21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ترکی کی کرد باغیوں کو محفوظ انخلا کی ضمانت

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔

انقرہ: ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان ان کی حکومت تین دہائیوں سے کرد باغیوں کے ساتھ جاری تنازع کو حل کرنے کیلیے پرعزم ہیں اور اگر باغی ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ انہیں انخلا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

اردگان نے پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کے رہنماؤں سے خطاب میں کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مخلص اور سچے ہیں تو ہتھیار پھینک دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس ملک میں نہیں رہنا چاہتے تو آپ جس ملک بھی جانا چاہیں جا سکتے ہیں، آپ کو اس کی مکمل آزادی ہے، ہم آپ کو ضمانت دیتے ہیں کہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ جو کچھ ہماری سرحدوں پر ماضی میں ہو چکا ہے وہ دوبارہ نہ ہو۔

ترکی، ایران، شام اور عراق کے سرحدی علاقوں میں کرد اقلیت موجود ہے۔

ماضی میں جب پی کے کے نے شمالی عراق کی جانب جانے کوشش کی تھی تو اس وقت ان کا ترک سیکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا تھا، شمالی عراق میں پی کے کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ترک خفیہ ادارے اور جیل میں قید کرد لیڈر عبداللہ اوجلان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جس کا مقصد باغیوں کو غیر مسلح کرنا تھا۔

ترک میڈیا کا ماننا ہے کہ ان مذاکرات سے تقریباً تین دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جس میں اندازاً 45 ہزار سےزائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اردگان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آیا ہے کہ جب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شام کی سرحد کے قریب کرد باغیوں اور ترک سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں دو خواتین سمیت 6 باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترک وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے کرد بھائیوں کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں، ہم نے ان پر نہیں بلکہ دہشت گردوں پر بمباری کی تھی۔

واضح رہے کہ کردستان ورکرز پارٹی کو ترکی سمیت عالمی برادری کے زیادہ تر ملکوں نے دہشت گرد گروہ قرار دیا ہوا ہے۔

اس حصے سے مزید

اسرائیل کا فلسطین پر مالی پابندیوں کا اعلان

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا فلسطینی افسروں اور وزیروں سے رابطہ نہ رکھنے کا حکم، فلسطینی سیل فون کمپنی کا سامان بھی ضبط۔

عسکری تنظیم کا ایرانی محافظ رہا کرنے کا دعویٰ

ان محافظوں کو پاکستانی سرحد کے قریب فروری میں جیش العدل نامی تنظیم نے اغوا کیا تھا۔

شامی جنگ: 'لبنان میں مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز'

یو این ایچ سی آر نے کہا کہ شامی مہاجرین کی تعداد لبنان کی آبادی کے چوتھائی حصہ کے برابر ہو گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔