03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

دھرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، وٹو

منظور وٹو۔ - اے پی پی فوٹو
منظور احمد وٹو۔ - اے پی پی فوٹو

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ انہیں مسلم لیگ نون کے دھرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔

پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ چاروں صوبوں کے گورنرز کی تبدیلی کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے دھرنے کو غیر آئینی قرار دینے والی نون لیگ خود دھرنا دینے کا اعلان کر رہی ہے۔

انہوں نے دھرنے کے فیصلے کو مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

منظور وٹو نے کہا کہ گورنر ہٹانے کا مطالبہ درست نہیں، نگران سیٹ اپ میں بھی  گورنروں کے پاس اتھارٹی نہیں ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت جمہوریت پرمتفق ہے اور اس کا تسلسل آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مسلم لیگ ن نے پالیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے پارٹی نے سندھ میں اپوزیشن رہنماؤں کو ان کا ساتھ دینے کی دعوت دی ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ن لیگ کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم چند گھنٹوں بعد دھرنے میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس حصے سے مزید

بہتر طرز حکمرانی میں پنجاب تمام صوبوں پر بازی لے گیا

چاروں صوبوں میں پنجاب سب سے آگے ہے جبکہ اس کے بعد دوسرے نمبر پر خیبرپختونخواہ ہے۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔