02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

فوج ،عدلیہ جمہوریت کی حامی ہیں، وزیراعظم

وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر
وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ فوج ،عدلیہ اور تمام سیاسی قوتیں جمہوری طرز حکمرانی کی حامی ہیں، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے۔

منگل کو اسلام آباد میں گوجر خان بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن سے انکی حکومت ختم کرنے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض ان کے ساتھی بھی مختلف اجلاسوں میں یہی کہتے رہے ہیں کہ یہ نظام نہیں چلے گا کیونکہ خزانہ خالی تھا۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مارگلا کی پہاڑیوں تک پہچ چکے تھے اور کئی چیلینج درپیش تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت نے پانچ سال پورے کئے۔۔

وزیراعظم نے کہا کہ فوج اور عدلیہ بھی آج جمہوری نظام کی حامی ہیں جبکہ تمام سیاسی قوتیں بھی اس بات پر متعفق ہیں کہ ملک میں جمہوری طرز حکومت ہی چل سکتا ہے اور اس نظام سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مفاہمت کی تاریخ رقم کی ہے اور اگر ہم چاہیتے تو خیبر پخونخواہ اور پنجاب میں بھی حکومت بنا سکتے تھے مگر ہم نے ہر ایک کے مینڈیٹ کا احترام کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پانچ سال یا دس سال میں انقلاب نہیں آتے تاہم ان پانچ سالوں کے دوران لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور ہم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رضا ربانی نے انکشاف کیا تھا کہ ملک میں دو تین سال کے لیے غیر آئینی سیٹ اپ قائم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کو تحلیل کیے جانے کا اقدام غیر آئینی ہو گا۔

ادھر ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق، اسمبلیوں کی تحلیل کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

اس حصے سے مزید

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔