24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک

کراچی میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار رضا کاروں کی سیکورٹی پر معمور ہیں۔— اے ای پی فائل فوٹو
کراچی میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار رضا کاروں کی سیکورٹی پر معمور ہیں۔— اے ای پی فائل فوٹو

پشاور: خیبر پختونخواہ میں انسدادِ پولیو مہم کی ٹیم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رضاکاروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والا پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

واقعہ منگل کو ضلع صوابی کے گاؤں کالا میں پیش آیا جہاں دو رکنی رضا کار ٹیم بچوں کو پولیو ویکسی نیشن کے قطرے پلانے گئی تھی۔

صوابی کے پولیس سربراہ راشد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ رضاکار کالا میں مہم ختم کرنے کے بعد دوسرے گاؤں جا رہے تھے کہ راستہ میں کلاشنکوف بردار تین افراد گنّے کے کھیتوں سے نکلے اور فائرنگ کر دی۔

انہوں نے مزید بتایا واقعہ میں ٹیم کی حفاظت پر معمور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تاہم دونوں رضا کار محفوظ رہے ہیں۔

خان نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزمان کا ہدف بظاہر پولیس اہلکار تھا، تینوں مسلح افراد واقعہ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

خیال رہے کہ پہلی جنوری کو اسی علاقے میں انسداد پولیو مہم میں شامل ایک رضا کار تنظیم کے کارکنوں پر فائرنگ میں چھ خواتین اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔

سراج الحق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایف ڈی ایم اے کو بے گھر افراد کے لیے ڈھائی ارب روپے درکار

وفاقی حکومت پہلے ہی فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو نقل مکانی کرنے والے افراد کی امداد کے لیے دو ارب روپے جاری کرچکی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک - پاکستان کی آواز
29 جنوری, 2013 10:05
[...] پر فائرنگ میں چھ خواتین اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ صوابی: پولیو ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
Iqbal jehangir
29 جنوری, 2013 10:34
پاکستان میں ایک ملین بچے اب بھی پولیو کے قطروں سے محروم ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے سے بچوں میں پولیو کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کی ان تین اقوام میں شامل ہے جہاں سست رو پولیو وائرس بدستور موجود ہے۔ افغانستان اور نائجیریا کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔گزشتہ سال پولیو کے ایک سو تہتّر کیسز سامنے آئے تھے۔ سن دو ہزار بارہ میں چھپن کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جس کا مطلب کے ان کے پھیلاؤ میں اڑسٹھ فیصد کی کمی لے آئی گئی ہے۔ اسلام نے انسانی جان بچانے کے لئیے ہر طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔طالبان کا پاکستانی بچوں کو پو لیو کے قطرے نہ پلانے دینا ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والی مجرمانہ کاروائی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے اور پاکستانی عوام طالبان کو اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہ کریں گے۔دہشت گردوں نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسداد پولیو ٹیموں کے بےگناہ کارکنوں کو‘ جن میں خواتین کی اکثریت تھی‘ اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھانا شروع کیا تو اس سے انسانی صحت کی ضامن انسداد پولیو مہم ہی اثرانداز نہیں ہوئی‘ بلکہ ان جنونی کارروائیوں کے نتیجہ میں ملک کی بدنامی بھی ہوئی ہے. انتہاءپسندوں کی جانب سے بچیوں کی تعلیم کی مخالفت اور تعلیمی اداروں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں تباہ کرنے کے باعث پہلے ہی ہمارا تشخص خراب ہو چکا ہے جبکہ اب انسداد پولیو ٹیموں کے غیرمحفوظ ہونے سے ہمارے معاشرے کا پتھر کے زمانے والا تصور ہی اجاگر ہو گا۔جہالت کے اندھیروں سے روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھا کر ہی ہم اقوام عالم میں اپنا تشخص پیدا کر سکتے ہیں ورنہ ہم زمانہ جاہلیت والی پسماندہ ترین قوم بن کر دنیا سے کٹ کر رہ جائینگے۔ ............................................................... اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : پاکستان میں دہشت گردی کے گہرے سائے http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-