23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

نفرتوں کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم ناقابل قبول ہے، نواز شریف

قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف۔ فائل فوٹو۔۔۔

لاہور : مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کی تقسیم صوبے کی اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہونی چاہیے۔

ڈان نیوز کے مطابق پیر کے روز ماڈل ٹاون لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر  نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب، چوہدری نثار علی خان سمیت دیگر لیگی رہنماوں نے شرکت کی۔

میٹنگ میں ووٹر لسٹوں، حلقہ بندیاں اور ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا کہ نفرتوں کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم ناقابل قبول ہے پپلزپارٹی پنجاب کی تقسیم کا نعرہ سیاسی بنیادوں پر لگا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور صوبہ عوام کی آواز ہے پنجاب کی تقسیم صوبے کی اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہونی چاہیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا ک صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بننے چاہیے  بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جہاں صوبوں کی ضرورت ہے وہاں صوبہ بنا چاہیے،

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کو اعتماد میں نہیں لیا۔

وزیر اعلی  نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور بہالپور صوبےکا بل اسمبلی میں لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور شہر بہاولپور صوبے کا دارالحکومت ہوگا،

اس حصے سے مزید

مدت پوری کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، آصف زرداری

سابق صدر نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کی رنجشیں مذاکرات سے دور ہو سکتی ہیں، سازشیں سیاست کا حصہ ہوتی ہیں۔

زرداری ۔ نواز ملاقات: وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ مسترد

رائے ونڈ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔

بلوبٹ سمیت ن لیگ کے 18 کارکنوں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

بلوبٹ نے شاہ محمود قریشی کے گھر پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی، اور کہا کہ وہ کارکنوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔