02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

افغانستان: خودکش دھماکے میں دس پولیس اہلکار ہلاک

فائل فوٹو رائٹرز۔۔۔

کابل: افغانستان کے شمال مشرقی شہر قندوز کے گنجان آباد علاقے میں ہفتے کو ہونے والے دھماکے میں کم از کم 10 پولیس اہلکار ہلاک اور 18 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے اکثریت شہریوں کی ہے۔

قندوز پولیس کے ترجمان سید سرور حسینی نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکے میں انسداد دہشت گردی کی پولیس کے سربراہ، ٹریفک پولیس کے سربراہ اور ان کے گارڈز سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 18 افراد زخمی بھی ہوئے جس میں 13 شہری اور 5 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عنایت اللہ خلیق نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تصدیق کی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجکر 20 منٹ پر ہوا۔

قندوز کے محکمہ صحت کے سربراہ سعد مختار کے مطابق دھماکے میں 19 افراد زخمی ہوئے۔

ابھی تک کسی نے بھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن ماضی میں طالبان عسکریت پر ان حملوں کی ذمے داری عائد کی جاتی رہی ہے۔

اس سے قبل ہفتے کو ہی جنوب مشرقی صوبے غزنی میں ہونے والے ایک اور خودکش دھماکے میں 2 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ جمعے کو صوبی کپیسا میں نیٹو کے کاررواں پر کار میں موجود ایک خودکش بمبار نے حملہ کر دیا تھا جس سے کم از کم پانچ شہری ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

جلال آباد: طالبان کا حملہ، چھ افراد ہلاک، پچاس زخمی

افغان حکام کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں، جبکہ حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

عبداللہ کے انکار پر افغان الیکشن کا آڈٹ معطل

ڈاکٹر غنی کی ترجمان کے مطابق انہیں اقوام متحدہ اور الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے، اور وہ اس آڈٹ کے نتائج تسلیم کریں گے۔

حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کی معلومات فراہم کرنے پر رقم بڑھادی گئی

حقانی نیٹ ورک کے چار رہنماؤں کیلئے 50،50 لاکھ ڈالرکی رقم مقرر، سراج الدین حقانی کیلئے رقم بڑھا کر ایک کروڑ ڈالر کردی گئی


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
04 فروری, 2013 14:19
ہماری دلی تعزیت، اور نيک دعائيں ان بہادر پولیس اہلکاروں کے سوگوار خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہيں جو کابل میں طالبان کی ايک دہشت گرد کارروائی میں جاں بحق ہوۓ۔ نہايت ہی پریشان کن ہے کہ ایسے ظالمانہ دہشتگرد حملے ميں وہ پولیس اور پاکستانی پولیس جوان جاں بحق ہوۓ جو ان غير انسانی درندوں کيخلاف ملک کا دفاع کررہے تھے۔ اس طرح کی سفاکانہ کارروائیوں سے ان کا حقيقی سیاہ چہرہ، برائی کی ذہنیت، اور دہشت گردی سے خطہ کو لاحق سنگین خطرہ واضح طور سے ظاہر ہوتا ہے۔ يہ ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ امریکی عوام اور امریکی انتظامیہ انتہا پسندوں کے خلاف افغانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دی گئی زبردست قربانیوں کا اور ملک کو اس عسکریت پسندی کی خوفناک قتل کی کارروائیوں کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنے کو دل سے قدر کرتے ہیں۔ ہم افغان اور پاکستانی عوام کے ساتھ ان غیر انسانی درندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ ميں ساتھ ساتھ کھڑے ہیں جو بلا امتیاز اور بغیر کسی پچھتاوے کے معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہيں۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔