24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

فوج ،عدلیہ جمہوریت کی حامی ہیں، وزیراعظم

وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر
وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ فوج ،عدلیہ اور تمام سیاسی قوتیں جمہوری طرز حکمرانی کی حامی ہیں، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے۔

منگل کو اسلام آباد میں گوجر خان بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن سے انکی حکومت ختم کرنے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض ان کے ساتھی بھی مختلف اجلاسوں میں یہی کہتے رہے ہیں کہ یہ نظام نہیں چلے گا کیونکہ خزانہ خالی تھا۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مارگلا کی پہاڑیوں تک پہچ چکے تھے اور کئی چیلینج درپیش تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت نے پانچ سال پورے کئے۔۔

وزیراعظم نے کہا کہ فوج اور عدلیہ بھی آج جمہوری نظام کی حامی ہیں جبکہ تمام سیاسی قوتیں بھی اس بات پر متعفق ہیں کہ ملک میں جمہوری طرز حکومت ہی چل سکتا ہے اور اس نظام سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مفاہمت کی تاریخ رقم کی ہے اور اگر ہم چاہیتے تو خیبر پخونخواہ اور پنجاب میں بھی حکومت بنا سکتے تھے مگر ہم نے ہر ایک کے مینڈیٹ کا احترام کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پانچ سال یا دس سال میں انقلاب نہیں آتے تاہم ان پانچ سالوں کے دوران لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور ہم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رضا ربانی نے انکشاف کیا تھا کہ ملک میں دو تین سال کے لیے غیر آئینی سیٹ اپ قائم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کو تحلیل کیے جانے کا اقدام غیر آئینی ہو گا۔

ادھر ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق، اسمبلیوں کی تحلیل کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

اس حصے سے مزید

زرداری-بائیڈن ملاقات میں اہم معاملات پر گفتگو

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیرستان آپریشن، پاک-امریکا تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

کسی جنرل سے رابطہ نہیں ہے،طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم فوج کو دعوت نہیں دے رہے، ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔

پاک و ہند سیکریٹری خارجہ 25 اگست کو ملیں گے

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق نوازشریف اور نریندر مودی نے مئی میں نئی دہلی میں اس ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔