں ن لیگ تقسیم

راولپنڈی میں سے سردار نسیم گروپ اور حنیف عباسی گروپ کے درمیان رقابت اب ایک کھلا راز بن چکی ہے۔

چکوال کی مشہور برفی اور اس کی پچاس سالہ روایت

چکوال جانے والے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ واپسی پر نثار ہوٹل کی لذیذ برفی بطور سوغات لے کر آئیں گے۔

گوجرانوالہ: مبینہ توہین مذہب پر تین احمدی ہلاک

مشتعل ہجوم نے فیس بک پر مبینہ ’توہین آمیز مواد کی اشاعت‘ کے بعد احمدیوں کے 5 گھر نذرِ آتش کر دیے، رپورٹ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔