02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ڈاکٹر عبدالسلام : ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

یہ 1940 کی ایک جُھلستی ہوئی دوپہر کی بات ہے، ایک چودہ سالہ لڑکا بہت تیزی سے سائیکل دوڑاتا ہوا، موجودہ پاکستان کے شہر جھنگ کے قریب اپنے قصبے کی طرف جارہا تھا۔ سخت گرمی کے باوجود اس نے سر پر پگڑی باندھ رکھی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ غلطی سے حجام نے اس کا پورا سر مونڈھ دیا تھا۔

جوں ہی وہ اپنے محلے کی جانب پہنچا، دونوں جانب قطار میں موجود لوگوں نے اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور اسکے لئے تالیاں بجائیں۔ اس لڑکے نے پورے صوبے میں میٹرک امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے پچھلے تمام ریکارڈز توڑدئیے تھے۔

 اس لڑکے کا نام عبدالسلام تھا۔

انتیس جنوری 1926 کو پیدا ہونے والے سلام نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ کالج جھنگ سے حاصل کی ۔ 1946 میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ریاضی میں ایم اے کیا اور 95.5 فی صد کے ساتھ یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی ۔

کیمبرج میں رینگلر

ماسٹرز تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عبدالسلام کے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا تو وہ سِول سروس سے وابستہ ہوجاتے یا اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرونِ ملک کا رخ کرتے لیکن ایک چھوٹے سے زمیندار کے بیٹے ہونے کے ناطے ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ خوش قسمتی سے سلام کو ایک اسکالرشپ مل گئی اور پڑھنے کیلئے انگلینڈ روانہ ہوگئے۔

جھنگ میں واقع ڈاکٹر عبدالسلام کا آبائی مکان۔ فائل تصویر اے ایف پی

انہوں نے 1946  میں سینٹ جان کالج، کیمبرج میں داخلہ لیا اور اپنا ٹرائی پاز ( بی اے آنرز) صرف دو سال میں مکمل کرلیا جبکہ یہ کورس تین سال کا ہوتا ہے۔

اس کامیابی پر انہیں رینگلر کا خطاب دیا گیا، کیمبرج میں کوئی ماہرِ ریاضی کا امتحان فرسٹ کلاس میں پاس کرلے تو اسے' رینگلر' کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام کی ڈاکٹریٹ کا واقعہ بھی بہت متاثر کن ہے۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کیلئے ایک نہایت مشکل مسئلہ منتخب کیا تھا جس کے تحت میسون تھیوری سے لامتناہیت (انفینٹیس) کا خاتمہ تھا۔ سلام نے اپنی صلاحیتوں کی بنا پر یہ مسئلہ صرف تین مہینے میں حل کرلیا۔ تاہم انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری کیلئے تین سال کا انتظار کرنا پڑا کیونکہ کیمبرج یونیورسٹی کے قواعد کے تحت پی ایچ ڈی کی ڈگری داخلے کے تین سال کے بعد ہی دی جاتی ہے۔ آخر کار 1952 میں انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئ۔

انیس سو اکیاون میں سلام کو پرنسٹن یونیورسٹی امریکہ واقع انسٹی ٹیوٹ آف اڈوانسڈ سٹڈی کی فیلو شپ دی گئی جہاں البرٹ آئن سٹائن لیکچر دینے آتے تھے۔

زکریا ورک نے ایک جگہ آئن سٹائن اور عبدالسلام کے درمیان ایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں۔

" جب عبدالسلام پرنسٹن میں پڑھ رہے تھے تو ایک روز ان کی ملاقات آئن سٹائن سے ہوئی جو سینٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈی میں موجود تھے۔ آئن سٹائن نے عبدالسلام سے پوچھا کہ آپ کس پر تحقیق کررہے ہیں؟ سلام نے کہا میں رینارملائزیشن تھیوری پر کام کررہا ہوں۔ اس پر آئن سٹائن بولے مجھے اس میں دلچسپی نہیں۔ چند لمحوں بعد آئن سٹائن نے سلام کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کیا تم نے تھیوری آف ریلیٹویٹی پڑھی ہے؟  مجھے اس میں دلچسپی نہیں، سلام نے فوراً جواب دیا۔"

' ڈاکٹر عبدالسلام ۔ چیمپیئن آف سائنس ان دی تھرڈ ورلڈ، مصنف ذکریا ورک '

دوبارہ پاکستان میں

ڈاکٹر عبدالسلام، 1951 سے 1954 تک گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ ریاضی کے صدر اور پروفیسر رہے اس دوران وہ اپ۔ اس دوران وہ شدید تنہائی کا شکارتھے۔ وہاں تحقیق نہ ہونے کے برابر، سائنسدانوں سے رابطے نہ تھے اور نہ ہی تازہ ترین ریسرچ کی کوئی خبر تھی۔

دوسری جانب کالج کے سربراہ نے ان کا شاندار تعلیمی ریکارڈ نظر انداز کرتے ہوئے انہیں احمقانہ کام کرنے کو کہا۔ کالج پرنسپل نے سلام سے کہا کہ اگر درس وتدریس کے بعد ان کے پاس وقت بچتا ہے تو وہ ان تین کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ ہاسٹل کے وارڈن بن جائیں، کالج کے خزانچی کا عہدہ سنبھال لیں یا پھر فٹ بال کلب کے صدر بن جائیں۔ سلام کو مجبوراً فٹ بال کلب کا صدر بننا پڑا۔

اس کے بعد وہ دوبارہ کیمبرج چلے گئے جہاں لیکچرر مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے امپیریل کالج لندن میں تھیوریٹکل فزکس کو کورس متعارف کرایا اور 1957 سے 1993 تک وہاں پڑھاتے رہے۔

کیمبرج میں انہوں نے پی اے ایم ڈیراک، میکس بورن، وولف گینگ پاؤلی اور دیگر عظیم سائنسدانوں کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور ان کی فکر سے فائدہ اُٹھایا۔

جھنگ میں واقع وہ اسکول جہاں ڈاکٹر عبدالسلام نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ اے ایف پی تصویر

ڈاکٹرعبدالسلام کے حصے میں 1959میں ایک اور اعزاز آیا جب وہ رائل سوسائٹی کے سب سے کم عمر فیلو منتخب ہوئے اس وقت ان کی عمر صرف 33 سال تھی۔ واضح رہے کہ یہ سوسائٹی دنیا میں سائنسدانوں کی سب سے قدیم انجمن ہے۔

انیس سو پچاس کے عشرے میں پروفیسر عبدالسلام پاکستان جاتے رہے کیونکہ وہ سائنس پالیسی پر حکومت کے مشیر تھے اور1961 میں انہیں صدرِ پاکستان کا مشیرخاص برائے سائنس بنایا گیا تھا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا اور ملک میں پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) جیسا ادارہ قائم کیا۔

  سلام کو رائل سوسائٹی کے کم عمر ترین فیلو کا اعزاز بھی حاصل ہے اور اس وقت ان کی عمر صرف 33 سال تھی۔

انیس سو تہتر میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر عبدالسلام نے تمام اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کا تصور پیش کیا۔

 ایک دیوانے کا خواب

انیس سو ساٹھ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ایک میٹنگ میں شرکت کے دوران سلام نے انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹکل فزکس ( آئی سی ٹی پی ) کا منصوبہ پیش کیا۔ وہ ایک ایسا پلیٹ فارم چاہتے تھے جہاں دنیا بھر خصوصاً تیسری دنیا کے مایرینِ فزکس آکر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرسکیں اور اس طرح امیر ممالک کی جانب ذہانت کے فرار کو روکا جائے۔

سلام اس کے متعلق ایک کتاب میں لکھتے ہیں:

'خصوصاً ترقی پذیر ممالک سے فزکس کے ماہرین کیلئے ایک مرکز (تعمیر کرنے ) کا خیال 1954  سے میرے ساتھ رہا جب مجھے مجبوراً اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ کیونکہ مجھے احساس ہوگیا تھا کہ اگر میں مزید ٹھہرا رہا تو علمی تنہائی کی وجہ سے فزکس چھوڑنی پڑے گی۔ ( آئیڈیلز اینڈ ریئلیٹیز، تیسرا ایڈیشن، صفحہ تین سو بانوے، ورلڈ سائینٹفک پبلشر)

سلام چاہتے تھے کہ یہ مرکز پاکستان میں بنے۔ انہوں نے اس کا ذکر صدر ایوب خان سے بھی کیا۔ صدرایوب خان نے اس پر اپنے وزیرخزانہ محمد شعیب سے مشورہ مانگا تو شعیب نے کہا کہ عبدالسلام سائنسدانوں کے لئے ایک ہوٹل بنانا چاہتےہیں نہ کہ کوئی بین الاقوامی مرکز۔"

بنیادی قوتوں کا اتحاد

ڈاکٹر عبدالسلام کا قول تھا، ' ترقی اس یقین سے شروع ہوتی ہے کہ جو ضروری ہے وہ ممکن ہے۔' اسی جذبے کے ساتھ انہوں فزکس میں موجود چار اہم قوتوں کے اتحاد (یونیفکیشن) کا نظریہ پیش کیا ۔ سلام نے برقی مقناطیسی ( الکیٹرومیگنیٹک) اور کمزور نیوکلیائی قوت ( ویک نیوکلئیر فورس) کو ریاضی کے ذریعے ایک ثابت کیا ۔ دونوں قوتیں انتہائی بنیادی ہیں لیکن اپنی نوعیت میں مختلف ہیں اور سلام نے دو قوتوں کو ایک قرار دے کر اسے الیکٹرو ویک فورس کا نام دیا۔ یہ کام آزادانہ طور پر دو امریکی سائنسدانوں پروفیسر اسٹیون وائنبرگ اور شیلڈن لی گلاشو نے بھی انجام دیا۔

ڈاکٹر عبدالسلام 1979 میں پاکستانی لباس میں نوبیل انعام وصول کررہے ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی

اس نظریئے کے تحت تینوں سائنسدانوں نے ڈبلیو اور زیڈ بوسون ذرات کی پیشگوئی کی تھی۔ جلد ہی اس کی تجرباتی تصدیق اس وقت ہوگئی جب پروفیسر کارلو روبیا نے یورپ کے ایٹمی تحقیقی مرکز سرن کی خاص مشینوں پر تجربات کے دوران یہ نمائیندہ ذرات دریافت کرلئے اور انہیں اپنے ساتھی سائمن وان ڈر میر کے ساتھ 1984 میں فزکس کا نوبیل انعام دیا گیا۔

عمر کے آخری حصے میں پارکنسن بیماری کے باوجود ڈاکٹر عبدالسلام کام کرتے رہے اور انہوں نے اعلیٰ معیار کے تحقیقی مقالات بھی تحریر کئے۔ انہوں نے چائرلٹی اور زندگی کی ابتدا، گریوٹی، سپر کنڈکٹوٹی، سمٹری، پروٹون کے زوال، فرمیون ذرات اور سائنس اور انسانی ترقی پر ریسرچ پیپرز پیش کئے۔

نوبیل انعام

انیس سو اناسی میں ڈاکٹر عبدالسلام کو دو امریکی ماہرین سٹیون وائنبرگ اور شیلڈن لی گلاشو کے ساتھ نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اس اہم تقریب میں شیروانی اور شلوار کا قومی لباس زیب تن کیا اور سر پر پگڑی پہنی۔ ان کی خواہش پر انہیں نوبیل انعام وصول کرنے کے بعد اردو میں تقریر کرنے کی اجازت دی گئی۔

دو اہم ادارے

فزکس میں فطری قوتوں کےاتحاد کے علاوہ سلام کا ایک اور جنون تھا اور وہ تھا دنیا بھر کے سائنسدانوں کو یکجا کرنا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ سائنس انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔

انیس سو چونسٹھ میں ڈاکٹر عبدالسلام نے انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹکل فزکس کی بنیاد رکھی ۔ حکومتِ اٹلی نے اس کیلئے فراخدلانہ مدد کی اور ٹریسٹے کے خوبصورت شہرمیں قائم اس مرکز کیلئے آج بھی تعاون کررہی ہے۔ اس کے علاوہ یونیسکو اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا اشتراک بھی حاصل ہے۔

اس مرکز کا مقصد یہ ہے کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے سائنسداں ایک مقام پر جمع ہوکر اپنے تجربات اور علم کا تبادلہ کرسکیں تاکہ نہ صرف علم کی نئی راہیں کھلیں بلکہ غریب ممالک کے سائنسدانوں کی ترقی یافتہ دنیا تک منتقلی کو بھی روکا جائے۔

  انیس سو تہتر میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر عبدالسلام نے تمام اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کا تصور پیش کیا۔

اس کے علاوہ یہ سینٹر مختلف سائنسی اور علم تک رسائی کے آؤٹ ریچ پروگرام بھی مہیا کرتا ہے جن کا خاص ہدف ترقی پذیر ممالک کے سائنسداں ہوتےہیں۔ آئی سی ٹی پی میں ہر سال 60 سے زائد کانفرنس اور سیمینارز کے علاوہ لاتعداد ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں۔ ہرسال ہزاروں ماہرین اور اسکالرز آئی سی ٹی پی کا دورہ کرتے ہیں کیونکہ ادارہ انہیں سفر کی گرانٹ بھی فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام   1964 سے 1993 تک آئی سی ٹی پی کے بانی سربراہ رہے۔

فزکس سلام کا عشق رہا لیکن ساتھ ہی انہیں شدت سے یہ احساس تھا کہ تیسری دنیا کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم بھی میسر آجائے، جہاں وہ اپنی علمی تنہائی کو دور کرسکیں۔ اس کیلئے انہوں نے تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز (ٹی ڈبلیو اے ایس) کی بنیاد رکھی اور اس کا مرکز بھی ٹریسٹے میں واقع ہے۔ یہ اکیڈمی ترقی پذیر ممالک کے اداروں اور اسکالرز کو گرانٹس اور فیلوشپس فراہم کرتی ہے اور سائنسی منصوبوں کی سرپرستی بھی کرتی ہے۔

سلام نے 21  نومبر 1996 کو آکسفورڈ میں آخری سانسیں لیں۔

نوبیل انعام یافتہ ماہرِطبیعیات،اور مصنف، اسٹیون وائنبرگ ۔ تصویر بشکریہ میٹ ولنٹائن

دنیا کے معروف سائنسداں، مصنف اور یونیورسٹی آف ٹیکساس، امریکہ کے پروفیسر اسٹیون وائنبرگ نے ڈان ویب سائٹ کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کیا۔

' ایک گریجویٹ طالبعلم کی حیثیت سے میں سلام سے کبھی نہیں ملا، میں نے کوانٹم فیلڈ تھیوری پر ان کے مقالات پڑھے تھے۔ توجب 1961  اور 62 میں جب انہوں نے مجھے امپیریل کالج مدعو کیا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی، جہاں وہ ایک مانے ہوئے نظری ماہر ( تھیورسٹ) تھے۔ پھر ہم دوست بن گئے اور مشترکہ کام کرنے والے ساتھی بھی۔ ہم دونوں نے (جیفری گولڈسٹون) کے ساتھ ملکر ایک ریسرچ پیپر بھی لکھا جو فزکس کی دنیا میں بہت اہم تھا۔ یقیناً اس سے قبل اور بعد میں بھی سلام نے تھیوریٹکل فزکس پر بلند ترین اہمیت کے مقالے تحریر کئے تھے۔ فزکس کے ماہرین عموماً اور میں خصوصاً انہیں بہت یاد کرتا ہوں۔ '

اس حصے سے مزید

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

Khalid Imran Langah
30 جنوری, 2013 01:09
ڈاکٹرعبد السلام تیسری دنیا کے لوگوں کیلئے اندھیرے میں روشنی کیے ایک چاند کی مانند ہیں۔اگر ہم اپنے دروازے بند کر لیں تو یہ ہماری کم عقلی اور جاہلیت ہو گی۔ چاند کی روشنی سے دینا فائدہ اٹھاتی رہے گی۔
انور امجد
30 جنوری, 2013 01:21
بہت اچھا اور معلوماتی مضمون ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے ڈاکٹر عبدالسلام کو لیجنڈ کی حیثیت حاصل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگ فزکس کی کلاس شروع ہونے سے پہلے باہر سردیوں میں دھوپ سینک رہے تھے کہ اچانک ان کی کار پورچ میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ ان کے آتے ہی سب نے ان کو گھیر لیا اور وہ سب سے بڑی محبت سے ملے۔ بہت عظیم انسان تھے۔
ahsan qureshi
28 فروری, 2013 01:10
I feel so proud of Dr. Salaam that he is a Pakistani. We should not forget our great sons. He was a great man.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔