18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نگران حکومت سے متعلق مشاورت مکمل کرلی، کائرہ

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں ۔ — اے پی پی فائل فوٹو
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں ۔ — اے پی پی فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اسمبلیوں کی تحلیل اور نگران حکومت سے متعلق مشاورت مکمل کرلی ہے، اس حوالے سے اتحادیوں سے اب مشاورت شروع کریں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق، منگل کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے نام پر مشاورت شروع نہیں ہوئی تو کسی نام کو حتمی شکل کیسے دی جا سکتی ہے، حکومت اور اسمبلیاں اپنے آخری دن تک کام کر سکتی ہیں جبکہ حکومت طاہرالقادری کے ساتھ معاہدے پر پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نگران وزیراعظم کے لیے 6 کے بجائے 2 نام وزیراعظم کو دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی نئے صوبے کی سفارشات کی مخالفت افسوسناک ہے اور فرحت اللہ بابر کے بارے میں چوہدری نثار کا رویہ مناسب نہیں، چوہدری نثار الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط کریں ورنہ احترام نہیں رہے گا۔

کائرہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ دھرنے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے، مسلم لیگ ن پہلے واضح کرے کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ ہیں یا مخالفت میں ہیں، الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کا فورم سڑکیں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں حلقہ بندیوں کا مسئلہ حکومت کا نہیں جبکہ حکومت نے بھرتیوں پر پابندی سے متعلق الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے