16 اپريل, 2014 | 15 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایک اور چوبیس فروری

رنکل کماری کی والدہ انصاف کی تلاش میں -- فوٹو، امر سندھو
رنکل کماری کی والدہ انصاف کی تلاش میں -- فوٹو، امر سندھو


  is blog ko sunne ke liye play ka button click karen | اس بلاگ کو سننے کے لئے پلے کا بٹن کلک کریں [soundcloud url="http://api.soundcloud.com/tracks/80062093" params="" width=" 100%" height="166" iframe="true" /]


آج چوبیس فروری ھے۔ یہ وہ دن ہے کہ جب پچھلے سال اسی تاریخ پہ رنکل اپنے گھر سے یوں اٹھائی گئی، جیسے کسی کے گھر ڈاکہ ڈال کر جلدی جلدی ڈاکے کی چیزیں اٹھائی جاتی ہیں۔ اس کا دوپٹہ اور پاؤں میں پہنی ایک چپل گھر کی دھلیز پر ھی رہ گئی تھیں۔

اغوا کے بعد جب پہلی بار وہ میرپور ماتھیلو کی عدالت میں پیش کی گئی تواس نے واپس والدین کےپاس جانے کی درخواست کی۔ عدالت نے اسے بجائے والدین کے پاس بھیجنے کے کہا کہ ’وہ ابھی بوکھلاہٹ کا شکار ہے‘، اس لئے اسے دو ایک دن سوچنے کے لئے دے کر پھر سے ان ھی بندوق برداروں کے حوالے کر دیا گیا، جن پہ اغوا کا الزام تھا۔ یہ شاید عدالت کی اپنی بوکھلاھٹ تھی۔

اٹھاٰیس فروری کو اگلی مرتبہ کچھری میں حاضری کے وقت، اپنے بیان میں کلمہ پڑہ کر رنکل سے فریال شاھ بننے میں اس نے دس منٹ سے بھی کم وقت لیا اور قبول اسلام کے اس بیان پہ اسے ہتھیاروں کے پہرے میں کچہری تک لانے والے سینکڑوں بندوق بردار و مریدانِ درگاہِ بھرچونڈی نے اپنے ہتھیاروں کے منہ کھول ڈالے اور عدالت کے احاطے میں ہی اپنی خوشی کا اظہار کر ڈالا۔ یہ ایک نئی فتح تھی۔

فتح کا یہ جشن سارے شہر میں ہوائی فائرنگ کی گونج میں گشت کرتا، بی بی فریال کو لے کر جلوس کی شکل میں درگاھ بھرچونڈی کے گدی نشین و پیپلز پارٹی کے میاں مٹھو کی طرف روانہ ہوا۔ بی بی فریال انہی کی مہمان تھی اور انہی کے پہرے میں عدالت تک پہنچی تھی۔

دراصل رنکل دیوی کو بی بی فریال بنانے کا شرف کویی پہلا تمغہ نہ تھا جو اس درگاھ شریف کو حاصل ھوا تھا۔ سندھ میں تقسیم سے پہلے ہندو مسلم فساد سے مشہور مسجد منزل گاہ کے واقعے سے لیکر ہندو گایک بھگت کنور رام کے قتل تک کے واقعات میں اس درگاہ شریف کے حوالے بار بار دھرائے جاتے ہیں۔

تقسیم سے قبل بھی اس درگاھ پہ بھائی بندوں کو کلمہ گو بنانے کی مشق عام تھی اور تقسیم کے بعد باقی کی تقسیم کا کام بھی اب تک یونہئ جاری و ساری ہے۔

صحرائے تھر سے لیکر کشمور کے کونے تک سندہ میں یہ درگاہ کلمہ گو آبادی میں متواتر اضافے میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس لیے اس مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ میں وہ سکول ماسٹر، رنکل کا والد کہاں تک یوں اٹھائی گئی بیٹی کی واپسی کی جنگ لڑتا۔ پھر ملا کی دوڑ مسجد تک ھی تو ہوتی ہے اسی طرح اگر یہ ستائی ہوئی خلق انسانی حقوق کی تنطیموں یا پھر میڈیا تک پہنچ جائے تو اتنا ضرور ہو جاتا ہے کہ کئی ایک سر پھرے انصاف دلانے کے اس انجانے جہاد کا بیڑہ اٹھا لیتے ہیں۔

 فوٹو، امر سندھو
فوٹو، امر سندھو

دین اسلام سے بی بی فریال کی الفت تھی، نوید شاہ کا عشق سر چڑہ کر بول رہا تھا یا پھر معاملہ اغوا اور زبردستی والا ہی تھا کہ جس کا الزام بھرچونڈی کے گدی نشین میاں مٹھو پر لگ رہا تھا۔

شور زیادہ ہوا تووالیانِ درگاہ بی بی کو لے کر کراچی پریس کلب بھی پہنچے مگر یہاں بھی بی بی صاحبہ نے بھلا کیا بات کرنی تھی۔ بندوق باز مریدانِ درگاہ باہر گاڑی میں تھے تو والیانِ درگاھ اسکی بغل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ خوف و ھراس کی ماری فریال بی بی کی اس منہ دکھائی اور پبلک میں پھر سے کلمہ شریف دھرانے کی رسم پر بھی جب سول سوسائٹی کا شورو غل ختم نہ ہوا تو بالآخر بڑی عدالت کو نوٹس لینا پڑا۔ وہ اور کچھ کہہ سکی ہو یا نہیں، سندہ ھائی کورٹ کے جسٹس باجوہ کے چیمبر میں اتنا ضرور کہہ گئی تھی کہ ’اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے‘۔

چھبیس مارچ کو اسلام آباد کی بڑی عدالت میں وہ کورٹ نمبر ون میں چیختی، چلاتی رہ گئی کہ ’اسے شیلٹر ھاؤس نہیں، اپنی ماں کے پاس بھیجا جائے۔‘ مگر ماتھیلو کے جج کی طرح اس بڑے جج نے بھی اس چیخنے چلانے کو گھبراہٹ سمجھ کر اسکی ماں کے بجائے شیلٹر ھاؤس بھیج دیا تا کہ وہ سوچ بچار سے کام لے سکے۔

وہ بین کرتی ماں سے گلے تو نہ مل پائی کہ اسے مجرموں کی طرح دونوں بازوؤں سے خواتین سپاہی پکڑے ہوئے تھیں مگر اس نے روتی ماں کو چیخ کر اتنا ضرور کہا؛

’’اماں، کس سے انصاف مانگ رھی ھو۔ یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ یہاں نیچے سے لیکر اوپر تک سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔"

یہ نو مسلم فریال کی نہیں، رنکل کی فریاد تھی جو کورٹ روم کے شور میں دب گئی تھی۔ اگلی مرتبہ بیان بجائے کورٹ روم کے رجسٹرار کی آفس میں ہوا اور نومسلم لڑکی ماں باپ سےگلے ملنے کے بجائے پولیس کسٹڈٰی میں پیا گھر بھیجی گئی۔

کورٹ کی کہانی یہاں ختم ہویی مگر درد اور بے بسی کی کہانی کا یہ آغاز تھا کہ اب کسی کو کسی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں رھی تھی۔ رنکل کے بعد آشا، لتا، ارونا، دیوی، بھگونتی، اور اب سلسلہ یہ شکل اختیار کر چکا ہے کہ ایک اور لڑکی درگا کا چچا میرے پاس برتھ سرٹیفیکٹ لاتا ہے، جس میں اسکی تاریخِ پیدائش دو ہزار ایک درج ہے۔ وہ نابالغ کمسن سڑک سے اٹھائی گئی تھی اور تیسرے دن اسکے اسلام قبول کرنے کی خبر مقامی اخبار میں چھپی تو وہ سٹپٹایا ہوا پوچھتا رہا کہ اب میرا کیس کون سی عدالت لڑے گی؟

عمرکوٹ کی کمسن وجنتی ریپ کا شکار ہوئی، اسکی دادی کل یہ کہتے کہتے رو پڑی تھی کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ بھی خاندان لیکر ہندوستان چلی جایے گی، اب ان کا دانہ پانی ختم ھوا چاھتا ہے کہ پاکستانی قوم اب مسلم امہ کا لبادہ اوڑھے اس سفر کو چل پڑی ھے، جہاں غیرمسلم پاکستانی کی شناخت کا کوئی خانہ نہیں ھے۔

آج پھر چوبیس فروری ھے ۔ کسی بااثر درگاہ و مدرسے کے بچوں پہ جوانی اترتی ھی ہوگی۔ کافرو! اپنی اپنی بچیاں سنبھالو، تمھاری بچیوں پہ الفتِ اسلام کا دور اترتا ھی ھوگا کہ پھر   سے نو مسلم لڑکیوں کی لسٹ کی تیاری ھے۔


amar sindhu80   امرسندھو ایک لکھاری، ایکٹوسٹ اور کالمنسٹ ہیں اور ہمارے سماج میں ابھی تک ان فٹ ہیں۔

اس حصے سے مزید

نواز زرداری کا ملکی سلامتی پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات، اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سینیٹر فیصل رضا عابدی سے استعفیٰ طلب

پارٹی ڈسپلن کی بار بار خلاف ورزی پر پی پی پی نے فیصل رضا عابدی سے سینیٹر شپ کا استعفی طلب کرلیا ہے۔

'وزیر اعظم آفس سے ایمرجنسی لگانے کا ریکارڈ نہیں ملا'

سابق صدرپرویزمشرف کے خلاف غداری کیس میں حکومتی وکیل نے کہاہے کہ ایمرجنسی لگانے پر وزیر اعظم کی ایڈوائس کاریکارڈ نہیں ملا


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (15)

jk67
24 فروری, 2013 09:16
ایسا لگتا ہے کہ کچھ عرصے بعد امر سندھو صاحبہ کو یہ لکھنا پڑے گا کہ ’’جہاں انسان کی شناخت کا کوئی خانہ نہیں ھے‘‘۔ ہمارے ملک میں اب یہ تصور عام ہوگیا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد انسان ہونا ضروری نہیں بلکہ جس قدر حیوانیت زیادہ ہوگی اسی قدر ایمان میں پختگی بڑھ جائے، جنونیت اور حیوانیت ہی یہاں لوگوں کو پکا مسلمان بنا رہی ہے۔
Dr:A.Qadeer Memon
24 فروری, 2013 12:58
يه وارداتين سنده مين عام جام هو رهي هين . پاکستان سنڌه مين اسلام پسند صرف لڙکيون ڪي ليي کيون هي ، هندو مرد کيون مسلمان نهين ڪيئي بنتي . يه اسلام لاني کا اسلامي طريقه نهين هي. چيف جسڻس پاکستان کا اس کيس مين انصاف الله کي خاطر نهين ، اسلام کي خاطر تها ، جو خود نا انصافي هي
Sami
24 فروری, 2013 18:30
As a Pakistani and Muslim, I am literally ashamed this is absolutely their personnel interest with the girl which I am sure not more then having Sex. This is not Islam and this is not the preaching of our Prophet. Our Prophet Declare anyone enter Islam , should enter on his own will not by force and This case, as the Girl was already under pressure and it looks like she was forced to accept Islam which gives her a chance back to go to her Parent and her Religion as per Islam without penalty or facing any Law, but these people will use other means to defame the religion and hold the girl if it occurs. I stand with my Hindu Community to give the girl back to her Parents. And strict action against these SEX culprits. We need more education, literacy, tolerance and understanding of Islam, so we can eliminate these culprits from out society.
شانزے
24 فروری, 2013 22:20
پہلے اغوا، ریپ اورپھر کلمہ، کافروں کو مسلمان کرنے اور جنت کمانے کا کتنا زبردست طریقہ ایجاد کیا ھے سندھ کے صاحب ایمان لوگوں نے! امید ھے کہ ملا کے عنایت کردھ ایمان کی اس روشنی سے ھمارا جہالت کی تاریکیوں کا سفرجاری و ساری رہے گا 
عمران
25 فروری, 2013 12:11
اور ان فٹ ہی رہی گیں
یمین الاسلام زبیری
25 فروری, 2013 15:24
اقبال نے کہا تھا: الگ ہو دیں سیا ست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی اب حال یہ ہے کہ: اگر ہو دیں سیا ست میں تو آ جاتی ہے چنگیزی
Israr Muhammad Khan
25 فروری, 2013 17:49
ایم این اے اور ایم پی اے اور وه بھی حکمران جماعت کا سندھ کی دھرتی تو امن کی دھرتی هے اس طرح کے باعث ملامت کام کرنے کا ٹیکهۂ اکیلے ان لوگوں کیوں لیا هے اس لئے تو میں عرب کے بن قاسم کو محسن نہیں ڈاکو سمجھتا هوں جنکو واپسی اس عربوں نے پھانسی دی تھی جسکا زکر همارے تاریخ میں نہیں کیاگیا
bullah
25 فروری, 2013 17:59
aik to har jaga Iqbal ko code karne kee beemari kab khatam hogee. Practically dekha jae to jab se sayasat main deen o mazhab ko shamil karne kee ahmaqana koshishain shuroo kee gaee hain tab se hee Pakistan main Mullah kee changeziyat shuroo huwee hai. yeh khood kash bombar and takfeeree madarsay and mazhabee siyasee parties kiya kar rahee hain siwaee changeziyat k.
Lateef
25 فروری, 2013 18:16
Looks like the author has no interest in what is happening now in the country. Please grow up and see Faryal's interview on YouTube for all your answers.
muhammad imran
26 فروری, 2013 17:08
one of my colleague went to Korea on a preaching arrend (tablaghi) i mockinly told him that if you can not make them Ba'amal mosalman, you would definitaly try to make them ba'hamal mosalman... this is one of an attempt to make these innocent girls ba'hamal muslims.... and as for as iqbal is concerned i think he has done as much damage as zia has done to this country..... he is that sacred cow whose falicious philosophy can not be criticized openly..... if a thorn pricks in Kabul... all the hindustan would become restless...... now they send us gunpowdered loaded muslims and opium.......
انور امجد
27 فروری, 2013 05:54
اسرار خان صاحب اسلامی تاریخ میں محمد بن قاسم کی موت کا ذکر چھپانے کی بات صحیح نہیں ہے۔ میں نے لاہور بورڈ کی تاریخ کی کتاب میں خود پڑھا ہے۔ اس زمانے میں بادشاہت تھی اور نئے خلیفہ سلیمان بن عبدالمالک نے حجاج بن یوسف کے قریبی ساتھیوں پر کافی ظلم کیا تھا اور محمد بن قاسم بھی انکے عتاب کا شکار ہوئے۔ لیکن محمد بن قاسم ڈاکو نہیں تھے۔ بلکہ وہ ان لٹیروں کو سزا دینے آئے تھے جو مکران اور سندھ کے ساحلوں سے تجارتی جہازوں اور قافلوں کو لوٹتے تھے۔ محمد بن قاسم کی کامیابی کی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں بدھ مذہب کے لوگ آباد تھے جن پر ہندو راجہ داہر بہت ظلم کرتا تھا اور انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی اور اسلام بھی قبول کیا۔ بدھ لوگوں پر ہندوستان میں بہت ظلم کیا گیا۔ یا تو ان کو مار دیا گیا یا زبردستی ہندو بنایا گیا۔ نچلی ذات کے ہندو وہی لوگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ مذہب جو شمال وسطی ہندوستان سے شروع ہوا اور اتنے عروج کو پہنچا کہ اشوک اعظم کی حکومت افغانستان سے آسام اور شمال سے جنوبی ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور آج ان کا نام و نشان ہندوستان سے تقریبا مٹ چکا ہے۔ صرف دور دراز کے پہاڑوں علاقوں میں کچھ لوگ بچ گئے ہیں۔
Jamil Khan
27 فروری, 2013 06:17
جب تک ہم نصاب کی وضع کردہ تاریخ کے حصار سے نہیں نکلیں گے، حقیقت کے اُجالے میں نہیں آسکیں گے، کم از کم ہمیں آہستہ آہستہ ملگجی اور مدھم روشنی کو تو راستہ دینا ہی ہوگا، ورنہ جب ٹیکنالوجی اس حد تک آگے چلی جائے گی کہ حق کو چھپانا ممکن ہی نہیں ہوگا تو بھی ہماری قوم جو صدیوں سے اندھیرے کی مخلوق بن چکی ہے، اچانک چندھیادینے والی روشنی سے اندھی ہوجائے گی۔ مہربانی فرماکر تھوڑے لکھے کو ہی بہت سمجھا جائے اور روشنی کا راستہ نہ روکا جائے۔
zar`
27 فروری, 2013 10:49
مسلمانوں کی جہالت تاریک گھاٹیوں سے باہر آںے کی نہیں۔کسی بھی بدکاری حرام خوری اور دو نمبری پر ہم اسلام کا غلاف چڑھانے میں ماہر ہیں۔ ہم یہ بُھول جاتے ہیں کہ ہماری منافقانہ خاموشی ہماری آنء والی نسلوں کو کسقدر غیر محفوظ کر رہی ہے بہت خوب امر سندھو۔
Haresh kumar
14 مارچ, 2013 20:09
نا راھی مسلم نا راھا ایمان تو کیا کاری پاکیستان
سلمہ اقبال
17 اکتوبر, 2013 15:07
بس اب اور کوئی رنکل کماری فریال نہ بنے کیا انسانیت سب سے بڑا مزہب نہیں ہے انسانیت کی تقسیم مزہب کے نام پر نہ کریں
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔