20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

الیکشن: پی پی، ن لیگ سے معاہدے کی خواہش مند

.۔ —فائل تصویر
.۔ —فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کو جہاں نگران سیٹ اپ اور انتخابی شیڈول کے اعلان میں ہچکچاہٹ پر تنقید کا سامنا ہے تو وہیں اس  حوالے سے حکمران جماعت کو کچھ تحفظات بھی ہیں۔

پی پی پی قیادت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری مسلم لیگ ن سے معاہدے سے قبل تاریخوں کا اعلان نہیں چاہتے۔

اس کے علاوہ پی پی پی نگران وزیر اعظم کے امور سنبھالنے سے پہلے الیکشن شیڈول کا اعلان بھی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس طرح موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی اتھارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہاں تک کہ حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ معاہدے میں بھی کوئی واضح تاریخ دینے کے بجائے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ قومی اسمبلی کو اپنی پانچ سالہ مدت کے خاتمے پر سولہ مارچ سے قبل تحلیل کر دیا جائے گا۔

جس کے بعد الیکشن کمیشن نوّے دنوں کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہو گا۔

اس صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ پی پی پی انتخابات کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے۔

صدر زرداری اور پی پی پی رہنماؤں کی گزشتہ کئی ہفتوں سے ہر طرف سے مذمت کی جارہی ہے کہ وہ کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہ کر کے جان بوجھ کر انتخابات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔

بہت سوں کا خیال ہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین اگر انتخابی شیڈول کا پہلے سے اعلان کر دیتے تو ڈاکٹر قادری کے لانگ مارچ کو اہمیت ہی نہ ملتی۔

اپوزیشن جماعتیں بھی لاہور میں مشترکہ طور پر حکومت سے ملک میں نگران سیٹ اور انتخابی شیڈول کی تاریخوں کے فوری اعلان کا مطالبہ کر چکی ہیں جبکہ عمران خان بھی اسمبلیوں کی فوری تحلیل اور جلد انتخابات کے حامی ہیں۔

صدر زرداری کے ایک قریبی معتمد نے ڈان کو بتایا کہ جب تک پی پی پی نگران سیٹ اپ کے تمام پہلوؤں پر ن لیگ سے کوئی معاہدہ نہیں کر لیتی اس وقت تک حتمی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'دونوں جماعتیں جلد از جلد نگران سیٹ لانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں،اسی لیے تاریخوں کے اعلان میں دیر ہو رہی ہے'۔

پی پی پی کے اس رہنما کے مطابق، اگر ان کی پارٹی مرکز میں اپنی حکومتی معیاد مکمل کرنا چاہتی ہے تو ن لیگ بھی پنجاب حکومت میں یہی کچھ چاہتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کہ نگران سیٹ اپ کے انتخاب اور الیکشن کے حوالے سے صدر زرداری کی جانب سے قائم کی جانے والی چار رکنی کمیٹی کے اپوزیشن سے مذاکرات کے بعد اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ صدر زرداری نے اس مقصد کے لیے رواں ماہ سید خورشید احمد شاہ، سینیٹر رضا ربانی، وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور نذر محمد گوندل پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔

دوسری جانب، ن لیگ کے رہنما اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف آٹھ اپریل کو اپنی مدت مکمل کرنے والی صوبائی حکومت کی باگ ڈور اتنی جلدی نگران سیٹ اپ کے حوالے کرنے پر رضا مند نظر نہیں آتے۔

ڈان سے بات چیت کرنے والے پی پی پی کے رہنما نے تعجب ظاہر کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف سے نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی پر مشاورت کا عمل شروع نہیں کیا، حالانکہ اٹھارویں ترمیم انہیں ایسا کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حیران کن طور پر ن لیگ نے نگران وزیر اعظم کے لیے تو نام تجویز کر دیے ہیں لیکن وہ پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کے معاملے پر خاموش ہے۔

واضح رہے کہ ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی انتخابات سے قبل پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے میں مرکز کے ساتھ جانے پر پابند نہیں۔

پنجاب میں اس وقت کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ وہ جانے سے پہلے ان کا افتتاح خود کریں۔

اس حصے سے مزید

ناقص انتخابی سیاہی کے استعمال پر اداروں کے ایک دوسرے پر الزامات

ای سی پی نے پی سی ایس آئی آر کی جانب سے فراہم کردہ سیاہی کے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

نیا آئی ایس آئی چیف، وزیراعظم کے لیے مشکل انتخاب

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام یکم اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔

'دھرنوں کے خلاف مذمتی قرارداد زرداری کی منظوری کے بعد پیش ہوئی'

پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ اصرار کیا گیا کہ وہ اس کی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے منظوری لیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔