03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

الیکشن کی تاریخ کا دس دن میں اعلان کردیا جائے گا، کائرہ

سربراہ منہاج القرآن ڈاکٹر طاہر القادری -- فائل فوٹو
سربراہ منہاج القرآن ڈاکٹر طاہر القادری -- فائل فوٹو

لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ انکی کوشش ہوگی کہ آئندہ آنے والے سات سے دس روز کے درمیان عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری اور حکومتی ٹیم کے درمیان اسلام آباد لانگ مارچ اعلامیہ کے بعد پہلی ملاقات لاہور میں اتوار کو ہوئی۔

قمرزمان کائرہ نے کہا کہ حکومت کی رائے میں الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کا تقرر آئین کے مطابق ہے۔

انکے مطابق، قانونی ماہرین نے بھی ارکان کا تقرر آئین کے مطابق قرار دیا ہے اور انہیں ہٹایا نہیں جاسکتا۔۔

انہوں نے کہا کہ ابھی حکومت برقرار ہے اور اسے فنڈز استعمال کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے اعلان کے بعد فعال ہوگا، اس کے بعد فنڈز کا استعمال روکا جاسکے گا۔

اس سے قبل پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اسمبلیاں حکومت سے ہونے والے معاہدے کے مطابق سولہ مارچ سے پہلے تحلیل ہونگی اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان سات سے دس دن میں کردیا جائے گا۔

ڈاکٹر قادری نے مذاکرات کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دو نکات کی تشریح پر اختلاف کے سوا تمام امور کی توثیق کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان بھی ہفتہ دس دن میں ہوگا۔

طاہر القادری نے بتایا کہ ان کی رائے میں الیکشن کمیشن کے چار ارکان کا تقرر آئین کے مطابق نہیں ہوا۔

انہوں نے انتخابی فضا بننے کے بعد مختلف ترقیاتی اور صوابدیدی فنڈز کا استعمال یکساں مواقع فراہم کرنے کی آئینی تقاضے سے متصادم قرار دیا اور ان کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا تاہم حکومت نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

اس حصے سے مزید

مناسب خوراک کی کمی اور تھکاوٹ انقلابیوں پر اثرانداز ہونے لگی

یہ بدقسمتی ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرین اس طرح کے مضر صحت ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، اور یہاں سے پندرہ سال تک دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔