17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

'شام پر حملہ ایران پر حملہ تصور کیا جائیگا'

فوٹو رائٹرز۔۔۔

دبئی: ایران کے سینئر گورنمنٹ آفیشل نے کہا ہے کہ اگر شام پر حملہ کیا گیا تو اسے ایران پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ایران شام کے صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حمایتی ہے جو تقریباً دو سال سے بغاوت سے برسرپیکار ہیں۔ ایران اس سے قبل بھی مغربی ملکوں کو اسد کیخلاف بغاوت میں مداخلت نہ کرنے کی وارننگ دے چکا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے مرکزی رہنما آیت اللہ خامنائی کے معاون علی اکبر ولایتی نے کہا کہ شام کا خطے میں مزاحمتی پالیسیوں کے فروغ میں انتہائی اہم اور بنیادی کردار ہے اور اسی وجہ سے شام پر کیا جانے والا کوئی بھی حملہ ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ستمبر میں ایرانی فوج کے ایک آفیشل نے بیان دیا تھا کہ اگر امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو ایران اس پر ایکشن لے گا۔

ایران مغربی اور علاقائی طاقتوں پر باغیوں کو مسلح کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے جبکہ دوسری جاغی ایران پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ بغاوت کو کچلنے اسد کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ایرانی انقلابی فورسز بھی شام بھیجی ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسرائیل کا فلسطین پر مالی پابندیوں کا اعلان

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا فلسطینی افسروں اور وزیروں سے رابطہ نہ رکھنے کا حکم، فلسطینی سیل فون کمپنی کا سامان بھی ضبط۔

عسکری تنظیم کا ایرانی محافظ رہا کرنے کا دعویٰ

ان محافظوں کو پاکستانی سرحد کے قریب فروری میں جیش العدل نامی تنظیم نے اغوا کیا تھا۔

شامی جنگ: 'لبنان میں مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز'

یو این ایچ سی آر نے کہا کہ شامی مہاجرین کی تعداد لبنان کی آبادی کے چوتھائی حصہ کے برابر ہو گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔