25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

لائن آف کنٹرول پر بس سروس،تجارت دوبارہ شروع

۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ایف پی فوٹو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ایف پی فوٹو

سرینگر: ہندوستان کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے بعد بند کی جانے والی پاک ہندوستان بس سروس کو بحال کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو پاکستان سے 64 مسافروں نے جبکہ ضلع پونچھ، راولاکوٹ سے کشمیر میں (لائن آف کنٹرول) کنٹرول لائن کو 84 مسافروں نے عبور کیا۔

یہ سروس کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے 17 روز تک معطل رہنے کے بعد دو طرفہ کوششوں سے آج بحال ہوگئی۔

بس سروس بحال ہونے پر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے دونوں طرف کے عوام کو پریشانیاں اٹھانا پڑتی ہیں۔

واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں سے ہلاکتوں کے بعد یہ سروس بند کردی گئی تھی تاہم دونوں اطراف کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے ٹیلی فونک رابطوں میں ایل او سی پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

لائن آف کنٹرول پر تجارت منگل سے دوبارہ شروع ہوگی اس حوالے سے تمام تاجروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پونچھ راولاکوٹ سے پار کنٹرول لائن بس سروس کا آغاز 2005 میں ہوا تھا، جو کہ خطے میں تقسیم خاندانوں کے لیے ایک دوسرے سے ملنے کا ایک ذریعہ ہے.

اس حصے سے مزید

مظفر آباد: ٹرک مالکان نے کشمیر بس سروس کو روکنے کی دھمکی دے دی

ٹرک مالکان کا مطالبہ ہے کہ ہندوستانی کشمیر میں روکے گئے ڈرائیوروں کو ان کے ٹرک سمیت واپس آنے کی اجازت دی جائے۔

'وزیراعظم ہندوستان کے ساتھ یکطرفہ جھکاؤ سے گریز کریں'

حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ نواز شریف کشمیریوں کے جذبات کو اہمیت دیں۔

مظفرآباد: بس کھائی میں گرنے سے دس افراد ہلاک

حکام کے مطابق مسافر بس پیر کی صبح ایک سو پچاس میٹر گہری کھائی میں جا گری۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔