29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

توقیر صادق ابوظہبی سے گرفتار

سپریم کورٹ آف پاکستان۔ فائل فوٹو۔۔۔
سپریم کورٹ آف پاکستان۔ فائل فوٹو۔۔۔

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے سابق چئیرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) توقیر صادق کو ابوظہبی سے گرفتار کرلیا ہے۔

ڈان نیوز ذرائع کے مطابق، ایس ایس پی سی آئی ڈی راولپنڈی رانا شاہد کی سربراہی میں نیب کی تین رکنی ٹیم نے توقیر صادق کو ابوظہبی سے گرفتار کیا۔

جبکہ سابق چئیرمین اوگرا کو پاکستان لانے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ توقیر صادق پر مبینہ طور پر 80 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ ان کا تقرر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت کے دوران ہوا تھا۔

سپریم کورٹ میں 10 جنوری کی سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ اوگرا کے سابق چئرمین کو سترہ جنوری تک گرفتار کیا جائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 24 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے توقیر صادق کے فرار ہونے میں ملوث افراد کیخلاف ایک ہفتے میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

جبکہ نیب حکام کا کہنا تھا کہ توقیر صادق کو فرار کروانے والوں میں رحمان ملک اور جہانگیر بدر بھی شامل ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد میں فوج کا معاملہ پارلیمنٹ میں

پی پی پی نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا حکومتی فیصلے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔