17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نفرتوں کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم ناقابل قبول ہے، نواز شریف

قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف۔ فائل فوٹو۔۔۔

لاہور : مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کی تقسیم صوبے کی اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہونی چاہیے۔

ڈان نیوز کے مطابق پیر کے روز ماڈل ٹاون لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر  نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب، چوہدری نثار علی خان سمیت دیگر لیگی رہنماوں نے شرکت کی۔

میٹنگ میں ووٹر لسٹوں، حلقہ بندیاں اور ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا کہ نفرتوں کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم ناقابل قبول ہے پپلزپارٹی پنجاب کی تقسیم کا نعرہ سیاسی بنیادوں پر لگا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور صوبہ عوام کی آواز ہے پنجاب کی تقسیم صوبے کی اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہونی چاہیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا ک صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بننے چاہیے  بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جہاں صوبوں کی ضرورت ہے وہاں صوبہ بنا چاہیے،

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کو اعتماد میں نہیں لیا۔

وزیر اعلی  نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور بہالپور صوبےکا بل اسمبلی میں لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور شہر بہاولپور صوبے کا دارالحکومت ہوگا،

اس حصے سے مزید

خان پور: سکول وین کھائی میں گرنے سے متعدد بچے زخمی

زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے: ریسکیو ذرائع

پیر کے کہنے پر ماموں کے ہاتھوں بھانجے قتل

پیر نے ملزم کو مراد پوری ہونے کے لیے مبینہ طور پر خون بہانے کا مشورہ دیا تھا۔

شیخوپورہ: وین حادثے میں چھ افراد ہلاک

حادثہ وین کے ٹائر پھٹنے سے پیش آیا، آٹھ افراد زخمی ۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟