21 اگست, 2014 | 24 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

عام انتخابات کے لیے حتمی ضابطہ اخلاق جاری

۔۔۔۔۔فائل فوٹو
۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے حتمی ضابطہ اخلاق جاری کردیا،حتمی ضابطہ اخلاق کے تحت صدر، گورنر، وزیراعظم اور وزراء انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

ڈان نیوز کے مطابق، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری حتمی ضابطہ اخلاق چالیس سے چھیالیس نکات پر مشتمل ہے، جسے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق صدر، گورنر، وزیراعظم وزرا، مشیروں کے انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی ہوگی جبکہ فنڈز کے اجرا، ترقیاتی سکیموں اور سرکاری مشینری کا استعمال ممنوع ہوگا۔

اس کے علاوہ خواتین کو الیکشن میں حصہ لینے یا ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا، خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کیلئے سیاسی جماعتیں آپس میں کوئی معاہدہ بھی نہیں کریں گی۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ سٹیشنز کی ایک سو گز کی حدود میں ووٹ مانگنے پر پابندی ہوگی اور پولنگ اسٹیشن کی چار سو گز کی حدود کے اندر انتخابی مہم بھی نہیں چلائی جاسکے گی۔

خیال رہے کہ انتخابی مہم کے دوران وال چاکنگ اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

امیدوار انتخابی اخراجات کیلئے اکاؤنٹ مختص کریں گے، اور انتخابی اخراجات کی رسیدیں بھی رکھیں گے تاہم انتخابی مہم کے دوران امیدواران پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔

انتخابی ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ پولنگ کے ایک دن بعد بھی اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی، انتخابی شیڈول جاری ہونے سے نتائج آنے تک ڈی آر اوز اور آر اوز کو درجہ اول مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور نااہلی کی سزا ہوگی۔

اس حصے سے مزید

ایک کے سوا تمام جماعتیں ہماری حامی ہیں، نواز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود بارہ میں سے گیارہ جماعتیں ان کی پارٹی اور جمہوری عمل کی حامی ہیں۔

مظاہرین کے خلاف ایکشن ارادہ نہیں، پرویز رشید

مارچ مظاہرین کے خلاف حکومت نے کسی قسم کی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا اور اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔

مارچ کے شرکاء سے ریڈ زون کے ملازمین دہشت زدہ

ریڈ زون میں کام کرنے والے تمام ملازمین پی اے ٹی کی جانب سے پارلیمنٹ ہاﺅس کے ارگرد قبضہ کے فیصلے پر دہشت زدہ ہوگئے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔