22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

دھرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، وٹو

منظور وٹو۔ - اے پی پی فوٹو
منظور احمد وٹو۔ - اے پی پی فوٹو

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ انہیں مسلم لیگ نون کے دھرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔

پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ چاروں صوبوں کے گورنرز کی تبدیلی کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے دھرنے کو غیر آئینی قرار دینے والی نون لیگ خود دھرنا دینے کا اعلان کر رہی ہے۔

انہوں نے دھرنے کے فیصلے کو مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

منظور وٹو نے کہا کہ گورنر ہٹانے کا مطالبہ درست نہیں، نگران سیٹ اپ میں بھی  گورنروں کے پاس اتھارٹی نہیں ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت جمہوریت پرمتفق ہے اور اس کا تسلسل آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مسلم لیگ ن نے پالیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے پارٹی نے سندھ میں اپوزیشن رہنماؤں کو ان کا ساتھ دینے کی دعوت دی ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ن لیگ کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم چند گھنٹوں بعد دھرنے میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس حصے سے مزید

عمران خان سیاسی خودکشی کے راستے گامزن ہیں، شہباز شریف

اراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عمران خان شارع دستور پر دستور کی دھجیاں بکھیرنا چاہتے ہیں۔

دھرنوں کے اخراجات کے لیے فنڈنگ کہاں سے ہورہی ہے؟

مسلم لیگ ن کے میڈیا کوآرڈینیٹر نے سوال کیا ہے کہ پینتس کروڑ روپے سے زیادہ کے اخراجات کی ادائیگی کون کررہا ہے۔

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی اور پی اے ٹی پر پابندی کی درخواست دائر

درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ دونوں جماعتوں پر آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت پابندی عائد کی جائے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔