24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

لائن آف کنٹرول پر تجارتی سرگرمیاں بحال

۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔
۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔

مظفر آباد: رواں مہینے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے معطل ہونے والی تجارتی سرمیاں بیس روز کے بعد منگل کو اس وقت بحال ہوئیں جب چھ پاکستانی ٹرک ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرکوں میں پیاز، کھجور اور خشک میوے تھے جنہوں نے دوپہر کے وقت ایل او سی پار کیا۔

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں، جنکی وجہ سے پانچ فوجی ہلاک ہوئے، کے باعث ہونے والی بندش کی وجہ سے انہیں تین کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستانی ریز انتظام کشمیر کے تجارت اور سیاحت سے متعلق اہلکار بریگیڈئر اسماعیل خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹٹرینوٹ کروسنگ پر چھ ٹرک سرحد پار کرکے ہندوستان روانہ ہوئے۔

حالیہ سالوں میں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان تجارت کی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوسکیں۔

تجارت سے متعلق ایک ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشان مسعود کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے انکے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

'ہم نے ہندوستان سے ٹماٹر اور دوسری سبزیاں منگوائی تھیں تاہم وہ اب وہ سڑ چکی ہیں جسکی وجہ سے ہمیں تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے'

انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اثر انکے کاروبار پر پڑتا ہے اور وہ کاروبار اپنی ذمہ داری پر کرتے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے انہیں کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

واضح رہے کہ 6 جنوری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جسکے 16 جنوری کو دونوں فوجوں کے کمانڈرز کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ کیا گیا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان ہندوستان کے درمیان کشیدگی کے بعد بند کی جانے والی بس سروس بھی گزشتہ روز بحال کردی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ 24 شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟