19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

فرینکلن کی بدولت کیویز ایک وکٹ سے فتحیاب

نیوزی لینڈ کے آل راونڈر جیمس فرینکلن کا فاتحانہ انداز۔ – اے ایف پی فوٹو

پارل: نیوزی لینڈ نے پہلے ایک روزہ میچ میں دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد ساوتھ افریقہ کو ایک وکٹ سے شکست دیکر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

نیوزی لینڈ کی اننگ کے ہیرو جیمز فرینلکلن تھے جنہوں نے آخری تین کھلاڑیوں کیساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے ایک سو چار رنز کا اضافہ

کیا اور 47 رنز کی شاندار اننگ کھیتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک اوکٹ کی ناممکن فتح سے ہمکنار کرادیا۔

نیوزی لینڈ کی اننگ کا آغاز بھی مایوس کن تھا اور صرف 21 رنز پر اس کے تین مستند بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے، روب نکول 4، مارٹن گپٹل صفر اور کین ولیمسن 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد بی جے واٹلنگ اور برینڈن میک کولم نے چوتھی وکٹ کیلیے 52 رنز جوڑ کر مجموعہ 73 تک پہنچایا تاہم اس موقع پر برینڈن میک کولم 26 رنز بنا کر کلین ویلڈٹ کا شکار بن گئے۔

اسکور میں آٹھ رنز کے اضافے سے جیف ایلیٹ ایک رن بنا کر کلین ویلڈٹ کی دوسری وکٹ بن گئے۔

واٹلنگ نے فرینکلن کے ساتھ مل کر کے اسکور کو 105 رنز تک پہنچا یا تاہم اسی اسکور پر 45 رن بنانے والے واٹلنگ ہمت ہار کر ریان میک لیرن کی وکٹ بن گئے جبکہ دو گیندوں بعد جمی نیشام بھی میک لیرن کی گیند پر پویلین چلتے بنے۔

اس موقع پر جیمز فرینکلن نے اپنی ٹیم کی نیا پار لگانے کا بیڑا اٹھایا۔

انہوں نے پہلے ناتھن میک کولم کے ساتھ اسکور کو 140 تک پہنچایا اور پھر اس کے بعد کیل ملز کے ساتھ اسکور میں 47 رنز جوڑے۔

جب 187 رنز پر نیوزی لینڈ کی نویں وکٹ گری تو نیوزی لینڈ کی جیت کی امید تقریباً دم توڑ چکی تھی لیکن فرینکلن نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور چار اوورز قبل ہی اپنی ٹیم کو ایک وکٹ کی حیران کن فتح سے ہمکنار کرا دیا۔

فرینکلن 47 گینوں کے ساتھ ناقابل شکست رہے اور انہیں اس فتح گر اننگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی چنا گیا۔

اس سے قبل ساؤتھ افریقہ کی پوری ٹیم صرف دوسو آٹھ رنز بنا کر آوٹ ہوگئی تھی۔

بولینڈ پارک پارل میں ہفتے کے روز کھیلے جانے والے اس میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کولم نے ٹاس جیت کر پہلے حریف ٹیم کو بلے بازی کی دعوت دی۔

جنوبی افریقی اننگ کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا اور صرف 37 رنز پر اس کے تین مستند بلے باز پویلین لوٹ گئے۔

ہاشم آملا 13 جبکہ گریم اسمتھ اور اے بی ڈی ویلیئرز سات سات رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔

اس کے بعد کولن انگرام اور فاف ڈیو پلیسی نے چوتھی وکٹ کیلیے 46 رنز جوڑ کر کچھ سنبھالا دینے کی کوشش کی ہی تھی کہ 83 کے اسکور پر انگرام 29 رنز بنانے کے بعد کین ولیمسن کا شکار بن گئے۔

دوسری اینڈ پہ موجود ڈیو پلیسی نے نئے بلے باز ڈی کوک کے ساتھ اسکور کو 119 تک پہنچایا تاہم اس موقع پر 18 رنز بنانے والے کوک اپنے ساتھی کو دھوکا دیتے ہوئے فرینکلن کی پہلی وکٹ بن گئے۔

ڈیو پلیسی نے شاندار فارم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ریان میک لیرن کے ساتھ اسکور کو 178 تک پہنچا دیا، اس اسکور پر میک لیرن 33 رنز کی مزاحمتی اننگ کھیلنے کے بعد ولیمسن کی دوسری وکٹ بن گئے۔

اسکور میں ایک رن کے اضافے سے روبن پیٹرسن، مچل کلنگن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

جنوبی افریقہ کو سب سے بڑا دھچکا 182 کے اسکور پر اس وقت لگا جب ڈیو پلیسی 57 رنز کی خوبصورت اننگ کھیلنے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

اس کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم اسکور میں کچھ خاص اضافہ نہ کر سکی اور پوری ٹیم 208 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

کیویز کی جانب سے ولیمسن اور کلینیگن نے چار چار کھلاڑیوں کو میدان بدر کیا۔

اس میچ میں فتح کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ نے سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔

اس حصے سے مزید

پی سی بی کا کوچ کی تلاش کے لیے اشتہار

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جمعہ کو ہیڈ کوچ، فیلڈنگ کوچ کے ساتھ ساتھ اسپن باؤلنگ کوچ کے لیے بھی اشتہار دیا ہے۔

موجودہ دور میں دوسرا کی قانونی حیثیت کیا؟

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آف اسپنر ثقلین مشتاق نے موجودہ دور میں'دوسرا' کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوال کیا ہے۔

' میچ فکسرز کے ساتھ کام نہیں کرسکتا '

میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتا، اسی وجہ سے چیف سیلیکٹر کا عہدہ قبول نہیں کیا، راشد لطیف۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔