18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

لائن آف کنٹرول پر تجارتی سرگرمیاں بحال

۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔
۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔

مظفر آباد: رواں مہینے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے معطل ہونے والی تجارتی سرمیاں بیس روز کے بعد منگل کو اس وقت بحال ہوئیں جب چھ پاکستانی ٹرک ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرکوں میں پیاز، کھجور اور خشک میوے تھے جنہوں نے دوپہر کے وقت ایل او سی پار کیا۔

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں، جنکی وجہ سے پانچ فوجی ہلاک ہوئے، کے باعث ہونے والی بندش کی وجہ سے انہیں تین کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستانی ریز انتظام کشمیر کے تجارت اور سیاحت سے متعلق اہلکار بریگیڈئر اسماعیل خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹٹرینوٹ کروسنگ پر چھ ٹرک سرحد پار کرکے ہندوستان روانہ ہوئے۔

حالیہ سالوں میں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان تجارت کی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوسکیں۔

تجارت سے متعلق ایک ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشان مسعود کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے انکے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

'ہم نے ہندوستان سے ٹماٹر اور دوسری سبزیاں منگوائی تھیں تاہم وہ اب وہ سڑ چکی ہیں جسکی وجہ سے ہمیں تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے'

انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اثر انکے کاروبار پر پڑتا ہے اور وہ کاروبار اپنی ذمہ داری پر کرتے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے انہیں کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

واضح رہے کہ 6 جنوری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جسکے 16 جنوری کو دونوں فوجوں کے کمانڈرز کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ کیا گیا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان ہندوستان کے درمیان کشیدگی کے بعد بند کی جانے والی بس سروس بھی گزشتہ روز بحال کردی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

ڈی جی خان میں حادثہ، 13 افراد ہلاک

مخالف سمت سے آنے والی دو بسیں بس سٹینڈ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئیں جس کے نتیجے ہلاکتیں پیش آئیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے