30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن: ملک تاریکی میں ڈوب گیا

بجلی نہ ہونے کے باعث ایک ہجام موم بتی کی روشنی میں بال کاٹنے پر مجبور ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی۔۔۔

کراچی: نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے سسٹم میں خرابی کے باعث راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور نصف سے زائد ملک تاریکی میں ڈوب گیا۔

ڈان نیوز ٹی وی کے مطابق نیشنل پاور کنٹرول سسٹم میں خرابی کے باعث کراچی، لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، کوئٹہ، پشاور اور دیگر چھوٹے بڑے شہر تاریکی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ منگلا اور تربیلا پاور ہاؤس بھی ٹرپ کر گئے ہیں۔

نیشنل گرڈ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بارہ سو میگا واٹ کے پلانٹ میں خرابی کی وجہ سے پانچ سو کے وی کی بیشتر لائنیں بند ہو گئی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ فنی خرابی کو جلد سےجلد ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزارت پانی و بجلی کے حکام کے مطابق حب کو پور پلانٹ کا1200 میگا واٹ بجلی کی فراہمی کا سسٹم ٹرپ کر گیا تھا۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ افسران تکنیکی خرابی کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ حبکو پاور پلانٹ کی خرابی کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھیک کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تمام شہروں میں بجلی بحال کرنے میں چند گھنٹے لگیں گے۔

آئیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بجلی بحالی میں دو سے ڈھائی گھنٹے لگیں گے۔

بجلی کے بریک ڈاؤن سے کراچی میں 36 گرڈ اسٹیشن ٹرپ کر گئے ہیں اور شہر کا 70 فیصد سے زائد حصہ تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔

شہر قائد کے متاثرہ علاقوں میں نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، نیو کراچی، نارتھ کراچی، گلستان جوہر، سلطان آباد، گلشن معمار، ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلشن اقبال، سہراب گوٹھ، پی آئی بی کالونی، تین ہٹی، لی مارکیٹ، ڈیفنس، ملیر اور شاہ فیصل کالونی سمیت کئی علاقے شامل ہیں جبکہ کراچی ایئرپورٹ بھی اندھیرے میں ڈوب گیا۔

کے ای ایس سی حکام کے مطابق ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اسے درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بجلی کے بریک ڈاؤن سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد شہروں کو بھی بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

مزید براں جامشورو اور گڈو تھرمل پاور میں  فنی خرابی کے باعث حیدرآباد، سکھر، دادو، خیرپور، جامشورو، گھوٹکی سمیت کئی شہر اور اضلاع تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سولہ اضلاع بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوب گئے۔

کیسکو حکام کے مطابق اب تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ٹرانسمیشن لائن میں کوئی تکنیکی خرابی آئی ہے یا پھر ٹرانسمیشن لائن کو ماضی کی طرح بم دھماکوں سےاڑایا گیا۔

کیسکو حکام کے مطابق اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ٹرانسمینش لائن میں کہاں خرابی آئی ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بریک ڈاؤن کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم اس معاملے کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور انہوں نے ہدایت کی ہے کہ جلد از جلد بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اس حصے سے مزید

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

الطاف حسین کا بھی ٹیکنو کریٹ حکومت بنانے کا مطالبہ

ایم کیوایم کےقائد نےمطالبہ کرتےہوئے کہاہےکہ آئینی طریقہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ غیرآئینی طریقہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

طویل بریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی بحالی شروع – PKNewstimes
25 فروری, 2013 06:42
[...] گیارہ بجکر پینتالیس منٹ پر ملک کے مختلف علاقوں میں بریک ڈاؤن شروع [...]
Israr Muhammad Khan
26 فروری, 2013 18:26
بجلی کے اس سے بریک ڈاؤن کے عادی هم تو گزشتہ 11سال سے هیں همارے ضلع صوابی میں جہاں تربیلا ڈیم بھی هے 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ معمول کی بات هے اس وجہ سے هم کو تو فرق محسوس نہیں هوا اس لئے تبصرۂ نہیں کرونگا البتہ هماری فریاد اگر کسی کو جائز لگے تو تبصرہ اور مدد کا طلب گآر هوں
Israr Muhammad Khan
27 فروری, 2013 13:41
ملک میں گزشتہ دنوں بجلی کا جو بریک ڈاؤن هوا هم صوابی‎ ‎‏(جہاں تربیلۂ ڈیم هے) کے لوگ گزشتہ 10/12سال سے اسطرح کے بریک ڈاؤن کے لوڈشیڈنگ کی صورت میں عادی هوچکے هیں 20/22گھنٹے لوڈشیڈنگ تو عام بات هےاس وجہ سے همیں بریک ڈاؤن کا معلوم هی نہیں تھا اخبار سے معلوم هوا 2008کے‎ ‎انتخابات میں همارے ساتھ وعدہ هوا تھا که هم بجلی کاسوئچ یہاں لیکر آئنگے اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرینگے اور مفت بجلی کا بھی ذکر هوا تھا مگر وه وعدہ صرف وعدہ تھا پانچ سال حکومت کرنے بعد اب اس وعدہ کی تجدید هوگی اور شاید آئندہ یه لوگ وه"وعدہ" پورا کرسکیں‎ ‎‏"همارے پشتو کے ایک شعر کا مطلب هے که تم نے بهار لانے کا وعدہ کیا تھا مگر‎ ‎تم نه بہار لے آئے نۂ پھول تم جھوٹے تم جھوٹے هو"؟‎ ‎ویسے بھی ملک میں دهرنوں کا‎ ‎رواج نکل آیا هےهو سکتا هےکۂ هم بھی کسی دن صوابی کو لوڈشیڈنگ سے نجات کیلئے دھرنا دیں
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔