25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

فوج ،عدلیہ جمہوریت کی حامی ہیں، وزیراعظم

وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر
وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ فوج ،عدلیہ اور تمام سیاسی قوتیں جمہوری طرز حکمرانی کی حامی ہیں، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے۔

منگل کو اسلام آباد میں گوجر خان بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن سے انکی حکومت ختم کرنے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض ان کے ساتھی بھی مختلف اجلاسوں میں یہی کہتے رہے ہیں کہ یہ نظام نہیں چلے گا کیونکہ خزانہ خالی تھا۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مارگلا کی پہاڑیوں تک پہچ چکے تھے اور کئی چیلینج درپیش تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت نے پانچ سال پورے کئے۔۔

وزیراعظم نے کہا کہ فوج اور عدلیہ بھی آج جمہوری نظام کی حامی ہیں جبکہ تمام سیاسی قوتیں بھی اس بات پر متعفق ہیں کہ ملک میں جمہوری طرز حکومت ہی چل سکتا ہے اور اس نظام سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مفاہمت کی تاریخ رقم کی ہے اور اگر ہم چاہیتے تو خیبر پخونخواہ اور پنجاب میں بھی حکومت بنا سکتے تھے مگر ہم نے ہر ایک کے مینڈیٹ کا احترام کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پانچ سال یا دس سال میں انقلاب نہیں آتے تاہم ان پانچ سالوں کے دوران لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور ہم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رضا ربانی نے انکشاف کیا تھا کہ ملک میں دو تین سال کے لیے غیر آئینی سیٹ اپ قائم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کو تحلیل کیے جانے کا اقدام غیر آئینی ہو گا۔

ادھر ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق، اسمبلیوں کی تحلیل کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟