29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

دھرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، وٹو

منظور وٹو۔ - اے پی پی فوٹو
منظور احمد وٹو۔ - اے پی پی فوٹو

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ انہیں مسلم لیگ نون کے دھرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔

پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ چاروں صوبوں کے گورنرز کی تبدیلی کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے دھرنے کو غیر آئینی قرار دینے والی نون لیگ خود دھرنا دینے کا اعلان کر رہی ہے۔

انہوں نے دھرنے کے فیصلے کو مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

منظور وٹو نے کہا کہ گورنر ہٹانے کا مطالبہ درست نہیں، نگران سیٹ اپ میں بھی  گورنروں کے پاس اتھارٹی نہیں ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت جمہوریت پرمتفق ہے اور اس کا تسلسل آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مسلم لیگ ن نے پالیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے پارٹی نے سندھ میں اپوزیشن رہنماؤں کو ان کا ساتھ دینے کی دعوت دی ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ن لیگ کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم چند گھنٹوں بعد دھرنے میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس حصے سے مزید

تین سالہ بچی کے ریپ کا ملزم گرفتار

پولیس کے مطابق ملزم متاثرہ بچی کا کزن ہے۔

راولپنڈی میں ن لیگ تقسیم

راولپنڈی میں سے سردار نسیم گروپ اور حنیف عباسی گروپ کے درمیان رقابت اب ایک کھلا راز بن چکی ہے۔

چکوال کی مشہور برفی اور اس کی پچاس سالہ روایت

چکوال جانے والے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ واپسی پر نثار ہوٹل کی لذیذ برفی بطور سوغات لے کر آئیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔