02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ترکی کی کرد باغیوں کو محفوظ انخلا کی ضمانت

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔

انقرہ: ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان ان کی حکومت تین دہائیوں سے کرد باغیوں کے ساتھ جاری تنازع کو حل کرنے کیلیے پرعزم ہیں اور اگر باغی ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ انہیں انخلا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

اردگان نے پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کے رہنماؤں سے خطاب میں کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مخلص اور سچے ہیں تو ہتھیار پھینک دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس ملک میں نہیں رہنا چاہتے تو آپ جس ملک بھی جانا چاہیں جا سکتے ہیں، آپ کو اس کی مکمل آزادی ہے، ہم آپ کو ضمانت دیتے ہیں کہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ جو کچھ ہماری سرحدوں پر ماضی میں ہو چکا ہے وہ دوبارہ نہ ہو۔

ترکی، ایران، شام اور عراق کے سرحدی علاقوں میں کرد اقلیت موجود ہے۔

ماضی میں جب پی کے کے نے شمالی عراق کی جانب جانے کوشش کی تھی تو اس وقت ان کا ترک سیکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا تھا، شمالی عراق میں پی کے کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ترک خفیہ ادارے اور جیل میں قید کرد لیڈر عبداللہ اوجلان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جس کا مقصد باغیوں کو غیر مسلح کرنا تھا۔

ترک میڈیا کا ماننا ہے کہ ان مذاکرات سے تقریباً تین دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جس میں اندازاً 45 ہزار سےزائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اردگان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آیا ہے کہ جب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شام کی سرحد کے قریب کرد باغیوں اور ترک سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں دو خواتین سمیت 6 باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترک وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے کرد بھائیوں کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں، ہم نے ان پر نہیں بلکہ دہشت گردوں پر بمباری کی تھی۔

واضح رہے کہ کردستان ورکرز پارٹی کو ترکی سمیت عالمی برادری کے زیادہ تر ملکوں نے دہشت گرد گروہ قرار دیا ہوا ہے۔

اس حصے سے مزید

'مکہ کی تعمیر نو: ' تاریخی حقائق کو مٹا دیا گیا

ناقدین کےمطابق "یہ مکہ نہیں بلکہ اس سے الگ کوئی جگہ ہے، یہ ٹاور اور اس کی روشنیاں بالکل لاس ویگاس کا منظر پیش کرتی ہیں"۔

اسرائیل:غزہ جارحیت میں حصہ لینےوالےفوجیوں کی خودکشی

فوجی گولانی بریگیڈ کے افسران 50روزہ جنگ کے دوران وہ کارروائی کاحصہ تھے مگر اس کے سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئے تھے۔

سعودی لڑکیوں کے والدین کے خلاف مقدمات

ان لڑکیوں کے والدین نے انہیں اپنی مرضی سے شادی کا حق دینے سے انکار کردیا تھا، اس طرح کے 383 مقدمات دائر کیے جاچکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟