18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک

کراچی میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار رضا کاروں کی سیکورٹی پر معمور ہیں۔— اے ای پی فائل فوٹو
کراچی میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار رضا کاروں کی سیکورٹی پر معمور ہیں۔— اے ای پی فائل فوٹو

پشاور: خیبر پختونخواہ میں انسدادِ پولیو مہم کی ٹیم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رضاکاروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والا پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

واقعہ منگل کو ضلع صوابی کے گاؤں کالا میں پیش آیا جہاں دو رکنی رضا کار ٹیم بچوں کو پولیو ویکسی نیشن کے قطرے پلانے گئی تھی۔

صوابی کے پولیس سربراہ راشد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ رضاکار کالا میں مہم ختم کرنے کے بعد دوسرے گاؤں جا رہے تھے کہ راستہ میں کلاشنکوف بردار تین افراد گنّے کے کھیتوں سے نکلے اور فائرنگ کر دی۔

انہوں نے مزید بتایا واقعہ میں ٹیم کی حفاظت پر معمور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تاہم دونوں رضا کار محفوظ رہے ہیں۔

خان نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزمان کا ہدف بظاہر پولیس اہلکار تھا، تینوں مسلح افراد واقعہ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

خیال رہے کہ پہلی جنوری کو اسی علاقے میں انسداد پولیو مہم میں شامل ایک رضا کار تنظیم کے کارکنوں پر فائرنگ میں چھ خواتین اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، اہلکار ہلاک

پشاور کے نواح میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے میں کم از کم ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چینی سرمایہ کاروں کی خیبرپختونخواہ میں کام بند کرنے کی دھمکی

چینی سرمایہ کاروں کے نمائیندے نے الزام لگایا ہےکہ ضیاء اللہ آفریدی نامی مشیر ان کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک - پاکستان کی آواز
29 جنوری, 2013 10:05
[...] پر فائرنگ میں چھ خواتین اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
Iqbal jehangir
29 جنوری, 2013 10:34
پاکستان میں ایک ملین بچے اب بھی پولیو کے قطروں سے محروم ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے سے بچوں میں پولیو کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کی ان تین اقوام میں شامل ہے جہاں سست رو پولیو وائرس بدستور موجود ہے۔ افغانستان اور نائجیریا کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔گزشتہ سال پولیو کے ایک سو تہتّر کیسز سامنے آئے تھے۔ سن دو ہزار بارہ میں چھپن کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جس کا مطلب کے ان کے پھیلاؤ میں اڑسٹھ فیصد کی کمی لے آئی گئی ہے۔ اسلام نے انسانی جان بچانے کے لئیے ہر طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔طالبان کا پاکستانی بچوں کو پو لیو کے قطرے نہ پلانے دینا ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والی مجرمانہ کاروائی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے اور پاکستانی عوام طالبان کو اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہ کریں گے۔دہشت گردوں نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسداد پولیو ٹیموں کے بےگناہ کارکنوں کو‘ جن میں خواتین کی اکثریت تھی‘ اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھانا شروع کیا تو اس سے انسانی صحت کی ضامن انسداد پولیو مہم ہی اثرانداز نہیں ہوئی‘ بلکہ ان جنونی کارروائیوں کے نتیجہ میں ملک کی بدنامی بھی ہوئی ہے. انتہاءپسندوں کی جانب سے بچیوں کی تعلیم کی مخالفت اور تعلیمی اداروں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں تباہ کرنے کے باعث پہلے ہی ہمارا تشخص خراب ہو چکا ہے جبکہ اب انسداد پولیو ٹیموں کے غیرمحفوظ ہونے سے ہمارے معاشرے کا پتھر کے زمانے والا تصور ہی اجاگر ہو گا۔جہالت کے اندھیروں سے روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھا کر ہی ہم اقوام عالم میں اپنا تشخص پیدا کر سکتے ہیں ورنہ ہم زمانہ جاہلیت والی پسماندہ ترین قوم بن کر دنیا سے کٹ کر رہ جائینگے۔ ............................................................... اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : پاکستان میں دہشت گردی کے گہرے سائے http://www.awazepakistan.wordpress.com
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔