17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

فوزیہ وہاب کو سپردِ خاک کردیا گیا

فوزیہ وہاب گزشتہ تین ہفتوں سے علیل تھیں۔ فائل تصویر

کراچی: یپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب کی نماز جنازہ ڈیفنس میں واقع سلطان مسجد میں ادا کردی گئی۔

نماز جنازہ میں وفاقی و صوبائی وزرا سمیت پی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
نمازجنازہ میں وزیراعلی قائم علی شاہ، مشیرداخلہ رحمان ملک، اسپیکرسندھ اسمبلی نثارکھوڑو،ایم کیوایم کے ارکان وفاقی و صوبائی وزراء، ارکان اسمبلی، ایم کیو ایم کے رہنماؤں بابر خان غوری، رضا ہارون اور  دیگر سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نمازجنازہ کے بعد فوزیہ وہاب کو گزری کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب کے انتقال پر پیپلزپارٹی ، اے این پی  اور متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان سندھ اسمبلی نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے ۔

اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر ندیم بھٹو نے فوزیہ وہاب کو کارکنان کے لئے یونیورسٹی قرار دیا ۔

متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی وزیر محمد زبیر نے کہا کہ فوزیہ وہاب صرف پیپلزپارٹی ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے قابل احترام تھیں ۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی فوزیہ وہاب کو تمام ارکان اسمبلی نے زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

فوزیہ وہاب کوچوبیس مئی کوتشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ جہاں انکے کئی آپریشن ہوئے۔ تاہم وہ مکمل طورپر صحتیاب نہ ہوسکیں۔

اس حصے سے مزید

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟