18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ملائیشیا میں ڈاکٹرعطاء الرحمان کے نام پرادارہ قائم ہوگا

dr-atta-dawn670
کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، ڈاکٹر عطاء الرحمان کو اعترافی شیلڈ پیش کررہے ہیں۔ ملائیشیا کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی مارا میں چار مارچ دوہزارتیرہ کو ڈاکٹر عطاء الرحمان کے نام پر ایک تحقیقی انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جارہا ہے۔ فائل تصویر سہیل یوسف/ ڈان ڈاٹ کام

کراچی: ملائیشیا کی بڑی جامعات میں سے ایک یونیورسٹی ، ممتاز پاکستانی سائنسداں ڈاکٹر عطاء الرحمان کےنام پر ایک تحقیقی ادارہ قائم کرے گی۔

' عطاء الرحمان انسٹی ٹیوٹ آف نیچرل پراڈکٹ ڈسکوری' (آرآئی این ڈی ) نامی اس انسٹی ٹیوٹ کو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی مارا ( یو آئی ٹی ایم) میں تعمیر کیا گیا ہے جس  کا افتتاح چار مارچ دو ہزار تیرہ کو ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیاجائے گا۔

ڈاکٹرعطاء الرحمان کو نیچرل پراڈکٹس پر بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا ہے جہاں وہ کانفرنس کا افتتاحی ' جیک کینن لیکچر' دیں گے اور ساتھ ہی ان کے نام سے معنون ادارے کا باضابطہ افتتاح بھی کیا جائے گا۔

ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتےہوئے عطاء الرحمان نے کہا کہ اسی یونیورسٹی نے 2011 میں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی تھی۔

مارچ 2011 میں یوآئی ٹی ایم کے وائس چانسلر، ڈاکٹر سوہل حامد ابوبکر نے کراچی یونیورسٹی میں انٹرنیشنل سینٹر فارکیمکل اینڈ باائیلوجیکل سائنسز ( آئی سی سی بی ایس) کی ایک تقریب میں اعلان کیا تھا کہ ان کی یونیورسٹی ڈاکٹر ڈاکٹرعطاء الرحمان کے نام پر ایک تحقیقی ادارہ قائم کرے گی۔

' آر آئی این ڈی مختلف شعبوں کیلئے مکمل پی ایچ ڈی پروگرام فراہم کرے گا ۔ ان شعبوں میں نامیاتی کیمیا، طبی کیمیا، بایو کیمسٹری، جینومکس، پروٹیومکس، بایو انفارمیٹکس، نیوروسائنس، پروٹیومکس، فارما لوجی، اور مالیکیولر میڈیسن شامل ہیں ۔ ساتھ ہی زمینی پودوں اور سمندری وسائل سے حاصل شدہ اہم اجزا پر خصوصی زوردیا جائے گا، ڈاکٹرعطاء الرحمان نے بتایا۔

پاکستان ۔ ملائشیا تعاون

یونیورسٹی ٹیکنالوجی مارا پاکستانی جامعات کے ساتھ مزید تعاون اور شراکت کے منصوبے رکھتی ہے۔

ملائیشیان کی کانفرنس میں یو آئی ٹی ایم اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( نسٹ) اور کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ ان دی ساؤتھ

( کامسیٹس) کے ساتھ تعاون کے معاہدوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوں گے۔

' یونیورسٹی ٹیکنالوجی مارا اور چار پاکستانی اداروں کے درمیان معمول کے تحت معاہدوں کی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔ ان اداروں میں نسٹ، کامسیٹس، یونیورسٹی آف بہاولپور اور کراچی میں انٹرنیشنل سینٹر فار کیمکل اینڈ اپلائیڈ بایو سائنسز شامل ہیں۔ ' ڈاکٹر عطاء الرحمان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا۔

پروفیسر ڈاکٹرعطاء الرحمان، رائل سوسائٹی کے فیلو ہیں اور اب تک نو سو تحقیقی مقالے تحریر کرچکے ہیں۔ ان کی  116 کتابیں امریکہ اور یورپ کےممتاز پبلشرز نے شائع کی ہیں۔ ڈاکٹرعطاء الرحمان یورپ سے شائع ہونے والے بارہ  اہم تحقیقی جرائد کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔ ان کی نگرانی میں 76 طالبعلم ڈاکٹریٹ کرچکے ہیں۔

وہ اسلامی ممالک کے واحد سائنسداں ہیں جنہیں یونیسکو کی جانب سے 1999 میں یونیسکو سائنس پرائز دیا گیا تھا۔ جرمنی نے انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمان کو  1983میں تمغہ امتیاز، 1991 میں ستارہ امتیاز، 1998 میں ہلالِ امتیاز  2002میں نشانِ امتیاز دیا گیا جو پاکستان کا بلند ترین سوِل ایوارڈ ہے۔ آپ اسلامی ممالک کے سائنس اکادمیوں کے نیٹ ورک کے سربراہ، اور تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز (ٹی ڈبلیو اے ایس) کے علاقائی نائب صدر کے علاوہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر ہیں

اس حصے سے مزید

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فارم کا مینیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

وزیر اعظم کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعظم کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔