22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، جنرل کیانی

Chief of the Army Staff General Ashfaq Parvez Kayani is ranked 28 on the Forbes list. – File photo by AP
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی۔ فائل فوٹو اے پی۔۔۔

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن وسلامتی کا خواہاں ہے جبکہ افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانا ضروری ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی سے افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ خان محمدی نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں پاک افغان دفاعی تعلقات سمیت سرحدی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان،افغانستان میں پائیدار امن وسلامتی کا خواہاں ہے۔

افغان وزیر دفاع نے کہا کہ کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانا ضروری ہے، دفاعی شعبے میں پاکستان سے رہنمائی لیتے رہیں گے۔

اس موقع پر دونوں ممالک نے دہشتگردی کو کچلنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

اس حصے سے مزید

اس سال 149 متاثرہ بچے پولیو ویکسین سے محروم رہے

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جب تک ایک وائرس بھی دنیا میں کہیں باقی ہے، وہ بچوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

کارکنوں کی گرفتاری سے روکنے کے لیے آئی جی پی کا حکم تاخیر سے ملا

پنجاب کے انسپکٹر جنرل نے ایسے کسی اقدام پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی، لیکن راولپنڈی میں اب بھی میں یہ سلسلہ جاری ہے۔

تحریک طالبان کا سابق ترجمان پاکستان کے حوالے

اکرام اللہ مہمند کو افغان نیشنل آرمی کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے اب پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-