01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک

کراچی میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار رضا کاروں کی سیکورٹی پر معمور ہیں۔— اے ای پی فائل فوٹو
کراچی میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار رضا کاروں کی سیکورٹی پر معمور ہیں۔— اے ای پی فائل فوٹو

پشاور: خیبر پختونخواہ میں انسدادِ پولیو مہم کی ٹیم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رضاکاروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والا پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

واقعہ منگل کو ضلع صوابی کے گاؤں کالا میں پیش آیا جہاں دو رکنی رضا کار ٹیم بچوں کو پولیو ویکسی نیشن کے قطرے پلانے گئی تھی۔

صوابی کے پولیس سربراہ راشد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ رضاکار کالا میں مہم ختم کرنے کے بعد دوسرے گاؤں جا رہے تھے کہ راستہ میں کلاشنکوف بردار تین افراد گنّے کے کھیتوں سے نکلے اور فائرنگ کر دی۔

انہوں نے مزید بتایا واقعہ میں ٹیم کی حفاظت پر معمور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تاہم دونوں رضا کار محفوظ رہے ہیں۔

خان نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزمان کا ہدف بظاہر پولیس اہلکار تھا، تینوں مسلح افراد واقعہ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

خیال رہے کہ پہلی جنوری کو اسی علاقے میں انسداد پولیو مہم میں شامل ایک رضا کار تنظیم کے کارکنوں پر فائرنگ میں چھ خواتین اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی کی رکنیت بحال

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سردار اکرام اللہ گنداپور کی بطور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی رکنیت بحال کردی۔

پشاور: اسکول پر دستی بم حملے میں ٹیچر ہلاک

پشاور کے علاقے شبقدر میں ایک اسکول پر دستی بم حملے میں ایک ٹیچر ہلاک اور دو بچے زخمی ہو گئے۔

وادیِ تیراہ میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا، پانچ افراد ہلاک

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا تیراہ میں شدت پسند گروپ لشکر اسلام کی بیس میں ہوا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک - پاکستان کی آواز
29 جنوری, 2013 10:05
[...] پر فائرنگ میں چھ خواتین اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
Iqbal jehangir
29 جنوری, 2013 10:34
پاکستان میں ایک ملین بچے اب بھی پولیو کے قطروں سے محروم ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے سے بچوں میں پولیو کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کی ان تین اقوام میں شامل ہے جہاں سست رو پولیو وائرس بدستور موجود ہے۔ افغانستان اور نائجیریا کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔گزشتہ سال پولیو کے ایک سو تہتّر کیسز سامنے آئے تھے۔ سن دو ہزار بارہ میں چھپن کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جس کا مطلب کے ان کے پھیلاؤ میں اڑسٹھ فیصد کی کمی لے آئی گئی ہے۔ اسلام نے انسانی جان بچانے کے لئیے ہر طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔طالبان کا پاکستانی بچوں کو پو لیو کے قطرے نہ پلانے دینا ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والی مجرمانہ کاروائی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے اور پاکستانی عوام طالبان کو اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہ کریں گے۔دہشت گردوں نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسداد پولیو ٹیموں کے بےگناہ کارکنوں کو‘ جن میں خواتین کی اکثریت تھی‘ اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھانا شروع کیا تو اس سے انسانی صحت کی ضامن انسداد پولیو مہم ہی اثرانداز نہیں ہوئی‘ بلکہ ان جنونی کارروائیوں کے نتیجہ میں ملک کی بدنامی بھی ہوئی ہے. انتہاءپسندوں کی جانب سے بچیوں کی تعلیم کی مخالفت اور تعلیمی اداروں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں تباہ کرنے کے باعث پہلے ہی ہمارا تشخص خراب ہو چکا ہے جبکہ اب انسداد پولیو ٹیموں کے غیرمحفوظ ہونے سے ہمارے معاشرے کا پتھر کے زمانے والا تصور ہی اجاگر ہو گا۔جہالت کے اندھیروں سے روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھا کر ہی ہم اقوام عالم میں اپنا تشخص پیدا کر سکتے ہیں ورنہ ہم زمانہ جاہلیت والی پسماندہ ترین قوم بن کر دنیا سے کٹ کر رہ جائینگے۔ ............................................................... اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : پاکستان میں دہشت گردی کے گہرے سائے http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟