03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لائن آف کنٹرول پر تجارتی سرگرمیاں بحال

۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔
۔۔۔فائل فوٹو اے پی۔

مظفر آباد: رواں مہینے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے معطل ہونے والی تجارتی سرمیاں بیس روز کے بعد منگل کو اس وقت بحال ہوئیں جب چھ پاکستانی ٹرک ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرکوں میں پیاز، کھجور اور خشک میوے تھے جنہوں نے دوپہر کے وقت ایل او سی پار کیا۔

پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں، جنکی وجہ سے پانچ فوجی ہلاک ہوئے، کے باعث ہونے والی بندش کی وجہ سے انہیں تین کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستانی ریز انتظام کشمیر کے تجارت اور سیاحت سے متعلق اہلکار بریگیڈئر اسماعیل خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹٹرینوٹ کروسنگ پر چھ ٹرک سرحد پار کرکے ہندوستان روانہ ہوئے۔

حالیہ سالوں میں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان تجارت کی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوسکیں۔

تجارت سے متعلق ایک ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشان مسعود کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے انکے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

'ہم نے ہندوستان سے ٹماٹر اور دوسری سبزیاں منگوائی تھیں تاہم وہ اب وہ سڑ چکی ہیں جسکی وجہ سے ہمیں تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے'

انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اثر انکے کاروبار پر پڑتا ہے اور وہ کاروبار اپنی ذمہ داری پر کرتے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے انہیں کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔

واضح رہے کہ 6 جنوری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جسکے 16 جنوری کو دونوں فوجوں کے کمانڈرز کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ کیا گیا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان ہندوستان کے درمیان کشیدگی کے بعد بند کی جانے والی بس سروس بھی گزشتہ روز بحال کردی گئی تھی۔

اس حصے سے مزید

آپریشن ضرب عضب: اب تک 910 مبینہ دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے 82 جوان اس آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، یہاں سے پندرہ سال تک روزانہ دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

تربت: ضلع کیچ میں اسکول نذرِ آتش

الجہاد تنظیم کے مسلح مذہبی جنونیوں نے دھمکی دی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں کے بجائے مدرسوں میں بھیجیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔