18 ستمبر, 2014 | 22 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لائن آف کنٹرول پر تجارتی سرگرمیاں بحال

۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔
۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔

مظفر آباد: رواں مہینے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے معطل ہونے والی تجارتی سرمیاں بیس روز کے بعد منگل کو اس وقت بحال ہوئیں جب چھ پاکستانی ٹرک ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرکوں میں پیاز، کھجور اور خشک میوے تھے جنہوں نے دوپہر کے وقت ایل او سی پار کیا۔

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں، جنکی وجہ سے پانچ فوجی ہلاک ہوئے، کے باعث ہونے والی بندش کی وجہ سے انہیں تین کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستانی ریز انتظام کشمیر کے تجارت اور سیاحت سے متعلق اہلکار بریگیڈئر اسماعیل خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹٹرینوٹ کروسنگ پر چھ ٹرک سرحد پار کرکے ہندوستان روانہ ہوئے۔

حالیہ سالوں میں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان تجارت کی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوسکیں۔

تجارت سے متعلق ایک ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشان مسعود کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے انکے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

'ہم نے ہندوستان سے ٹماٹر اور دوسری سبزیاں منگوائی تھیں تاہم وہ اب وہ سڑ چکی ہیں جسکی وجہ سے ہمیں تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے'

انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اثر انکے کاروبار پر پڑتا ہے اور وہ کاروبار اپنی ذمہ داری پر کرتے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے انہیں کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

واضح رہے کہ 6 جنوری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جسکے 16 جنوری کو دونوں فوجوں کے کمانڈرز کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ کیا گیا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان ہندوستان کے درمیان کشیدگی کے بعد بند کی جانے والی بس سروس بھی گزشتہ روز بحال کردی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

کراچی میں پولیو کے مزید دو کیسز کی تصدیق

سلطان آباد میں دس ماہ کی عمر کے ایک بچے جبکہ اورنگی ٹاؤن میں 22 مہینے کی حاجرہ میں اس مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

مصالحتی جرگے کی پانچ روزہ ’جنگ بندی‘ کی تجویز

سینیٹر رحمان ملک نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ مذاکراتی جرگہ ایک قابل عمل فارمولے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

مقامی حکومت کےبغیرجمہوریت آمریت سےبدتر، الطاف حسین

اپنی61ویں سالگرہ کی تقریب سےویڈیولنک سےخطاب میں ان کاکہناتھاکہ دنیامیں کوئی پارلیمنٹ سڑکوں اورپلوں کی تعمیر نہیں کرتی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔