25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

قادری، وفاقی حکومت کے درمیان معاہدہ عدالت میں چیلنج

ڈاکٹر طاہرالقادری انتہائی بائیں جانب نظر آرہے ہیں جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین میں سید مشاہد حسین، قمرزمان کائرہ اور فاروق ایچ نائیک نمایاں ہیں۔ اے ایف پی تصویر
ڈاکٹر طاہرالقادری انتہائی بائیں جانب نظر آرہے ہیں جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین میں سید مشاہد حسین، قمرزمان کائرہ اور فاروق ایچ نائیک نمایاں ہیں۔ اے ایف پی تصویر

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے درمیان ہونے والے معاہدے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

 یاد رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور حکومتی وفد کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پاگیا تھا جسکے بعد تحریک کے سربراہ نے لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 درخواست گزار شاہد اورکزئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایک غیر ملکی کے ساتھ معاہدہ کرکے وفاق نے اپنے انتظامی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

 انکا کہنا ہے کہ صدر پاکستان کی اجازت کے بغیر وفاق کو کسی معاہدے کی اجازت نہیں ہے۔

 شاہد اورکزئی نے استدعا کی ہے کہ عدالت معاہدے کو کالعدم قرار دے۔

 درخواست میں طاہرالقادری اور حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس حصے سے مزید

پاکستان کی صحافی فیض اللہ کی رہائی کیلئے صدر کرزئی سے اپیل

ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز رپورٹر فیض اللہ خان کو افغان سیکورٹی فورسز نے اپریل میں صوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا۔

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-