19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ دھماکہ: تین طلبہ ہلاک، چالیس سے زائد زخمی

اٹھارہ جون کو کوئٹہ میں دھماکہ۔ اے ایف پی فوٹو

کوئٹہ: پاکستان کے جنوب مغرب کے علاقے میں یونیورسٹی بس کے قریب ہونے والے ایک کار بم دھماکے سے چار افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے، جن میں سے زیادہ تر شیعہ طالب علم تھے۔

یہ حملہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں ہوا۔

مقامی پولیس کے سربراہ میر زبیر نے بتایا کہ امپروائز ایکسپلوسیف ڈیوائس کو سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جو کہ مقامی آئی ٹی یونیورسٹی کی بس کے قریب پھٹا۔ اس حادثے میں چار افراد ہلاک ہوئے اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے جن میں سے زیادہ تر طالب علم ہی تھے۔

انھوں نے کہا کہ حملے کا ہدف وہ بس تھی جس میں زیادہ تر شیعہ طالب علم تھے۔

میر زبیر کے مطابق دھماکے میں تین طالب علم اور ایک راہگیر ہلاک ہوا۔

اس کے علاوہ مقامی سول ہسپتال کے ڈاکٹر محمد نواز نے بتایا کہ زخمیوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیئے ملٹری ہسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

البتہ ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس حصے سے مزید

'پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو بیرونی قوتوں کی حمایت حاصل ہے'

جمیعت علمائے اسلام-ف کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ یہ قوتیں ملک کے جوہری اثاثوں پر کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔

بلوچستان: کیچ میں دھماکے سے سیکیورٹی اہلکار قتل

بلوچستان کے ضلع کیچ میں بم دھماکے سے ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا، گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

بلوچستان کے تین وزراء کے خلاف نیب کی تفتیش کا آغاز

نیب کے ڈائریکٹر سید خالد اقبال کا کہنا تھا کہ ہم تین وزراء کے خلاف کرپشن میں ملؤث ہونے کی شکایات کی تصدیق کررہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

awazepakistan
18 جون, 2012 10:18
دہشتگردوں نے ہمارے پیارے وطن کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔ خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں کا خون بے دریغ بہایا جا رہا ہے اور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے. ......................................................................................... تازہ بلاگ : سوارہ غیر اسلامی و غیر قانونی ہے http://www.awazepakistan.wordpress.com
Amir Nawaz Khan
22 جون, 2012 10:17
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائین صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہین۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) طالبان ،لشکر جھنگوی اور القائدہ ملکر پاکستان بھر مین دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں۔گلگت میں فرقہ ورانہ فسادات جاری ہیں۔ سنی اور شیعہ ایک ہی لڑی کے موتی ہیں ،ان کے درمیاں لڑائی اور ایک دوسرے کا خون بہانا درست نہ ہے۔ فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔اس وقت مذہب کے نام پربے شمارجماعتیں ہیں بہت سی ایک دوسرے کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہی فرقہ پرستی ہے جس نے جنت نظیر گلگت کو خون آلود جہنم بنا دیا۔ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہین۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔
Shoot out at BMC | Changezi.net
02 اگست, 2013 14:15
[…] 2012میں جب بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی … […]
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔